• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عبدالقدیر خان نے ذوالفقار بھٹو کو لکھے خط میں کیا کہا؟


پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانیوں میں شمار ہونے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے محسنِ پاکستان کا لقب پایا، پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا کر ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔

ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھارتی شہر بھوپال میں پیدا ہوئے، 1951 میں پاکستان ہجرت کی اور ابتدائی تعلیم کے بعد مغربی یورپ کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے میٹیلرجکل انجینئرنگ بنے۔

اعلیٰ تعلیم کے بعد یورینیم میٹلرجی، فیز ٹرانزیشن آف میٹیلک الائز، گیس سنٹری فیوجز پر مبنی آئسوٹوپ سیپریشن کی ریسرچ کے بانی بنے۔

بھارت نے 1974 میں ایٹمی تجربہ کیا تو ہالینڈ میں موجود ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا کہ میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے منسلک ہونا چاہتا ہوں، بھٹو نے انہیں فوری طور پر پاکستان آکر ملنے کی دعوت دی۔

یوں دسمبر 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو نے اس وقت کے سیکریٹری خارجہ آغا شاہی کے ہمراہ اے کیو خان سے ملاقات کی، اس کے بعد ڈاکٹر اے کیو خان پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے منسلک ہوگئے۔

ان دنوں اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ ممتاز ایٹمی سائنسدان منیر احمد خان تھے، جنہیں کچھ عرصہ بعد ہٹا کر ڈاکٹر اے کیو خان کو اس کا سربراہ مقرر کردیا گیا۔

کچھ عرصہ بعد جنرل ضیا الحق نے مارشل لاء لگا کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تاہم ڈاکٹر اے کیو خان کی سربراہی میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور خان ریسرچ لیبارٹریز پاکستان کے ذریعے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں مصروف رہے۔

سال 1987 میں اس وقت ایک اخبار کے مدیر مشاہد حسین نے ممتاز بھارتی صحافی کلدیپ نیئر کا ڈاکٹر اے کیو خان سے انٹرویو کروایا، جس میں ڈاکٹر خان نے بتایا کہ پاکستان ایٹم بم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ خبر دنیا بالخصوص بھارت کے لیے کسی دھماکے سے کم نہ تھی۔

ضیا الحق کے بعد بے نظیر اور پھر نواز شریف کی حکومتیں آئیں تو بھی ڈاکٹر اے کیو خان کا کام جاری رہا، 11 مئی 1998 میں بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد 28 مئی کو اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کے حکم پر بلوچستان میں چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکے کیے۔

اس موقع پر ڈاکٹر اے کیو خان کا نام پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے کی حیثیت سے باضابطہ طور پر سامنے آیا، انہیں محسن پاکستان کا لقب دیا گیا۔

امریکہ نے لیبیا، ایران اور شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرامز شروع کرانے میں مدد سے متعلق تحقیقات کیں تو اس میں ڈاکٹر اے کیو خان پر بھی الزام عائد ہوا۔

ان کے خلاف باقاعدہ تحقیقات ہوئیں، تاہم سابق فوجی ڈکٹیٹر صدر پرویز مشرف نے ان کی قومی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں معاف کردیا۔

بعدازاں ڈاکٹر اے کیو خان کو نظر بند کردیا گیا، جس کے خلاف انہوں نے اعلیٰ عدالتوں سے فیصلے حاصل کیے، تاہم ان کی غیر معمولی اہمیت کے پیشِ نظر انہیں تادم مرگ ہائی سیکیورٹی میں رکھا گیا۔

پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنانے پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام قومی ہیرو کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

قومی خبریں سے مزید