• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منفی کردار کی وجہ سے کیریئر زوال کی طرف گیا، اداکار رنجیت

سینئر بھارتی اداکار رنجیت بیدی نے کہا ہے کہ انہیں فلموں میں جبری زیادتی کے اسپشلسٹ کے طور پر برانڈ کیا گیا لیکن وہ اپنے ساتھ کام کرنے والی خواتین اداکاراؤں سے ہمیشہ مکمل عزت و احترام سے پیش آئے اور انہیں کبھی اس حوالے سے کوئی شکایت کا موقع نہیں دیا۔ 

ایک بھارتی میڈیا ادارے کو انٹرویو میں 79 سالہ رنجیت بیدی نے بتایا کہ کس طرح 1970 کے عشرے میں بالی ووڈ میں ان کے بارے میں ریپسٹ کا تصور راسخ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسی سبب انکا کیریئر عروج کے بجائے زوال کی طرف گیا۔ 

دو سو سے زیادہ فلموں میں کام کرنے والے جہاندیدہ رنجیت بیدی نے کہا کہ وہ فلموں کا اسکرپٹ دیکھے بغیر اسے سائن کرلیا کرتے تھے، اس زمانے میں لوگ فلموں کے کنٹریکٹ سائن کرنے سے پہلے اس کی کہانی سنا نہیں کرتے تھے، یہاں تک کے ہیروں کو بھی صرف ایک دو لائن بتائی جاتی تھی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ میری طرح کے اداکار تو یہ سمجھا کرتے تھے کہ فلمساز اگر ہماری جانب آرہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کردار کے لیے فٹ ہیں اور نہ ہی کبھی میں نے کسی کے بھی اسکرپٹ میں مداخلت کی اور نہ اس کی ضرورت محسوس کی۔

انہوں نے بتایا کہ ولن کا رول کرتے ہوئے کبھی کوئی مسئلہ درپیش نہ ہوا، ہاں یہ ضرور تھا کہ سماجی طور پر اس کا ردِعمل یا اثرات نظر آتے تھے، پہلے تو میرے خاندان کے لوگ بھی شاکی رہے، لیکن پھر انھوں نے بھی اسے میرے کام  کا حصہ سمجھ لیا، میں نے کبھی اپنی کیریئر پلاننگ نہ کی بس جو کچھ کہا گیا اسی طرح اپنے آپ کو بنالیا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید