• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہباز اور حمزہ کی عبوری ضمانت میں 9 اکتوبر تک توسیع


لاہور کی بینکنگ جرائم کورٹ نے ایف آئی اے کے مالیاتی اسکینڈل کے مقدمے میں مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں محمد شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے مسلم لیگ نون کے نائب صدر اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 9 اکتوبر تک توسیع کر دی۔

دورانِ سماعت ایف آئی اے کے سینئر افسر ڈاکٹر رضوان پیش ہوئے جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ 2020ء میں شوگر کمیشن بنا اور پتہ چلا کہ شوگر ملیں فراڈ میں ملوث ہیں، ایف آئی اے کو پتہ چلا کہ معاشی طور پر کمزور لوگوں کے نام پر اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔

ڈاکٹر رضوان نے بتایا کہ ایسے ظاہر کیا جاتا تھا کہ جیسے یہ لین دین کے پیسے ہیں، ان لوگوں کو اس پیسے کا معلوم بھی نہیں ہوتا تھا، 20 ملازمین کے 57 اکاؤنٹس کا ایف آئی اے پتہ لگا چکی ہے، جبکہ 55 ہزار 498 ٹرانزیکشنز کو ایف آئی اے دیکھ رہی ہے۔

بینکنگ کورٹ کےجج نے استفسار کیا کہ تفتیش کب تک مکمل کریں گے؟

ڈاکٹر رضوان نے جواب دیا کہ ہم ابھی چالان داخل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، ملزمان تفتیش میں تعاون نہیں کر رہے، یہ عام نوعیت کا کیس نہیں ہے۔

جج سے اجازت لے کر شہباز شریف روسٹرم پر آگئے جنہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اتنے سینئر افسر جھوٹ بول رہے ہیں، میں اس شوگر مل کا ڈائریکٹر ہوں نہ تنخواہ لیتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میرے وکیل نے ایف آئی اے کو مناسب جواب بھجوا دیا ہے، یہ نیب کے کیس کی کاپی ہے، میں نے تو خاندان کی شوگر مل کو نقصان پہنچایا۔

شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ میں نے بطور وزیرِ اعلیٰ شوگر ملوں کو فائدہ دینے سے انکار کیا، ایف آئی اے نے جس دن مجھے بلایا اس دن بد تمیزی کی گئی، کیا یہ ہے وہ تفتیش جس کی ایف آئی اے بات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شوگر ملز ایسوسی ایشنز کے دباؤ میں نہیں آیا، کسانوں کو نقصان نہیں ہونے دیا، اللّٰہ کی قسم، دورانِ تفتیش ایف آئی اے افسران ایک آدمی پر چلاتے رہے، مجھ سے بات نہیں کی، مجھے ایف آئی اے کے دفتر میں بٹھائے رکھا گیا۔

ایف آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایک نجی بینک کے 2 افسران کی ملی بھگت سے اکاؤنٹس بنائے گئے، بینک بھی تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے، یہ کیس انتہائی پیچیدہ ہے، بینکوں اور ملزمان کو تحقیقات میں تعاون کا واضح حکم دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بینکرز پر دباؤ ہے اور وہ منی لانڈرنگ کے خلاف تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار نہیں ہیں، نجی بینک کے ایک افسر کے موبائل سے بینکرز پر دباؤ ڈالنے کے وائس میسیجز ملے ہیں۔

اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں، مجھے بولنے کی اجازت دی جائے۔

جج نے شہباز شریف کو جواب دیا کہ آپ کو اب بولنے کی اجازت نہیں، آپ کو ایک بار سن لیا، اب آپ خاموش رہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ خدا کی قسم میں بینک والوں کو جانتا تک نہیں، میں کیا دباؤ ڈالوں گا؟

بینکنگ عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں 9 اکتوبر تک توسیع کر دی۔

قومی خبریں سے مزید