• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوکت ترین مہنگائی کو بڑا چیلنج کہہ رہے تھے آج دفاع کرر ہے ہیں، تجزیہ کار


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان سارہ الیاس کے پہلے سوال کہ کیا وزیر خزانہ کی جانب سے مہنگائی کا دفاع جائز ہے؟ کے جواب میں تجزیہ کاروں نے کہا کہ شوکت ترین مہنگائی کو سب سے بڑا چیلنج قرار دے رہے تھے اور آج مہنگائی کا دفاع فرمار ہے ہیں۔

عمران خان کی کابینہ کے لوگ کہیں نہیں جائیں گے اس لئے آدھی کابینہ تو اگلی حکومت میں شامل ہوگی۔ تجزیہ کارارشاد بھٹی نے کہا کہ اب تو یقین ہونے لگا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہے جو بھی اقتدار میں آتا ہے زمینی حقائق سے کٹ جاتا ہے عوامی دکھ اور درد سے دور ہوجاتا ہے۔

یہی شوکت عزیز اقتدار میں آنے سے ایک ہفتہ قبل تک فرما رہے تھے کہ حکومتی پالیسیوں نے معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا ہے عوام برے حال میں ہیں مہنگائی کو سب سے بڑا چیلنج قرار دے رہے تھے اور آج مہنگائی کا دفاع فرمار ہے ہیں۔آئی ایم ایف سے ایسا معاہدہ کیوں کیاجس میں ان کو باندھ دیا گیا عوام کو اب اور کتنا نچوڑنا ہے۔

کیا مہنگائی بڑھنے میں حکومتی نا اہلی اور نالائقی شامل نہیں ہے ۔ عمران خان مان رہے ہیں کہ مہنگائی ہے اور ہمارا سب سے بڑا چیلنج ہے اور شوکت ترین دفاع فرمار ہے ہیں۔اگر ایک سال میں مہنگائی پر قابو پا لیا تو عمران خان حکومت کے لئے ٹھیک ہوگا ورنہ شوکت ترین بریف کیس لے کر روانہ ہوجائیں گے اورعمران خان کو آئندہ انتخابات میں نتائج بھگتنا ہوں گے۔ 

تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ شوکت ترین اور عمران خان کی کابینہ کے لوگ کہیں نہیں جائیں گے اس لئے آدھی کابینہ تو اگلی حکومت میں شامل ہوگی کیونکہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔

انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ مہنگائی کیوں ہوئی اور اس کے کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات کیا کئے گئے۔جس دن اس ملک کے حکمران او رسیاستدان پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا شروع کردیں گے اور ڈیپارٹمنٹل اسٹورز میں قطاریں لگا کر چیزیں خریدنا شروع کردیں گے اس دن مہنگائی کنٹرول ہوجائے گی۔ 

شوکت ترین کا بیان شرمناک ہے ان کو شرم بھی آنی چاہئے اور شرمندگی بھی ہونی چاہئے۔ تجزیہ کارحفیظ اللّٰہ نیازی نےکہا کہ اس حکومت کا مجھے یقین نہیں آتا کہ کوئی ایک جگہ ہو جہاں پر کوئی یکساں صورتحال نظر آئے،اگر معیشت بہتر تھی تو حفیظ شیخ کو کیوں فارغ کیا گیا۔

تجزیہ کارمحمل سرفرازنے کہا کہ جو دفاع کیا ہے وہ بالکل صحیح نہیں ہے سارے وزرا بشمول شوکت ترین یہ کہتے ہیں کہ ہماری مصنوعات کی قیمتیں دنیا بھر سے کم ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ یہ کہتے ہیں کی معیشت اوور ہیٹ ہورہی ہے ہمیں اشیا کی قیمتیں کم کرنی ہیں۔

دوسرے سوال کے جنسی ہراسانی کے مقدمات کی رپورٹنگ کی شرح میں300فیصد تک اضافہ ، وجہ کیا ہے؟ کے جواب میں تجزیہ کارمحمل سرفرازنے کہا کہ 300فیصد اضافہ جو ہوا ہے یہ بھی کم ہے کیونکہ بہت سے ایسے کیسز ہوں گے جو رپورٹ نہیں ہورہے جو وجہ سامنے آئی ہے پولیس والوں نے بتایا ہے کہ جب آگاہی پیدا ہوتی ہے تو خواتین ان معاملات پر بولتی ہیں۔

ابھی بھی ہمارا معاشرہ بدقسمتی سے ایسا ہے کہ جب خواتین جنسی ہراسگی کے اوپر بولتی ہیں تو ان کو جھوٹا کہا جاتا ہے جب وہ کہتی ہیں کہ ہم اپنے آپ کو یہاں غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں تو کہاجاتا ہے کہ یہ ملک کو خواتین کے لئے بہت محفوظ ہے اور عورتوں کی بہت عزت کی جاتی ہے۔میڈیا کو اس کے اوپر آواز اٹھاتے رہنا چاہئے ۔

تجزیہ کارارشاد بھٹی نےکہا کہ بقول پولیس کچھ ہراسانی کے واقعات کی جھوٹی رپورٹنگ بھی ہوتی ہوگی پہلے میڈیا اتنا متحرک نہیں تھا اتنی آگاہی نہیں تھی اس لئے اب اتنے زیادہ مقدمات آنے لگ گئے ہیں مگر جنسی ہراسانی اور ریپ کیسز زیادہ ہوگئے ہیں اس کی وجہ جزا سزا کا نہ ہونا ہے حکومتی رٹ اور حکومتی اداروں کو خوف ذہن سے ختم ہوگیا ہے ۔ 

جب تک مقررہ وقت کے اندر مجرموں کو سزائیں نہیں ملیں گی سر عام پھانسیاں نہیں دی جائیں گی اور ریپ کے مجرموں کو نامرد نہیں بنایا جائے گاتب تک یہ واقعات ہوتے رہیں گے اور ہم روتے رہیں گے۔ 

تجزیہ کارحفیظ اللّٰہ نیازی نے کہا کہ میرے لئے بہت تشویشناک بات ہے کہ رپورٹنگ میں300فیصد اضافہ ہوا ہے معاشرتی بگاڑ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ ہم جس سوسائٹی میں رہ رہے ہیں وہاں کوئی خاتون مقدمہ جیت کر بھی آجائے توبھی معاشرہ اسے مشکل سے تسلیم کرتا ہے ۔

میڈیا کی حد تک بھی ان چیزوں کو بہت حد تک دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیسے رپورٹ کیا جائے ۔ایسے حالات کے باوجود بھی خواتین کا جاکر رپورٹ کروانا ایک اچھی بات ہے۔

اہم خبریں سے مزید