• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا مصنوعی ذہانت انسانوں کی جگہ لے سکتی ہے؟

صنعتی ترقی کی ایک طویل تاریخ ہے، اور اس کے ساتھ ہر دور میں آٹومیشن میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آٹومیشن کا آغا ز پہلے صنعتی انقلاب کے ساتھ ہی ہوگیا تھا اور تب سے لے کر اب تک مختلف کاموں کے لیے مشینیں، انسانوں کی جگہ لیتی رہی ہیں۔ سب سے پہلے آٹومیشن زراعت اور حرفت کے شعبوں میں متعارف کروائی گئی تھی، جیسے ہاتھ سے بُنائی، پھر بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ اور حالیہ عشروں میں کئی دفتری کام اب مشینوں کے ذریعے ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

ٹیکنالوجی کی ترقی سے جیسے جیسے اضافی آمدنی حاصل ہوتی ہے، وہ آمدنی معیشت میں شامل ہونے سے ، نئی نوکریوں کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری وساری ہے، جس کے نتیجے میں ہنرمند اور تعلیم یافتہ افراد کو روزگار اور آمدنی کے نئے وسائل ہر دور میں میسر آتے رہتے ہیں۔ 

تاہم، کہا جاتا ہے کہ چوتھا صنعتی انقلاب ماضی کے صنعتی انقلابوں سے قدرے مختلف ثابت ہوسکتا ہے، جہاں اسمارٹ مشینوں کی نئی نسل، مصنوعی ذہانت (AI)اور روبوٹکس میں ناقابل یقین ترقی کے ساتھ ملکر، انسانوں سے ان کے کرنے کے کئی کام چھین سکتی ہے۔ ہرچند کہ، ماضی کی طرح آٹومیشن کی نئی لہر کے نتیجے میں بھی نئی نوکریاں پیدا ہوں گی، تاہم یہ تعداد شاید اتنی نہ ہو، جتنی کہ اس کے نتیجے میں بے روزگاری پیدا ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ناصرف اسمارٹ مشینوں کی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ ان کی کارکردگی میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

اس دلیل میں کسی حد تک سچائی ضرور ہے، کیونکہ ایک تحقیق کے مطابق 2030ء تک OECDخطے میں 30فی صد موجودہ نوکریاں بڑھتی ہوئی آٹومیشن کے باعث خطرے کی زد میں آجائیں گی۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پورا سچ نہیں ہے۔ صرف اس لیے کہ ایک کام میں یہ گنجائش موجود ہے کہ اس میں آٹومیشن لائی جائے، ضروری نہیں کہ ایسا واقعی ہو بھی۔ اس بات کا تعین کرنے میں کئی معاشی، سیاسی، انضباطی اور تنظیمی عوامل کردار ادا کریں گے، جو مجوزہ آٹومیشن کے منصوبے کو رَد یا غیرمعینہ مدت تک کے لیے مؤخر کرسکتے ہیں۔ 

ورلڈ اکنامک فورم کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ، آٹومیشن کے باعث 2037ء تک برطانیہ میں 20فی صد نوکریاں ختم ہوسکتی ہیں۔ چین میں اس بات کے امکانات کچھ زیادہ ہیں اور وہاں 2037ء تک 26فیصد نوکریاں آٹومیشن کے باعث خطرے سے دوچار ہوسکتی ہیں، کیونکہ دنیا کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں چین میں مینوفیکچرنگ اور زراعت کے شعبے میں آٹومیشن کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔

تاہم ورلڈ اکنامک فورم اورپی ڈبلیو سی گلوبل کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق، آٹومیشن کے نتیجے میں پیداوار میں اضافے اور حقیقی آمدنی اور اخراجات بڑھنے سے نئی نوکریوں کے قابلِ ذکر مواقع پیدا ہونے کے امکانات ہیں۔ تحقیق کے مطابق، آٹومیشن کے نتیجے میں جتنی نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ ہے، آئندہ 20 برسوں کے دوران، چین میں اس کے مقابلے میں 12فی صد زیادہ نئی نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے، جو عددی اعتبار سے تقریباً 9کروڑ نئی نوکریاں بنتی ہیں۔

تحقیق میں شامل ماہرین کے مطابق، یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مصنوعی ذہانت اور اس سے متعلقہ دیگر ٹیکنالوجیز کے نتیجے میں، معاشی نمو بڑھے گی اور نوکریوں کے نئے مواقع پیدا ہونگے، بالکل اسی طرح، جس طرح ماضی میں اسٹیم انجن اور کمپیوٹر کے نتیجے میں لاکھوں، کروڑوں نئی نوکریوں کے مواقع پیدا ہوئے تھے۔ AIسسٹمز اور روبوٹس کے باعث پیداوار میں اضافہ، لاگت میں کمی اور مصنوعات کے معیار اور تنوع میں قابلِ ذکر اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں، کمپنیوں کا منافع بڑھے گا، یہ منافع وہ ان کمپنیوں یا ان کاروبار میں لگائیں گی، جن میں وہ حصہ دار ہوں گی۔ 

اس کا فائدہ شیئرہولڈرز کو بھی ہوگا، جو منافع منقسمہ(ڈیویڈنڈ) اور قیمت میں اضافہ کی صورت میں منافع (کیپٹل گین) کے ذریعے زائد آمدنی حاصل کریں گے۔ مارکیٹ میں اپنی مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے، کمپنیوں کو ان فوائد کو اعلیٰ معیار اور کم قیمتوں کی صورت میں اپنے صارفین کو منتقل کرنا پڑے گا۔ یہ تبدیلی بھی صارفین کی حقیقی آمدنی میں اضافے کا باعث بنے گی۔اس طرح، صارفین میں اپنے پیسوں سے زیادہ خدمات اور مصنوعات خریدنے کی سکت پیدا ہوگی، اس اضافی مانگ کو پورا کرنے کے لیے کمپنیاں پیداوار بڑھائیں گی اور پیداوار بڑھانے کے لیے انھیں مزید نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی۔

اس پوری سائیکل کو Displacement Effectاور Income Effectکا نام دیا گیا ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے ہرچندکہ، آٹومیشن اور روبوٹک ٹیکنالوجی کے نتیجے میں  بڑے پیمانے پر بے روزگاری خارج از امکان ہے، تاہم یہ جاننے کے بعد دنیا کے ملکوں کو لاپرواہی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ ماضی کے صنعتی انقلابوں کی طرح، چوتھا صنعتی انقلاب بھی لیبر مارکیٹ اور موجودہ بزنس ماڈلز میں تغیر کا باعث بنے گا۔

آئندہ 20 برسوں کے دوران، صرف چین میں اس ٹیکنالوجیکل تغیر کے نتیجے میں 20 کروڑ افراد کا Displacement Effectکے تحت بے روزگار ہونے کا امکان ہے اورانھیں اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نئی نوکریوں کی طرف منتقل کرنا پڑے گا۔ 

بلاشبہ، چین، ایک جگہ سے بے دخل ہونے والے لوگوں کو دوسری جگہ بحال کرنے کا ایک وسیع تجربہ رکھتا ہے، کیونکہ وہاں 80کے عشرے سے دیہی زراعت سے وابستہ مزدور بڑی تعداد میں شہروں کی طرف آئے ہیں، جنھیں چین نے کامیابی سے شہروں میں بحال کیا ہے، تاہم یہ عمل آسان ہرگز نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی تعلیم کے میدان میں بھی، اس تعلیم پر زیادہ توجہ دینا ہوگی، جو مستقبل کی جاب مارکیٹ کے لیے گریجویٹس کو تیار کرسکے۔