• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خلیل احمد

انسان میں کچھ صلاحیتیں قدرت کی طرف سے ودیعت ہوتی ہیں اور کچھ وہ خود پریکٹس کرکے ڈیویلپ کر لیتا ہے، جیسے معروف بھارتی ریاضی دان (Mathematician) شکنتلا دیوی سے اعداد باتیں کرتے تھے اور ریاضی کا کوئی بھی سوال وہ سیکنڈوں میں حل کر لیتی تھیں۔ انھیں ہیومین کمپیوٹر کہا جاتا تھا اور ان کانام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں اس حوالے سے درج ہے۔ اسی طرح امریکی شہری جان نیش سے بھی ہندسے باتیں کرتے تھے۔ پاکستانی معروف مصنف اے حمید صاحب نے جنگلوں اور درختوں کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے اور بقول ان کے کہ ان سے درخت باتیں کرتے تھے۔ 

شاید آپ اسے میری مبالغہ آرائی سمجھیں یا کسی دیوانے کی بڑ سمجھ کر ہنس دیں مگر یہ سچ ہے کہ مجھے اردو زبان سے بہت محبت ہے اور میں مطالعہ اس قدر باریک بینی سے کرتا ہوں کہ حروف و الفاظ کی ساخت و اشکال میرے حافظے میں نقش ہو گئی ہیں اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ مجھ سے اردو الفاظ باتیں کرتے ہیں۔ 

ذرا سا بھی کوئی حرف آگے سے پیچھے ہو جائے، ز کی جگہ ذ یا ذ کے بجائے ز ہو، کہ اور کے کی جگہیں بدل جائیں یا کوئی اور حرف بدل جائے یا لفظ درست لکھا ہوا نہ ہو تو وہ حروف و الفاظ مجھ سے چیخ چیخ کر شکایت کرتے ہیں اور میں اکثر ان کی شکایت ان کے مالکان تک پہنچا دیتا ہوں مگر کچھ مالکان درشت رویے کے حامل ہوتے ہیں تو پھر ان الفاظ کو صبر کی تلقین کر کے چپ چاپ آنکھیں بند کر کے اور کان لپیٹ کر وہاں سے گزر جاتا ہوں مگر مجھے ضمیر کی خلش بے چین رکھتی ہے اور میرا ضمیر مجھے کچوکے لگاتا رہتا ہے کہ تم نے ان الفاظ کے حق میں آواز نہیں اٹھائی مگر میں کیا کر سکتا ہوں جب لوگ سننے کو تیار ہی نہ ہوں، جب لوگ جواب ہی نہ دیں،جب لوگ یہ کہیں کہ مطلب تو سمجھ گئے نا آپ؟ اور کیا ضروری ہے کہ ہر حرف کو اس کی درست جگہ پر ٹانکا جائے اور اسے خوبصورتی سے الفاظ کی مالا میں پرویا جائے؟اور پھر میں کہتا ہوں” ہاں یہ بہت ضروری ہے کہ جس کی جگہ جہاں بنتی ہے اسے وہیں رکھا جائے۔ 

حروف کی جگہ بدل جائے تو تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بزرگوں کو بچوں کے چھوٹے چھوٹے کپڑے پہنا دیے گئے ہوں یا بچوں کو بزرگوں کے، عورتوں کو مردوں کے اور مردوں کو عورتوں کے، اور وہ بے چارے مجبور ہوں، لاچار ہوں اور بے بس ہوں اور کچھ نہ کر سکتے ہوں اور جب میں انھیں دیکھوں تو وہ خاموش اور احتجاجی نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہتے ہوں کہ ’’کیا تم ہماری مدد کرو گے کہ ہم اپنے اصلی کپڑے(ہجے) واپس پہن سکیں‘‘اور میں کوشش کرتا ہوں کہ ان کی مدد کر سکوں۔ دوستو !میری یہ عادت ہے کہ غلط ہجے مجھ سے برداشت نہیں ہوتے اور میں ان کی درستی کروانے لگتا ہوں مگر کچھ تلخ تجربات ایسے ہوئے ہیں کہ اب کوشش کرتا ہوں کہ جہاں بے تکلفی نہ ہو وہاں گریز ہی کروں۔ 

بعض اوقات ہوتا یہ ہے کہ بہت پیاری سی تحریر ہوتی ہے مگر ہجوں کی غلطیاں ہوتی ہیں خصوصاً ’’ذ‘‘ اور’’ ز‘‘ کی، جو کہ بہت عام ہیں اور اس تحریر پر لائک کا’’ ری ایکٹ ‘‘کر دوں تو بعد میں کچھ دوست کہتے ہیں کہ وہاں غلطی تھی اور تم نے غور نہیں کیا، حالانکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ میں تحریر غور سے پڑھوں اور غلطی میری نظر سے چھپی رہی، وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ وہاں اتنی بے تکلفی نہیں ہوتی کہ غلطی کی نشاندہی کروں اور دوسری بات یہ کہ کئی دوستوں کی عادت اتنی پختہ ہو چکی ہوتی ہے کہ وہ بار بار وہی غلطی کرتے ہیں تو پھر مناسب نہیں سمجھتا کہ ایک ہی بات کا بار بار اعادہ کروں۔

مثلاً کچھ دوست ’’نون غنہ‘‘ کا درست استعمال نہیں کرتے، کئی دوستوں کو’’ کہ‘‘ اور’’ کے‘‘ کا فرق معلوم نہیں، ’’ز ‘‘اور’’ ذ‘‘ میں تو اچھے خاصے کہنہ مشق لکھاری بھی تخصیص روا نہیں رکھ پاتے، پھر میں کیا کہوں۔مثلاً مذہب، تہذیب، ذات، ذرا، ذرہ،ذکر،ذلیل، ذومعنی، ذریعہ، ذائقہ، ذی شعور، ذہن، ذخیرہ، ذمہ دار، ذوق، وغیرہ ان سب میں ’’ذ‘‘ آتی ہے مگر کئی لکھاری ان الفاظ کو’’ ز‘‘ سے لکھتے ہیں ان کو یہ فرق محسوس نہیں ہوتا، کیوں نہیں ہوتا کیونکہ ان کا مطالعہ یا حروف شناسی کا فہم کم ہوتا ہے مگر وہ اسے ٹائپنگ مسٹیک کہہ کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں حالانکہ یہ غلطی ان کی اپنی ہوتی ہے۔ اسے ہم لاپروائی یا بے دھیانی کہہ سکتے ہیں۔

’’ اعلیٰ، ادنیٰ، مستثنیٰ ‘‘وغیرہ پر کھڑی زبر نہ ڈالیں تو یہ غلطی ہے اسے آپ اعلا،ادنا،مستثنا لکھ دیں، اور مثلاً، ضمناً، آناً فاناً، فوراً، قصداً وغیرہ پر تنوین ہے یعنی دو زبر۔ جب آپ دو زبر نہیں لگاتے تو یہ بھی غلطی ہے کیونکہ آپ کو، کی پیڈ ٹھیک طرح سے استعمال کرنا نہیں آتا۔ ان غلطیوں کو سدھارنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آئیں بائیں شائیں کرنے کے بجائے کھلے دل سے غلطی تسلیم کریں اور، کی پیڈ اپڈیٹ کرکے اس کا درست استعمال کرنا سیکھیں اور ایسا کرنا بہت ضروری ہے۔

جب تک آپ کی تحریر میں املا و ہجوں کی غلطیاں ہوں گی تب تک تحریر میں حسن، زبان و بیان میں روانی و سلاست اور چاشنی و خوبصورتی پیدا نہیں ہو گی اور قاری اسے پڑھ کر بھی تشنہ سا محسوس کرے گا۔کچھ تحریریں طویل ہوتی ہیں مگر شاذ ہی ان میں کوئی غلطی نظر آتی ہے اور وہ ان کے مصنف اتناخوبصورت اور مربوط لکھتے ہیں کہ قاری تحریر کے سحر میں گرفتار پڑھتا چلا جاتا ہے اور مکمل تحریر پڑھ کر ہی رکتا ہے۔