• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک بیوی نے اپنے شوہر سے پوچھا ! ہم اگلے دو مہینوں میں ماں باپ بننے والے ہیں، اگر بیٹا ہوا، تو کیا منصوبہ ہوگا؟

شوہر نے جواب دیا ! میں اس کو زندگی کی تمام ،زندگی گزارنے کی گُر بتاؤں گا، ساتھ روایات سکھاؤں گا، لوگوں کی عزت کرنا سکھاؤں گا۔

بیوی نے پھر پوچھا:

اگر بیٹی ہوئی تو؟

شوہر نے جواب دیا:-

میں اسے کچھ نہیں سکھاؤں گا، بلکہ میں اس سے خود سیکھوں گا۔مثلاً میں اس سے غیرمشروط محبت سیکھوں گا، میری بیٹی یہ کوشش کرے گی کہ وہ اپنے ایک مخصوص زاویہ نگاہ سے مجھ پر توجہ مرکوز رکھے۔

بالوں کی کنگھی کرنے سے لے کرڈریسنگ تک، ابتداءِ گفتگو سے لیکر انتہاءِ گفتگو تک، نیز وہ میرے ہر کام کو اپنی زاویہ نظر سے کرتے۔ وہ میرے لیے دوسروں سے لڑے گی، مباحثہ کرے گی، اس کی خوشی اور غم میری طبیعت پہ منحصر ہوں گے۔

بیوی نے پھر پوچھا !

کیا بیٹا یہ سب کچھ نہیں سکھائے گا آپ کو؟

شوہر نے جواب دیا !

بیٹے میں یہ ساری خصوصیات پیدا کی جاتی ، لیکن بیٹی ان خصوصیات کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔

بیوی نے پوچھا !

لیکن بیٹی تو ہمارے ساتھ ہمیشہ نہیں رہے گی؟

شوہر نے جواب دیا !

بیٹی ہمارے ساتھ جسمانی طور پر نہیں رہے گی، لیکن روحانی طور پر وہ ہر لمحہ ہمارے ساتھ ہوگی۔ شوہر نے اپنی بات یہ کہہ کر ختم کی کہ بیٹی کے ساتھ بندھن ختم نہیں ہوتا، لیکن بیٹا زندگی کے کسی بھی موڑ پہ ہمیں چھوڑ سکتا ہے۔ شوہر کی بات سن کر بیوی اُسے دیکھتی رہی ،سوچتی رہی اور پھر خاموش ہوگئی ۔اُسے اندازہ ہوگیا تھا کہ شوہر جو کہہ رہا ہے ،وہ سچ ہے۔