• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

اسنوکر، قومی کھلاڑی قوم کو خوشیاں دینے میں مصروف

ٹاپ پاکستانی اسنوکر اسٹار بابر مسیح قطر میں کھیلی جانے والی سکس ریڈ ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ میں سلور میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ پہلی بار چیمپئن شپ میں شرکت کرنے والے بابر مسیح نے فائنل میں بھارتی تجربہ کار کھلاڑی پنکج ایڈوانی کا ڈٹ کا مقابلہ کیا لیکن مخالف کھلاڑی نے تجربہ اور مہارت کی بنیاد پر بابر سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرافی کے حصول کو ممکن بنایا۔ بابر نے فائنل میں 4-1 سے ڈائون جانے کے بعد فائٹ بیک کیا لیکن پنکج جنہیں ابتداء میں برتری حاصل ہوگئی تھی اس کا ایڈوانٹیج انہیں ملا اور وہ 7-5 سے فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ 

بابر مسیح پہلے پاکستانی ہیں جنہیں فائنل میں پہنچنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ریڈ اسنوکر ورلڈ چیمپئن شپ میں 29 ممالک کے 56 کھلاڑیوں نے شرکت کی جنہیں چار چار کے 14 گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ ہر کھلاڑی نے تین تین میچز جیت کر ناک آئوٹ مرحلے کیلئے کوالیفائی کیا۔ بابر مسیح ابتدائی میچوں میں عمدہ کارکردگی پر برا ہ راست پری کوارٹر فائنل میں پہنچےجبکہ حارث طاہر تمام میچز میں کامیابی حاصل کرکے کوارٹر فائنل میں پہنچے۔ پری کوارٹر فائنل میں میں بابر مسیح نے بلجیم کے کیون ہانسنز کو جبکہ حارث طاہر نے یو اے ای کے خالد کمالی کو شکست دی۔ 

بدقسمتی سے کوارٹر فائنل میں حارث طاہر کا مقابلہ ہم وطن بابر مسیح سے ہوا اور بابر نے سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔ سیمی فائنل میں بابر مسیح نے جرمنی کےٹاپ کھلاڑی رچرڈ وائین ولڈ کے خلاف عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ دونوں کے درمیان مقابلہ دلچسپ رہا جس میں بابر نے فتح اپنے نام کی۔ 2017ء میں شروع ہونے والے سکس ریڈورلڈ کے پہلے فاتح ایران کے عامر سرکوش تھے۔ پاکستان اسنوکر ایسو سی ایشن کے سربراہ جاوید عبدالکریم نے سکس ریڈ ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حارث طاہر اور بابر مسیح نےاپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ 

بابر مسیح نے ایونٹ کے فائنل میں پہنچ کر پاکستان کی تاریخ رقم کی وہ ہمارے پہلے کھلاڑی ہیں جنہوں نے فائنل میں رسائی حاصل کی۔ بابر سے ابتداء میں کچھ غلطیاں ہوئی جس کی وجہ سے بھارتی کھلاڑی پنکج ایڈوانی کو لیڈ لینے میں کامیاب رہے لیکن اس کے بعد بابر نے فائٹ بیک کیا اور اگر ایک اور فریم میں کامیابی حاصل کرلیتے تو مجھے پوری امید تھی کہ پنکج ٹورنامنٹ نہیں جیت سکتا تھا۔ 

بہرحال ہمارے کھلاڑیوں نے تجربہ حاصل کیا ۔ اس ایونٹ کا سب سے بڑا سیٹ بیک ہمارے لئے محمد آصف کی عدم شرکت تھی۔ محمد آصف کی کوویڈ ویکسی نیشن کے حوالے سے میں کرنل سبطین ہیڈ این سی او سی اور سہیل شیخ کا خصوصی شکریہ ادا کروں گا جنہوں نے چند گھنٹوں میں محمد آصف کی ویکسی نیشن مکمل کرکے انہیں چیمپئن شپ میں شرکت کیلئے سرٹیفکیٹ دیدیا لیکن بدقسمتی سے قطر نے اپنے ملکی قوانین کے تحت انہیں ایونٹ میں کھیلنے کی اجازت نہیں دی۔

اگر آصف اس ایونٹ میں ہوتے توہمارے فائنل جیتنے کے امکانات بہت زیادہ تھے۔ آصف انتہائی تجربہ کا اور منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں اور اس سے قبل سکس ریڈ ورلڈ چیمپئن شپ دو بار جیت چکے ہیں۔ ان کی عدم شرکت کے باعث ہم نے اسٹینڈ بائی کھلاڑی حارث طاہر کو ایونٹ میں بھیجا ۔ پاکستانی اسنوکر کھلاڑی عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں اور ان عالمی کامیابیوں کا کا ریکارڈ دیگر کھیلوں سے کہیں زیادہ ہے لیکن قومی اسپورٹس پالیسی کے تحت عالمی ٹائٹل کے حصول پربیشتر کھلاڑی اپنی انعامی رقم کے آج بھی منتظر ہیں۔ 

2012ء میں پہلی بار ورلڈ چیمپئن شپ اور دیگر ایونٹس جیتنے پر محمد آصف بھی حکومت کی جانب سے عالمی اعزازت کے حصول پر نقد انعام کے حقدار قرار پائے تھے۔ ان کے علاوہ محمد سجاد بھی اپنی انعامی رقم ملنے کے منتظر ہیں۔ میری وزیراعظم پاکستان عمران خان سے جو خود بھی ایک اسپورٹس مین رہے ہیں جن کو کھلاڑیوں کی تکالیف اور پریشانیوں کا احساس بھی ہے۔ ان سے درخواست ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں اور غیرممالک میں پاکستان کا نام بلند کرنے والے کھلاڑیوں کو پالیسی کے تحت انعامی رقم دلوائیں۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید