• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اکیسویں صدی میں گلوبلائزیشن کی صورتحال

کورونا وائرس کے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کے بعد مختلف ممالک نے اپنی سرحدیں بند کرلیں، جس سے بین الاقوامی تجارت اور سرمائے کا بہاؤ رُک گیا۔ 2020ء میں کووِڈ-19کی وجہ سے سرحد پار تجارت میں کمی آنے سے گلوبلائزیشن کے مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات کو تقویت ملی۔ ہر کسی کے ذہن میں یہی سوال تھا کہ عالمی سطح پر وبائی امراض کے دیرپا اثرات کیا ہوں گے؟ 

تاہم، حالیہ اعداد و شمار پر گہری نظر ایک بہت پُر امید تصویر سامنے لاتی ہے۔ عالمی کاروبار ختم نہیں ہورہا مگر زمینی حقائق بدل رہے ہیں، جس کے لیے بہتر حکمت عملی اور مینجمنٹ کی ضرورت ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی سفر نمایاں طور پر کم ہوا اور ممکنہ طور پر 2023ء تک اس کے پہلے کی طرح دوبارہ بحال ہونے کی توقع نہیں ہے لیکن رواں سال سرحد پار تجارت، سرمایہ اور معلومات کا بہاؤ گزشتہ سال کے مقابلے میں بڑے پیمانے پر مستحکم ، بحال یا کسی حد تک بڑھا ہے۔

ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے کنیکٹڈنس انڈیکس برائے 2020ء ایڈیشن کے مطابق، امید ہے کہ کووِڈ-19وبائی مرض عالمی سطح پر گلوبلائزیشن کی سطح کو اس حد تک نیچے نہیں لے جائے گا جہاں یہ 09-2008کے عالمی مالیاتی بحران (دہائیوں میں بین الاقوامی تجارت اور سرمائے کے بہاؤ کے لیے بدترین دھچکا) کے دوران تھا۔ کووڈ-19کے باعث لوگوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے کے برخلاف تجارت مضبوطی سے بحال ہوئی ہے، کیپیٹل فلوز بہتر ہو رہے ہیں اور ڈیجیٹل معلومات کے بہاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ذیل میں ان چاروں شعبوں میں سے ہر ایک پر پیش رفت کے کاروباری مضمرات پر غور کیا جارہا ہے۔

ٹریڈ فلوز

عالمی تجارت کی بحالی نے ابتدائی پیشگوئیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ تاہم، مارچ اور اپریل 2020ء میں سامان کی تجارت میں عالمی مالیاتی بحران اور کساد بازاری کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے کمی آئی۔ لیکن جون2020ء میں اس نے دوبارہ بڑھنا شروع کیا اور نومبر2020ء تک کووڈ-19سے پہلے کی سطح تک پہنچ گئی۔ یوں ابتدائی مشکلات کے باوجود، تجارت معیشتوں اور شعبہ صحت کے لیے زندگی ثابت ہوئی۔ طبی مصنوعات اور الیکٹرانک سامان (گھر سے کام کرنے کے لیے) کی تجارت میں اضافہ ہوا جبکہ سماجی فاصلے کی وجہ سے مقامی خدمات (مثلاً ریستوران) کی جگہ درآمدی اشیا پر زیادہ خرچ کیا گیا۔

بہت سی کمپنیاں اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ کووِڈ-19سے پہلے کی صورتحال کی طرح ٹیکنالوجی اور انوینٹری میں سرمایہ کاری کے ساتھ مقامی سطح پر اور/یا بیرون ملک پیداواری مقامات میں تنوع ضروری ہے اور مختلف سروے بھی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ تر کمپنیاں ان حکمت عملیوں کو اپنارہی ہیں۔ 

کاروباری تجارت میں بہتری آنے سے سپلائی چین میں تیزی آنے کی توقع ہے جبکہ وبائی مرض سے قبل کے ٹرینڈز بھی جاری ہیں۔ جیسا کہ دنیا بھر میں تجارت ہورہی ہے، ایسے میں اگر کمپنیاں اشیا کی درآمد یا برآمدی فروخت سے محروم رہ جاتی ہیں تو ان کے مسابقتی طور پر پیچھے رہ جانے کا خطرہ ہے۔ لہٰذا، لچک بڑھانے کی کوششوں کے تحت سپلائی چین کی وسیع تر حکمت عملیوں میں فٹ ہونے کی ضرورت ہے، جو تمام ممالک میں طلب اور پیداواری لاگت میں تبدیلی، جیو پولیٹکل تناؤ، آٹومیشن اور دیگر ٹیکنالوجیز میں پیش رفت کو حل کرتی ہیں۔

کیپیٹل فلوز

کووِڈ 19-کے باعث غیرملکی سرمایہ کاری کا بہاؤ تجارت سے بھی زیادہ متاثر ہوا۔ سرمایہ کاروں نے وبائی مرض کے آغاز پر ابھرتی ہوئی منڈیوں (ایمرجنگ مارکیٹس) سے ریکارڈ تعداد میں اپنا سرمایہ (پورٹ فولیو کیپیٹل) نکال لیا، لیکن بعد میں اس میں تیزی سے استحکام آیا اور پھر 2020ء کے آخر میں ان میں پہلے کی طرح اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ جرأت مندانہ زری اور مالیاتی پالیسیوں نے کووِڈ 19- 

بحران کو ایک اور عالمی مالیاتی بحران میں تبدیل ہونے سے روکا۔ تاہم، بین الاقوامی کارپوریٹ سرمایہ کاری اب بھی کم ہے۔ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی)، جس میں کمپنیاں بیرون ملک آپریشن میں خریداری، تعمیر یا دوبارہ سرمایہ کاری کرتی ہیں ، 2020ء میں 42 فیصد کم ہوکر90ء کی دہائی کی سطح پر آگئی تھی۔ عالمی سطح پر کمزور اور ناہموار معاشی بحالی کے باعث کمپنیاں نئے ’گرین فیلڈ‘ توسیعی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے بارے میں محتاط ہیں۔ تاہم، بین الاقوامی انضمام (Mergers) اور حصول (Acquisitions) نے 2020ء کے آخر میں بہتری کے آثار دکھانا شروع کیے، اور گزشتہ سال عالمی سطح پر اس سرگرمی کا حصہ مستحکم رہا۔

وبائی مرض کے باعث معاشی سطح پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال، لاک ڈاؤن اور سفری پابندیاں ختم ہونے کے بعد بین الاقوامی کاروباری سرمایہ کاری کے امکانات روشن ہونے کی امید ہے۔ لیکن قومی سلامتی کی بنیادوں پر غیر ملکی ٹیک اوورز کی سخت سکریننگ برقرار رہے گی۔ 

تاہم، سپلائی چین میں تنوع اور جزوی طور پر فیکٹری یا کچھ کاروباری سرگرمیوں کو واپس اپنے ملک منتقل کرنا کچھ منصوبوں میں بہتری کے امکانات کو بڑھا دے گا جبکہ دوسروں کو کم پُرکشش بنائے گا۔ غیر ملکی آپریشنز میں سرمایہ کاری کا معاملہ اب بھی روایتی طور طریقوں پر منحصر ہوگا، جیسے مارکیٹس اور وسائل تک رسائی ہونا، لیکن موجودہ جیو پولیٹکل عوامل کے تناظر میں خطرات کا تعین کرنے پر زیادہ زور دینا چاہیے۔

انفارمیشن فلوز

کووِڈ-19 سے پہلے، معلومات کے بہاؤ کی گلوبلائزیشن میں سست روی کے آثار تھے۔ بین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک، فون کالز، رائلٹی اور سائنسی تعاون کی ترقی میں سب سے زیادہ کمی آئی تھی۔ لیکن پھر وبائی مرض کے باعث کام، کھیل اور تعلیم کے آن لائن ہونے کی وجہ سے ڈیجیٹل فلوز میں اضافہ ہوگیا۔ بین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک 2019ء کے وسط سے 2020ء کے وسط تک 48 فیصد بڑھی جبکہ بین الاقوامی ٹیلی فون کالز کے منٹس مارچ 2020ء میں گزشتہ سال اسی ماہ کے مقابلے میں 20فیصد بڑھے۔ ایک تحقیق کے مطابق ، 2020ء کی دوسری سہ ماہی میں صوابدیدی اشیا کی سرحد پار ای کامرس فروخت میں 53فیصد اضافہ ہوا۔ لہٰذا، فی الحال یہ نہیں کہا جاسکتا کہ 2020ء میں معلومات کا بہاؤ زیادہ رہا یا کم ہو گیا۔

دنیا بھر میں وبائی مرض کے باعث لگائی جانے والی پابندیوں میں نرمی کے باعث ڈیجیٹل فلوز کی نمو ایک بار پھر سست ہونے کی توقع ہے۔ لیکن 2020ء کے ڈیجیٹل فلوز میں تیزی نے کاروباری ماحول میں دو طویل عرصے تک چلنے والی تبدیلیوں کو تیز کر دیا ہے۔ سب سے پہلے ، یہ خدمات کی تجارت کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔ کووِڈ19- لاک ڈاؤن میں گھر سے کام کرنے کے نتیجے میں کمپنیوں کو اندازہ ہوا ہے کہ اس طرح وہ باصلاحیت غیر ملکی افراد کی خدمات سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔ 

دوسرا، سرحد پار ای کامرس کی توسیع سے چھوٹی کمپنیوں کو عالمی سطح پر جانے میں مدد مل سکتی ہے ، لیکن اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ ہر طرح کی کمپنیوں کو نئی مارکیٹس میں نئے حریفوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پیپل فلوز

لوگوں کے بڑے پیمانے پر ایک منظم، آرام دہ اور محفوظ طریقے سے عمارتوں میں جانے کے عمل کو پیپل فلوز (People flows)کہا جاتا ہے۔ اگرچہ تجارت ، سرمائے اور معلومات کے بہاؤ سبھی نے وبائی مرض کے ردعمل میں مثبت کردار ادا کیا مگر لوگوں کی نقل و حرکت کو وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے محدود کرنا پڑا ، جس سے رواں سال پیپل فلوز(People flows)میں بے مثال کمی واقع ہوئی۔ 2020ء میں بیرونی ممالک کا سفر کرنے والوں کی تعداد میں 74فیصد کمی آئی اور 2023ء سے قبل اس کی وبائی مرض سے پہلے والی سطح پر واپس آنے کی توقع نہیں ہے۔ کاروباری دورے وبائی مرض سے پہلے بین الاقوامی سفر کا صرف 13 فیصد تھے ، لیکن وہ تجارت ، سرمایہ کاری اور عالمی کارپوریشنز کے انتظام میں سہولت فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

2018ء میں امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کا آغاز ہوا لیکن دونوں ممالک کی معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ امریکی تجارت میں چین کا حصہ وبائی مرض کے دوران بڑھا جبکہ امریکی ملٹی نیشنل اداروں نے بھی چین میں سرمایہ کاری جاری رکھی۔ کئی ممالک کی حکومتوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران اپنی مارکیٹس کھولنے کے لیے بڑے اقدامات بھی کیے ہیں۔ لہٰذا، وبائی مرض نے بین الاقوامی بہاؤ کی زیادہ تر اقسام کو نہیں روکا ہے اور نہ ہی اس نے گلوبلائزیشن کو متاثر کیا ہے کہ اسٹریٹجسٹ اپنی توجہ اپنے آبائی ممالک یا علاقوں تک محدود کریں۔ 

کارپوریٹ گلوبلائزیشن کبھی بھی آسان نہ تھی، لیکن اگر بین الاقوامی مواقع اور مسابقتی خطرات وبائی مرض سے پہلے کسی کمپنی کے لیے اہمیت رکھتے تھے تو وہ 2021ء اور اس سے آگے بھی اہمیت کا حامل رہیں گے۔ چونکہ وہ ممالک جو خود کو عالمی بہاؤ سے زیادہ جوڑتے ہیں، وہ تیزی سے ترقی کرتے ہیں۔ ہمیں کووڈ -19کے اثرات سے باہر آنے کے لیے گلوبلائزیشن کی زیادہ ضرورت ہے۔