• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
رابطہ....مریم فیصل
کرکٹ پاکستانیوں کے لئے صرف کھیل نہیں بلکہ ایک جنون اور کیفیت کا نام ہے جس کے آغاز سے اختتام تک پاکستانی قوم سانس روکے اس کھیل کے ہر لحمے کو بغور دیکھتی ہے،سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کتنی حساس ہے ہماری قوم اس کھیل کے لئے اور سوچئے کھیل کے دن کا اعلان ہوچکا ہو اور ٹاس سے پہلے ہی کھیل کو ختم کر دیا جائے تو ہماری قوم کے احساسات جذبات کس بلندی پر ہوں گے، غم و غصے کی انتہا تو ہوگی لیکن اب کی بار بات صرف جذبات اور احساس کی نہیں بلکہ ملک کی عزت کی بھی ہے کہ ٹیم آکر بھی نہیں کھیلی الٹا یہ بھی کہہ دیا کہ خطرہ ہے ، غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کھیل کے دن ہی خطرے کا پتا کیوں چلا ،فائیو آئیز نامی ادارہ کوئی نابالغوں کا بنایا ہوا ادارہ تو ہے نہیں کہ انھیں پتا ہی نہیں چلا اور خطرہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کے سر پر پہنچ گیا ، یہ مضبوط ملکوں کا بنایا ہوا ایسا معاہدہ ہے جس کے تحت انگریزی بولنے والے پانچ جمہوری ممالک کے مابین انٹیلی جنس شیئرنگ کے معاملات طے پاتے ہیں ۔،اس معاہدہ کی مدد سے معاہدے کے شرکاء کسی بھی دوسرے فریق کو درپیش خطرہ کی معلومات فراہم کرتے ہیں اور اسی معاہدے کی وجہ سے نیوزی لینڈ کی ٹیم کو پاکستان میں دوچار خطرے کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا جس کے بعد نہ صرف ٹیم نے کھیل منسوخ کردیا بلکہ فورا سے پیشتر پاکستان سے روانگی اختیار کر کے دنیا کے لئے ایک بار پھر پاکستان کی جانب انگلیاں اٹھانے کا موقع فراہم کردیا۔ کیونکہ اس کے فورا بعد برطانیہ نے بھی آئندہ ماہ ہونے والے دورہ پاکستان کو منسوخ کرنے میں دیر نہیں کی ۔ ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں بھی اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ سیاست کی دنیا میں بہت ہلچل ہے جس میں پاکستان بھی زیر گردش ہے کیونکہ معاملہ چاہے نیوزی لینڈ کی ٹیم کا ہو یا برطانیہ کی، یہ تمام تانے بانے ارجنٹائن سے معاہدے سے جاکر ملتے ہیں اور افغانستان سے پھر پاکستان کی چین سے دوستی تو ویسے بھی کئی آنکھوں میں چبھتی ہے ۔اس لئے ان سب باتوں کو دیکھتے ہوئے کرکٹ ٹیموں کے پاکستان کا دورہ منسوخ کرنے پر زیادہ حیرت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ جب بھی کوئی ترقی پذیر ملک اپنے بل پر کھڑا ہونا چاہتا ہے تو اسے کئی مخالفین کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اسے اپنے پیروں پر جمنے کی کوششیں کرنے کی سزا دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ اس لئے ان معاملات پر بحث کرتے رہنے کے بجائے آگے کے معاملات کو دیکھنا ہوگا جن میں سب سے اہم یقینا پاکستان میں کی جانے والی کورونا ویکسین اور اس سے بھی اوپر پاکستانی سرٹیفیکٹس کی ہے ۔ اس بارے میں عمران خان کی حکومت کو بہت کام کرنا ہوگا کہ وہاں دستاویزات کا نظام جعل سازی سے پاک ہو ۔ کیونکہ پیارے وطن میں جعلی سر ٹیفیکٹ سے لے کر جعلی پاسپورٹ تک بنوانا کوئی مشکل بات نہیں اور برطانوی حکومت کا پاکستان کی حکومت سے مطالبہ ہی سرٹیفکیٹس کی صداقت کا یقین دلانا ہے اور اس کے لیے مذکورہ ادارے میں باقاعدہ نظام لانا ہے ورنہ پھر ایسی خبریں تو سننے کوملیں گی ہی کہ سابق پاکستانی وزیر اعظم کی کورونا ویکسی نیشن برطانیہ میں رہتے ہوئے بھی پاکستان میں کردی گئی اور ایسی خبریں مادر وطن کے لئے شکوک و شہبات میں اضافے کاباعث بنتی رہیں گی۔
یورپ سے سے مزید