• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ای وی ایمز، آئی۔ووٹنگ، مذاکرات کیلئے حکومت سخت موقف سے پیچھے ہٹ گئی

اسلام آباد (طارق بٹ) ای وی ایمز، آئی۔ووٹنگ کے حوالے سے مذاکرات کے لئے حکومت سخت موقف سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل میں 7 لاکھ ای وی ایمز کی ضرورت ہوگی، جب کہ ای سی پی کو بھی ای وی ایمز کے استعمال کے حوالے سے مطمئن کرنا ضروری ہے۔ تفصیلات کے مطابق، کیا حکومت اور اپوزیشن جماعتیں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایمز) اور آئندہ عام انتخابات میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے آئی۔ووٹنگ پر بظاہر اپنے سخت موقف سے پیچھے ہٹیں گی؟ پارلیمانی کمیٹی میں ایک ساتھ بیٹھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو سننے کو تیار ہیں۔ لیکن انہیں انتخابی اصلاحات پر اتفاق رائے کے لیے اپنے اپنے موقف پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ تاہم، اپوزیشن سے مذاکرات کرنا خود حکومت کی سوچ کی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ جب حکومت نے الیکشنز ایکٹ میں ترامیم کے دو سیٹ مسترد کیے تھے، جس میں 75 تبدیلیاں تھیں تو یہ نتیجہ سامنے آیا تھا کہ اپوزیشن سے بات چیت نہیں کی جائے گی کیوں کہ اپوزیشن بھی حکومت کی ہرتجویز کے خلاف تھی۔ اس کی وجہ سے سیاسی ماحول متاثر ہوا اور طرفین کے درمیان تنائو میں اضافہ ہوا۔ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو حکومت مجوزہ انتخابی اصلاحات کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لے جائے گی۔ جہاں یہ سمجھا جارہا ہے کہ وہ اسے باآسانی منظور کروالے گی۔ اس سے قبل بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ تاہم، مذاکرات کا نتیجہ آنے تک یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ جب کہ حکومت اور اپوزیشن معاہدے کی کوشش کررہی ہیں، الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) جو کہ اس معاملے میں اہم اسٹیک ہولڈر ہے، اسے بھی ای وی ایمز اور آئی۔ووٹنگ کے حوالے سے مطمئن ہونا ہوگا۔ آئین کے تحت یہ ای سی پی کی ذمہ داری ہے کہ وہ آزاد اور شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے۔ ای سی پی اپنی اس آئینی ذمہ داری کا دفاع کررہا ہے۔ فی الوقت حکمران اتحاد ای وی ایمز اور آئی۔ووٹنگ کی مکمل حمایت میں کھڑا ہے، جب کہ اپوزیشن جماعتیں اور ای سی پی اس کے مخالف ہیں۔ ان کا ایک مطالبہ یہ ہے کہ جب تک ای وی ایمز محدود پیمانے پر ٹیسٹ نہیں کرلیے جاتے، اس وقت تک انہیں پارلیمانی انتخابات میں استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے۔ جب تک پارلیمانی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی تھی اس وقت تک طرفین ایک دوسرے کے خلاف عوامی سطح پر بات کررہے تھے اور کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں 7 لاکھ ای وی ایمز کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے نشان دہی کی ہے کہ اگر انتخابات والے روز اگر معمولی تعداد میں بھی مشینیں خراب ہوئیں تو ایک بہت بڑا اسکینڈل بن سکتا ہے، جس سے پورا انتخابی عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ پہلے مرحلے میں مخصوص وفاقی اور صوبائی حلقوں کو منتخب کیا جائے جہاں ای وی ایمز کی ٹیسٹنگ کی جائے۔ اگر تجربہ کامیاب ہوجائے تو مشینوں کے استعمال کا دائرہ کار وسیع کردیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن ممالک میں ای وی ایمز استعمال کی جارہی ہیں وہ دہائیوں کے ٹیسٹ اور ٹرائلز کے بعد اس مرحلے پر پہنچے ہیں۔ ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ ای وی ایمز کو فعال کرنے سے قبل انتخابی عمل کی شفافیت اور ووٹ کی رازداری یقینی بنانے کی ضرورت ہوگی۔

ملک بھر سے سے مزید