• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کرک مندر کی تعمیر پر رپورٹ دینے کا حکم


سپریم کورٹ آف پاکستان نے رحیم یار خان مندر حملہ از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف سیکریٹری خیبر پختون خوا کو کرک مندر کی تعمیر سے متعلق رپورٹ دینے کا حکم دے دیا۔

دورانِ سماعت سپریم کورٹ کی جانب سے اقلیتوں کی سرکاری نوکریوں میں 30 ہزار خالی سیٹوں پر اظہارِ تشویش کیا گیا۔

ون مین کمیشن کے چیئرمین شعیب سڈل نے عدالت کو بتایا کہ اقلیتوں کے لیے سرکاری نوکریوں میں 5 فیصد کوٹا مختص ہے، اقلیتوں کے لیے سرکاری نوکری کے کوٹے میں ہندو، مسیحی، سکھ یا دیگر کی وضاحت نہیں، اقلیتوں کی اس وقت پورے ملک میں 30 ہزار سرکاری سیٹیں خالی ہیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ بتایا گیا ہے کہ وفاق، پنجاب، کے پی اور بلوچستان حکومتیں اقلیتوں کے کوٹے پر بھرتیاں نہیں کر رہیں، وفاقی حکومت اور صوبائی چیف سیکریٹریز ون مین کمیشن سے تعاون کریں، اقلیتوں کی نوکریوں سے متعلق معاملات پر متعلقہ اتھارٹیز جلد اقدامات کر کے رپورٹ دے۔

عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ رحیم یار خان میں مندر کی دوبارہ تعمیر کی جاچکی ہے، بھونگ میں پولیس اسٹیشن کے لیے رئیس منیر احمد نے 10 کنال زمین تحفے میں دی ہے، ملتان تا سکھر موٹر وے پر صادق آباد انٹر چینج کے لیے رئیس منیر 25 ایکڑ زمین دینے کو تیار ہیں۔

سپریم کورٹ نے چیئرمین این ایچ اے اور سیکریٹری پلاننگ کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین این ایچ اے اور سیکریٹری پلاننگ صادق آباد انٹر چینج کی تعمیر سے آگاہ کریں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بھونگ میں پانی کے نلکے پر لڑائی کے واقعے کی اطلاع ملی، ایسا کیا ہو گیا کہ لوگ ایک گھونٹ پانی پر لڑنے لگے ہیں؟ معاشرے میں اخلاقی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر رمیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ بھونگ میں کچے کے علاقے کے باعث آج بھی خطرہ موجود ہے، کرک مندر کی دسمبر سے اب تک تعمیر مکمل نہیں ہو سکی۔

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختون خوا کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ بتائیں اب تک کرک مندر مکمل کیوں نہیں ہو سکا؟

ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے عدالت کو بتایا کہ کرک مندر کی تعمیر عدالت کے حکم کے مطابق مکمل ہو چکی ہے، کرک مندر کی تعمیر اور ہندو کمیونٹی کے اظہارِ اطمینان کی ویڈیوز موجود ہیں۔

سپریم کورٹ نے چیف سیکریٹری کے پی کو کرک مندر کی تعمیر سے متعلق رپورٹ دینے کا حکم دیا۔

دورانِ سماعت چیئرمین این ایچ اے عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے ان سے سوال کیا کہ آپ نے موٹر ویز اور ہائی ویز کا حال دیکھا ہے؟ چترال گلگت ہائی وے کی حالت آپ نے دیکھی ہے؟ مجھے بتایا گیا ہے کہ کاغذوں میں 3 بار چترال گلگت ہائی وے بن چکی ہے، سندھ میں تو موٹر وے بس نام کی ہی ہے، ملتان سکھر موٹر وے پر کوئی ریسٹ رومز موجود نہیں۔

چیئرمین این ایچ اے نے جواب دیا کہ ہم اقدامات کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے سوال کیا کہ کیا اقدامات کر رہے ہیں؟ آپ کی ڈیوٹی لگا دیں گے کہ روزانہ ملتان سکھر موٹر وے پر سفر کریں، آپ روزانہ موٹر وے پر سفر کریں تو آپ کو ریسٹ رومز کی خراب حالت اور عام آدمی کی تکلیف کا احساس ہو گا، آپ اگلی تاریخ پر تیاری کر کے آئیں آپ کو تمام سوالوں کے جواب دینا ہوں گے۔

عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے کیس کی سماعت 1 ماہ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

قومی خبریں سے مزید