• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی ادارۂ صحت اور انٹرنیشنل آسٹیوپوروسس فیڈریشن کے اشتراک سے ہر سال دُنیا بَھر میں20اکتوبر کو ’’ آسٹیوپوروسس کا عالمی یوم‘‘ منایا جاتا ہے۔آسٹیوپوروسس ہڈیوں کے بُھر بُھرے پَن کا عارضہ ہے، جس میں ہڈیوں کا حجم کم اور ساخت میں تبدیلی واقع ہو جاتی ہے ، جس سے متاثرہ افراد کی ہڈیاں بغیر کسی فریکچر کے گلنا سڑنا شروع ہو جاتی ہیں۔ 

یہ یوم منانے کا مقصداس بیماری سے متعلق ہر سطح تک آگہی عام کرنے کے ساتھ متوازن غذا سمیت متحرک اور فعال زندگی گزارنے کی جانب توجّہ مبذول کروانا ہے۔ اس دِن کے لیے اِمسال کا تھیم Take Action For Bone Health ہے یعنی ’’ہڈیوں کی صحت کے لیے متحرک ہوں‘‘ ہے۔ دراصل آسٹیوپوروسس کےمرض میں ہڈیاں اس حد تک کم زور اور نازک ہوجاتی ہیں کہ معمولی سی چوٹ لگنے سے بھی ٹوٹ سکتی ہیں،حتیٰ کہ کھانسنے یا چھینکنے تک سے۔

عام افراد کی نسبت اس مرض کے شکار مریضوں میں خاص طور پر کولھے، ریڑھ کی ہڈی اور کلائی کے فریکچر کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اس مرض کو خاموش بیماری بھی کہا جاتا ہےکہ زیادہ تر مریض، مرض بگڑنے تک اپنے مرض سے لاعلم ہی رہتے ہیں۔ عموماً ان مریضوں میں آسٹیوپوروسس کی تشخیص تب ہوتی ہے، جب کوئی فریکچر ہو جائے۔ دُنیا بَھر میں امراضِ قلب کے بعد آسٹیوپوروسس دوسرا بڑا مرض قرار دیا گیا ہے۔ 

ایک تحقیق کے مطابق اس کے لاحق ہونے کے امکانات مَردوں کے مقابلے میں خواتین میں چالیس فی صد زائد پائے جاتے ہیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ دُنیا بَھر میں سالانہ نوّے لاکھ مریضوں میں فریکچر کا سبب بنتا ہے۔ انٹرنیشنل آسٹیوپوروسس فیڈریشن کے مطابق 50سال سے زائد عُمر کی ہر تین خواتین میں سے ایک اور ہر پانچ میں سے ایک مَرد میں ہڈیوں کے ٹوٹنے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔

آسٹیوپوروسس کےزیادہ تر کیسز میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور اگر اس بروقت علاج نہ کروایا جائے، تو مرض خطرناک نتائج کا حامل ہوسکتا ہے۔عمومی طور پر مرض لاحق ہونے کے بعد جو علامات ظاہر ہوتی ہیں، اُن میں کمر کا درد، جو کسی فریکچر یا دَبے ہوئے مُہرے کی وجہ سے ہو، وقت کے ساتھ قد میں کمی، آگے کی جانب جُھکا ؤ، بہت ہلکی یا بغیر کسی چوٹ کے ہڈی ٹوٹ جانا وغیرہ شامل ہیں۔

آسٹیوپوروسس لاحق ہونے کے متعدّد عوامل ہیں۔ مثلاً منفی طرز زندگی، متوازن غذا استعمال نہ کرنا، جسمانی سرگرمیوں کا فقدان، کسی مخصوص دوا کا طویل عرصے تک استعمال، جسمانی کم زوری، تمباکو یا الکحل کا استعمال، جب کہ خواتین میں سن یاس (مینوپاز) کا آغاز عُمر کی مناسبت سے نہ ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ 

تاہم، بعض محرّکات ایسے بھی ہیں، جو غیر اختیاری ہیں۔ جیسے جنس:مَردوں کی نسبت خواتین میں اس مرض کا خطرہ زیادہ پایا جاتا ہے۔عُمر:عُمر بڑھنے کے ساتھ مرض لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ نسل:عمومی طور پر سفید یا ایشیائی نسل کےافراد میں آسٹیوپوروسس کے خطرات پائے جاتے ہیں۔فیملی ہسٹری : اگر فیملی ہسٹری میں یہ مرض شامل ہو،تو بھی مرض لاحق ہوسکتا ہے۔ جسمانی ساخت: چھوٹے قد اور کم وزن رکھنے والے مَرد اور خواتین میں آسٹیوپوروسس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، کیوں کہ عُمر بڑھنے کے ساتھ ان افراد کی ہڈیوں میں کیلشیم کی مقدار بھی کم ہوجاتی ہے۔

اس کے علاوہ بعض غذائی عوامل بھی ہیں، جو مرض لاحق ہونے کا سبب بنتے ہیں۔مثلاً:

٭کیلشیم کی مقدار: کیلشیم کی مستقل کمی آسٹیوپوروسس کی افزایش میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ واضح رہے، کیلشیم کی متوازن مقدار ہڈیوں کی کثافت بڑھانے، ہڈیوں کی مضبوطی اور فریکچر کے خطرات کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

٭مناسب کھانے کی کمی: جسمانی ضرورت کے مطابق کم کھانا یا قد کی مناسبت سے وزن کم ہونا مَرد و خواتین دونوں ہی کی ہڈیاں کم زور کردیتا ہے۔

٭معدے کی سرجری: بعض افراد موٹاپے سے نجات کے لیے معدے کا حجم کم کرنے یا آنت کا کچھ حصّہ ہٹانے کے لیے سرجری کرواتے ہیں، مگر یہ عمل کیلشیم سمیت غذائی اجزاء کو جذب کرنے سے روکتا ہے۔

٭وٹامن ڈی کی کمی: وٹامن ڈی ہڈیوں کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے،جس کی کمی ہڈیوں کی ساخت متاثر کر دیتی ہے۔

بعض عادات بھی آسٹیوپوروسس لاحق ہونے کا سبب بن سکتی ہیں۔ جیسا کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا، وزن اُٹھانے والی کوئی بھی ورزش یا سرگرمی نہ کرنا وغیرہ۔اگر ان عادات سے اجتناب برتا جائے تو مرض سے تحفّظ حاصل ہوسکتا ہے۔آسٹیوپوروسس کا علاج نہ کروایا جائے توبھی مختلف پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔

جیسا کہ کولھے کی ہڈی یا کمر کے مہرے کا ٹوٹنا یا پچک جانا انتہائی سنگین پیچیدگیوں میں شامل ہے۔ کولھے کا فریکچر اکثر گرجانے کی وجہ سے ہوتا ہے اور مریض معذوری کا شکار بھی ہوسکتا ہے۔ بعض کیسز میں چوٹ لگنے کے پہلے سال کے اندر ہلاکت کےامکانات 24 فی صد تک بڑھ جاتے ہیں، جب کہ بعض اوقات ریڑھ کی ہڈی یعنی مہرے، کوئی چوٹ لگے یا پھر گرے بغیر بھی آہستہ آہستہ پچک یا دب جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کمر درد، قد چھوٹا ہوجانے یا پھر آگے کی جانب جُھکاؤ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔آسٹیوپوروسس کی ایک پیچیدگیہڈیاں گھلنا بھی ہے۔ 

ایسی صُورت میں بعض اوقات مریض کی موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔نیشنل آسٹیوپوروسس فاؤنڈیشن (NOF) کے مطابق کولھے کے فریکچر کے اُن مریضوں میں سے، جو 50 سال یا اس سے زائد عُمر کے ہوں،24 فی صد فریکچر کے ایک سال کے اندر انتقال کرجاتے ہیں،جب کہ 85 فی صدفریکچر کے چھے ماہ بعد بھی بغیر کسی سہارے کے چل پھر نہیں سکتے۔ ہر سال جن افراد میں کولھے کا فریکچر ہوتا ہے، اُن میں سے 25فی صد خود اپنی دیکھ بھال نہیں کرسکتے اور 50 فی صد پہلے انجام دینے والےاموردوبارہ انجام نہیں دے پاتے۔

زندگی بَھر ہڈیاں صحت مند رکھنے کے لیے مناسب خوراک اور باقاعدہ ورزش ضروری ہے۔ اس کے علاوہ آسٹیوپوروسس سے محفوظ رہنے کے لیے پروٹین کا استعمال لازماً کیا جائے۔ دراصل پروٹین، ہڈیوں کے تعمیری اجزاء میں سے ایک جزو ہے،جس کے مناسب ذرائع میں سویا، گری دار میوہ جات، لوبیا، انڈے اور گوشت وغیرہ شامل ہیں۔قد کی مناسبت سے وزن برقرار رکھنا بھی ہڈیوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

یاد رہے،18 سے 50 سال کی عُمر کے ہر فرد کو ایک دِن میں 1000ملی گرام کیلشیم کی ضرورت پڑتی ہے،لیکن جب خواتین کی عُمر 50 برس اور مَردوںکی 70 برس ہو جائے، تو روزانہ مقدار 1200 ملی گرام تک بڑھ جاتی ہے۔کیلشیم ،کم چکنائی والی دودھ کی مصنوعات، گہرے ہرے پتّوں والی سبزیوں اور سنگترے کے رَس میں پایا جاتا ہے۔ 

بہتر تو یہی ہے کہ کیلشیم معالج کے مشورے سے استعمال کیا جائے کہ اگر یہ زائد مقدار میں استعمال کرلیا جائے تو جسمانی اعضاء کے لیے مسائل کا باعث بن سکتا ہے، جن میں گُردے کی پتھریاںبننا وغیرہ شامل ہیں۔ وٹامن ڈی جسم میں کیلشیم جذب کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے کے ساتھ ہڈیوں کو بھی صحت مند بناتا ہے۔ 

اس کی کچھ مقدار سورج کی روشنی سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ آج کل بعض غذائی اجناس میں کیمیکلز کی آمیزش کی وجہ سے خوراک میں واضح طور پر وٹامن ڈی کی کمی دیکھی گئی ہے۔تاہم،روزانہ 600سے 800یونٹ وٹامن ڈی کا حصول ایک مناسب مقدار ہے، جو نہ صرف ہڈیاں مضبوط رکھنے میں معاون ثابت ہوگا، بلکہ قوّتِ مدافعت بھی بڑھائے گا۔ عام مشاہدہ ہے کہ جوانی میں شروع کی گئی ورزش کے ہڈیوں پر بہت مثبت اثرات مرتّب ہوتے ہیں، لہٰذا جس قدر جلد ہوسکے باقاعدگی سے ورزش شروع کردیں۔ وزن اُٹھانے کی پریکٹس بھی بازؤں، ریڑھ کی ہڈی کے اوپری حصّے اور پٹّھوں کو مضبوط بنانے میںمعاون ثابت ہوتی ہے۔

اِسی طرح چلنا، ٹہلنا، دوڑنا، سیڑھیاں چڑھنا، رسّی کودنا وغیرہ بھی پیروں، کولھوں اور نچلے حصّے کی ہڈیوں مضبوط کرتا ہے۔ تیراکی اور سائیکل چلانا بھی ایک اچھی ورزش ہے، لیکن اس کا ہڈیوں کی صحت بہتر بنانے میں کوئی کردار نہیں۔ انٹرنیشنل آسٹیوپوروسس فیڈریشن نے بھی ہڈیاں صحت مند بنانے اور فریکچر سے تحفّظ کے5اصول وضع کیے ہیں۔

٭ روزانہ ورزش،جس میں وزن اُٹھانے، پٹّھے مضبوط بنانے اور توازن کی تربیت کی مشقیں تجویز کی گئی ہیں۔ ٭ ہڈیوں کے لیے فائدہ مند غذائی اجزاء کا استعمال ،جس میں کیلثیم، وٹامن ڈی اور پروٹین وغیرہ شامل ہوں۔ وٹامن ڈی کے حصول کا سب سے بہتر طریقہ دھوپ میں بیٹھنا ہے۔ ٭ منفی طرزِزندگی سے اجتناب برت کر جسمانی وزن متناسب رکھا جائے۔٭ اپنے معالج سے رابطے میں رہیں، بالخصوص جب پہلے فریکچر ہوچُکا ہو۔ یا ایسی مخصوص بیماریوں میں مبتلا ہوں یا ایسی مخصوص ادویہ استعمال کررہے ہوں، جو ہڈیوں کی صحت متاثر کریں۔ ٭ بوقتِ ضرورت ٹیسٹ اور رپورٹ مثبت آنے کی صُورت میں مستقل مزاجی سے علاج کروائیں۔ (مضمون نگار، معروف ماہرِ امراضِ ہڈی و جوڑ ہیں۔ کے آر ایل اسپتال(خان ریسرچ لیبارٹری)اور اسلام آباد اسپیشلسٹ کلینک میں بطور آرتھوپیڈک اینڈ اسپائن سرجن خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نیز، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) اسلام آباد کے سابق صدر ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید