• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معلومات تک رسائی کے قوانین پر عمل نہیں، پارلیمنٹیرینز، ماہرین قانون

اسلام آباد(نمائندہ جنگ) پارلیمنٹیرینز اور ماہرین قانون میں اس بات پر اتفاق پایا گیا ہے کہ ملک میں رائٹ ٹو انفارمیشن (معلومات تک رسائی) کے قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ انگریز دور کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کہہ دیا جاتا ہے کہ معلومات نہیں دے سکتے، پارلیمینٹرینز کمیشن فار ہیومن رائٹس،راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس اور نیشنل پریس کلب کے زیر اہتمام منگل کو "جاننے کا حق اور معلومات تک رسائی" کے عالمی دن کےموقع پر نیشنل پریس کلب میں سیمینار منعقد ہوا۔سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے خطاب میں کہا کہ اگر ہم 1973ء کے آئین کی بات کر یں تو وہ مجھےنافذ العمل ہی نظر نہیں آ رہا ،صرف ریاست کا قانون ہے، ریاست آج بھی پارلیمانی نظام کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ گذشتہ روز ہی سپریم کورٹ میں ایک درخواست آئی کہ صدارتی نظام آنا چاہیے ، آج آفیشل سیکرٹ ایکٹ اس ملک کا آئین ہے ، 1973کا آئین نہیں ہے پاکستان کی رولنگ ایلیٹ اپنے مقاصد میں آگے بڑھی ہے ۔بات کرتے ہیں کہ انفارمیشن نہیں مل رہی ، آپ کو وہ نہیں ملےگی ، ادارے جان بوجھ کر ختم کیے جارہے ہیں ۔چیف سیکرٹری اور آئی جیز کو تبدیل کیا گیا ،میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی لائی جا رہی ہے ، کیا پارلیمان میں وقفہ سوالات صرف مذاق نہیں بن کر رہ گیا؟تمام تر چیزیں ریاست کی طرف سے کی گئی ہیں، پہلے پیپلز پارٹی،ن لیگ استعمال ہوئے اب پی ٹی آئی استعمال ہو رہی ہے۔چیئرمین پارلیمنٹیرینز کمیشن فار ہیومن رائٹس ریاض فتیانہ نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کے تحت بھی ہم نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ پر عمل کرنا ہے سب سمجھتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں ایکٹ آف پارلیمنٹ کو ریٹائر ہونے والے جج نے اڑا کر رکھ دیا گیا ہے۔اگر کوئی ادارہ صحافیوں کو معاوضہ نہیں دیتا تو حکومت اپنے قبضے میں لے کر چلائے اور وہی صحافی اس کو چلائیں جو منافع ہو وہ مالک کو دے دیا جائے میرے خیال میں یہی حل ہے اس کا۔حکومت میڈیا کا گلہ نہیں دبا رہی ،آزادی صحافت پر ہم آپ کے ساتھ ہیں۔سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ پی ایم ڈی اے کے حوالے سے فواد چوہدری اور فرخ حبیب نے ایک آئیڈیا رکھا سب کے سامنے اس حوالے سے مسودہ نہیں تھا اس لیے تمام فریقین کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ فیک نیوز کے حوالے سے قانون سازی کو ترجیح دینی چاہیے۔

اہم خبریں سے مزید