• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمود شام(30ستمبر)پاکستان ڈائمنڈ جوبلی۔ وزیراعظم کا وعدہ

جناب پاکستان میں اب سب کچھ حلال تنخواہ سے ممکن نہیں،اس لئے ڈائمنڈ جوبلی منانے کی بات کرنا غریب متوسط طبقے کی ادھڑی چمڑی میں نمک ڈالنے کے مترادف ہے ۔ اس حکومت نے ہمارے گھروں میں میت والا سکوت پیدا کردیا ہے۔ چھینا جھپٹی کے اِس ماحول میں خانہ جنگی کی طرف جانا باقی رہ گیا ہے۔

 (اسداللہ)

سلیم صافی(29ستمبر) ای وی ایم۔ ووٹنگ یا دھاندلی مشین

جناب ایسا لگتا نہیں کہ آج تک پاکستان میں کسی الیکشن میں عوامی ووٹوں سے حکومتیں بنی ہو، اسی لئے تو آج تک ملک ترقی نہیں کر سکا جو کروڑوں روپے لگا کر آئے گا، وہ صرف پیسہ بنانے کے لئے آئے گا اس وقت پوری دنیا مشینوں پرچل رہی ہےمیرے خیال سے مشین کے آنے سے حق کا فیصلہ ممکن ہے۔ 

(مدثر خان اعوان)

انصار عباسی (30 ستمبر) فحش وڈیوز اور Selective Justice

ہمارے آئین کے مطابق صدر وزیراعظم اور تمام حکومتی عہدیداروں کو باعمل مسلمان ہونا چاہئے۔ ضروری ہے کہ اُن کا کردار بہترین ہو لیکن افسوس کہ ہمارے ایوانِ اقتدار، اسمبلیوں اور اعلیٰ عہدوں پر بیٹھنے والوں کے کردار کے معاملہ میں خرابی کو نظر انداز کیا جاتا ہےجو معاشرےکے لئے مناسب نہیں۔ کیاہی اچھا ہو کہ نہ صرف ہمارے حکمران بلکہ ہم عوام بھی باعمل مسلمان بن سکیں۔

(محمد قاسم)

عطاء الحق قاسمی (25ستمبر) میں اور عبداللہ سائیں

جناب سب انسان برابر نہیں ہوتے۔ وہ لوگ جو اپنے اندر سے سوچتے ہیں اور جو لوگ باہر کی چیزوں اور حالات سے متاثر ہو کر ان معمولی باتوں کو اپنی عادت بنا لیتے ہیں ان کی سوچ ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ جسم سب کا ایک جیسا ہوتا ہے لیکن سوچ کا فرق اور پاکیزہ پن بندے کو اصل مرکز کے قریب لے جاتا ہے۔

(مقرب قیوم، اٹک)

ڈاکٹر مجاہد منصوری (25ستمبر) نیویارک میں عالمی سیاست کا بازار گرم

امریکہ اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے چین کی معاشی ترقی کو روکنے کی طرف جا رہا ہے لیکن افغانستان میں بیس برس کی جنگ کے بعد القائدہ اور طالبان کو ختم کرنے کے حوالے سےآج جس رسوائی کا سامنا امریکہ کو کرنا پڑ رہا ہے بالکل اسی طرح چائنہ کی معاشی ترقی کو روکنے کے فیصلہ پر بھی امریکہ کو چند برسوں بعد رسوائی کاسامنا کرنا پڑے گا۔

(صابر حسین)

یاسر پیرزادہ(29ستمبر) علامہ اقبال نے ٹھیک نہیں کیا!

محترم پیرزادہ صاحب ہمیں آ ج بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ جو نصاب ہم نے ماضی میں مرتب کیا تھااس کی وجہ سے معاشرہ شدت پسندی اور عدم برداشت کا شکار ہو چکا ہے شاید اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم لوگ متعصب قوم پیداکرناچاہتے ہیںنا کہ سوچنے، سمجھنے اور تفکر کرنیوالی قوم۔

(ہارون گل)

منصورآفاق(26ستمبر) اندھیروں سے نکلتی ہوئی عورت

آفاق صاحب پنجاب خراب حکمرانی اور بدانتظامی کی شدید گرفت میں ہے۔ قصبوں اور شہروں کی غیر منصوبہ بند ترقی شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا باعث بن رہی ہے ، کچھ بھی درست سمت میں نہیں جا رہا ۔ میرا نہیں خیال کہ حکومت ملکی ومعاشی معاملات بہتر طریقے سے سنبھال سکتی ہے۔(ظفر خان نیازی، کینیڈا)

نفیس صدیقی(27ستمبر) سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

جناب کسی بھی ملک اور ریاست کی تعمیروترقی میں ملک کےاہم اداروں کا صاف شفاف ہونا بہت ضروری ہے بد قسمتی سے پاکستان کے ادارے قومی مفاد کے بجائے اشرافیہ کے ذاتی مفادات کیلئے استعمال ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی شہریوں کا ان اہم اداروں پرآج تک اعتماد بحال نہیں ہو سکا۔

(انیس احمد،کوہاٹ)

 خواتین کی تضحیک

عزت یا غیرت کے نام پر عورت کاقتل ہر دور میں ایک معاشرتی مسئلہ رہا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کا رواج ہزاروں سال پرانا ہے مگر بدقسمتی سے یہ ہمارے ملک میں آج بھی رائج ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ سندھ میں غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں اور پسند کی شادی کو بدکاری اور زناکاری کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں بہنوں، بیٹیوں اور خواتین کو اس غلط رسم کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ کہیں کسی کو رشتے سے انکار پر تو کہیں پسند کی شادی پر بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ اس کا رجحان نہ صرف گائوں اور دیہات بلکہ شہروں میں بھی نظر آرہا ہے اور آئے دن اس میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں پانج ہزار خواتین عزت کے نام پر اپنے ہی گھر والوں کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دی جاتی ہیں۔ بنائے گئے قوانین محض کتابوں تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ اُن پر عملدرآمد کی بھی یقین دہانی کرائی جانی چاہئے۔

(ثمن عاطف)