• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی شہر کیلئے ’’کورونا‘‘ کوئی پہلی وبا نہیں

کراچی شہر کے لئے ’کورونا‘کوئی نئی آفت نہیں ، اس سے پہلے بھی اٹھاریں اور انیسویں صدی کے دوران کراچی طاعون اور ہیضے کی وباؤں کا شکار رہا ہے ۔ 1839 میں انگریزوں نے کراچی پر تسلط کے بعد موجودہ عیدگاہ میدان ایم اے جناح روڈ کے نزدیک عارضی رہائشی کیمپ قائم کیا تھا ۔ برطانوی فوجیوں کو کراچی کی آب و ہوا راس نہیں آئی تھی ،جس کی وجہ سے وہ ہیضے کی مہلک بیماری کا شکار ہونے لگے تھے۔ 1846 میں اس وبا نے ایسی شدت اختیار کی کہ سات ہزار سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ اس آفت سے بچنے کے لئے کراچی کے باشندے شہر چھوڑ کر مضافاتی علاقوں اور کھلے میدانوں میں منتقل ہونے لگے ۔ 

لقمہ اجل بننے والوں میں ملکہ برطانیہ کی 62 وین رجمنٹ کے کیپٹن اور سر چارلس نیپئر کے ملٹری سیکریٹری کیپٹن جان موران کی بہن سارا بھی شامل تھی۔ وبا سے مرنے والوں کو مولوی مسافر خانہ بندرروڈ سے ملحقہ عیسائی قبرستان، (جہاں اب دنوں اقبال سینٹر واقع ہے) اور صدر کے علاقے میں واقع کانوینٹ اسکول کی دیوار سے ملحقہ ایک قبرستان میں دفن کیا گیا تھا ملکہ برطانیہ کی 22 ویںرجمنٹ کے ان سپاہیوں کی یاد میں 1849 میں ہولی ٹرینٹی چرچ میں ایک یادگار تعمیر کرائی گئی تھی ،جس پر یہ تحریر کندہ ہے کہ یہ سپاہی 1842.43 سندھ میں اپنے پہلے دورے کے دوران ناسازگار موسم کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے، اس تاریخی یادگار کے چاروں کونوں پر چار توپیں اور ایک کتبہ نصب کیا گیا تھا۔ 

یہ کتبہ اب بھی موجود ہے، تاہم توپوں کی جگہ اب ان کے نشان باقی رہ گئے ہیں برطانوی راج کے دوران کراچی میں ملیریا ، قے ،دست، آشوب چشم، چیچک اور جلدی بیماریاں بھی عام تھیں ۔کراچی کی انتظامیہ نے طاعون کی وبا سے نمٹنے کے لئے لیاری ، رنچھوڑ لائن ،رام باغ، سول لائین اور پرانے حاجی کیمپ کے مقام پر قرنطینہ کیمپ قائم کئے تھے۔ اُس وقت طاعون سےمتاثرہ افراد کو صحت مند افراد سے دور رکھا جاتا تھا شہریوں کو اس مہلک مرض سے آگہی کے لئے تدابیر انسداد طاعون پمفلٹ بھی جاری کیا گیا اورکمیٹی قائم کی تھی جس کا کام مریضوں کی دیکھ بھال کرنا ،قرنطینہ کیمپ میں مریضوں کو لکڑی کے ٹبوں میں پانی گرم کرکے غسل دینے کے انتظامات کے ساتھ یا جاتا تھا اور انھیں ادویات دی جاتی تھیں۔ کراچی کے گنجان آباد علاقے 1897 تک اس مہلک بیماری کی لپیٹ میں رہے ۔

1896 میں کراچی میں ایک بار پھرطاعون کی وبا پھوٹ پڑی تھی ۔ جو کلکتہ سے کراچی آنے والے بحری جہاز سے نکل کر شہر میں داخل ہونے والے چوہوں اور پسووں کی وجہ سے پھیلی تھی ۔ کہا گیا بیماری پھیلنے کی بنیادی وجہ شہر میں جابجا گندگی اور غلاظت کے ڈھیر تھے ۔ جہاز سے نکل کر بھاگنے والے چوہوں کو گندگی اور غلاظت کے ڈھیروں پر کھانے کے لئے کافی خوراک مل گئی تھی ، اس طرح یہ چوہے آہستہ آہستہ گھروں میں داخل ہوگئے ۔ صورت حال یہ ہوگئی تھی کہ باپ بیٹے سے اور بھائی بھائی سے دور ہوتاگیا ، شام کو شہر سنسان ہوجاتا تھا۔ بازار اور دکانیں بند ہوجاتی تھیں۔ شہری طاعون کی وبا اور فاقوں سے مرنے لگے تھے، سو سے سوا سو اموات یومیہ ہورہی تھیں ۔ مرنے والے شخص کے گھر کا سامان جلادیا جاتا اورگھروں کوجراثیم سے پاک کرنے کے لئے گندھک کی دھونی دی جاتی تھی ۔

لوگ اس درجہ خوفزدہ ہوگئےتھے کہ اپنے مردوں کو چھوڑ کر گھر سے بھاگ جاتے تھے ۔ کراچی کی انتظامیہ نے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کردی تھی اور داخلے کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ جاری کیا جاتا تھا ۔ طبی ماہرین نے پسووں سے پھیلنے والی بیماری کوانتہائی خطرناک اور جان لیوا قرار دیا ۔ اس بیماری کو گلٹی دارزخم کہا جاتا تھا ۔ برطانوی ڈاکٹروں اور دیسی طریقہ سے علاج کرنے والے ہندو اور مسلمان ڈاکٹروں نے اس مہلک بیماری پر قابو پانے کے لئے بعض اہم اقدامات کئے تھے ۔ شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں اور عمارتوں پر جراثیم کش سپرے کی ایک مہم بھی چلائی گئی تھی ۔

آخر کار1900 میں طاعوں کی مہلک بیماری پر قابو پالیا گیا اور اس وبائی بیماری کے بعد کراچی میں صحت و صفائی پرخصوصی توجہ دی گئی اور باقاعدہ سیوریج سسٹم کی بنیاد ڈالی گئی ۔

کراچی میں چیچک بھی پھیلی اس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ یہ بیماری دوسرے شہروں سے آنے والوں نے پھیلائی تھی ۔شہرکی ڈسپینسریوں میں اوسط 100 مریض یومیہ علاج معالجہ کے لئے آتے تھے۔ 1887.88کے دوران کراچی کے ایک مخیر پارسی ایڈلجی ڈنشا نے صدر، بندر روڈ اور لیاری کوارٹرز میں علاج معالجہ کے لئے ڈسپنسریاں قائم کی تھیں ۔

قیام پاکستان کے بعد بھی کراچی کو کئی بارمہلک وباؤں کا سامنا کرنا پڑا۔ 1957 میں انفو لینزا اور ڈائریا کی وبا نے شہریوں کوخوف میں مبتلا کردیا تھا تین سال قبل یعنی 2017میں پراسرار بیماری چکن گونیا نے کراچی کا رخ کیا تھا ، جو ایک مچھر سے پیدا ہونے والی وائرل بیماری ہے ، اور پہلی بار 1952 میں جنوبی تنزانیہ میں پھیلنے کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی۔ کراچی میں تقریبا 20ہزار سے زائد افراد اس سے متاثر ہوئے تھے، جبکہ ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

2019 میں کانگو وائرس نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لیا ۔اس وباکے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک کیڑے کی شکل میں جو بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور او نٹ کی جلد پر پایا جاتا ہےاور جانور کی کھال سے چپک کر خون چوستا رہتا ہے۔ انسانوں میں یہ بیماری کانگوکیڑے کے کاٹنے یا متاثرہ جانورکو ذبح کرتے ہوئے منتقل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا ۔ وائرس انسانی جسم میں داخل ہوکر تیزی سے سرایت کرجاتا ، جس کے باعث متاثرہ شخص کے پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں بعد ازاں جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور مریض موت کے منہ میں چلاجاتا ہے۔ گذشتہ سال کانگو وائرس کے نتیجے میں 16 اموات ہوئی تھیں جب کہ 41 مریضوں میں کانگو بخار کی تصدیق کی گئی تھی، ۔ اب کرونا وائرس نے کراچی سمیت پورے ملک ہی نہیں دنیا بھر میں خوف و ہراس پھیلایا ہوا ہے۔