• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

آئی سی سی سفید ہاتھی بن گیا، دو بلاکس میں تقسیم اچھی علامت نہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجا نے گذشتہ ہفتے میرے شہر کراچی آکر جس طرح تاجر برادری سے ملاقات کی اس کو اچھی کاوش قرار دیا جاسکتا ہے۔کراچی کو پاکستان کا فنانشل حب کہا جاتا ہے جہاں اسٹیٹ بینک سمیت تمام بڑے بینکوں کے ہیڈ آفس ہیں اور پاکستان اسٹاک ایکسچیج میں ہونے والی لین دین سے ملکی کاروبار پر اتار چڑھائوآتا ہے۔

بلاشبہ اس وقت پاکستان کرکٹ کو آئی سی سی کے سرمائےسے چلایا جارہا ہے۔لیکن اگر پاکستان کرکٹ میں مزید پیسہ آ جائے اور یہ پیسہ درست انداز میں کرکٹ پر خرچ ہو تو اس سے یقینی طور پر کرکٹ کو ترقی ملے گی۔

رمیز راجا کی یہ گفتگو سن کر خوشی ہوئی کہ اگلے 4 ہفتوں میں پاکستان کرکٹ کے حوالے سے اہم چیزیں سامنے لاؤں گا، پاکستان آئی سی سی میں زیرو فیصد سرمایہ کاری کرتا ہے، ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے، پی سی بی کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے تاکہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ مستقبل میں دورہ منسوخ نہ کریں۔ 

آئی سی سی ایک سفید ہاتھی ہے جو ایشیائی اور مغربی بلاک میں تقسیم ہوچکا ہے، پاکستان کرکٹ کو کوئی ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈال سکتا، جب تک آواز نہیں اٹھائیں گے تب تک کوئی کام نہیں بنے گا،پاکستان کے اسٹیڈیمز کو بہتر کرنا ہے کیونکہ ہمارے اسٹیڈیم جانے کے لائق نہیں۔

بلاشبہ ہمارے اسٹیڈیم کی حالت درست کرنے کی ضرورت ہے ، ایک بار ملک کے اسٹیڈیم کو بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ بنانے کی ضرورت ہے۔کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم کو لے لیں یہ اسٹیڈیم کئی بار بنا اور کئی بار ٹوٹا،2009کے بعد اچانک یہ اسٹیڈیم کھنڈر بن گیا۔پھر نجم سیٹھی کے دور میں اس کو نئی شکل دی گئی۔ ملک میں کرکٹ کو بہتر منصوبہ بندی سے چلانے کی ضرورت ہے۔

رمیز راجا واقعی کسی مشن پر دکھائی دیتے ہیں اس مشن میں انہیں اپنی انتظامی ٹیم میں بھی قابل اور محب وطن لوگوں کو لانا ہوگا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین میں زیادہ اختیارات چیف ایگزیکٹیو کے پاس ہوتے ہیں لیکن رمیز راجہ چیئرمین بننے کے بعد جس طرح ذرائع ابلاغ کے سامنے آئے ہیں، ان کے طرز عمل اور ان کے انٹرویوز، بیانات اور ٹوئٹر سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ شاید وہ اپنے پاس مکمل اختیارات رکھنا چاہتے ہیں۔وسیم خان کے استعفے کے بعد دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا رمیز راجہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے عہدے پر کوئی نئی تقرری کریں گے یا پھر تمام اختیارات کا خود استعمال کرتے ہوئے ڈائریکٹر کرکٹ کی تقرری کریں گے۔

عارضی طور پر سلمان نصیر کو سی ای او بنایا گیا ہے ، اس عہدے پر ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو واقعی ملک کے لئے درد رکھتے ہوں۔وسیم خان نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا تھا، انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اب مزید عرصہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں نہیں رہ سکیں گے۔چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کے استعفے کے بعد یہ سوال سامنے آیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں تبدیلیوں کے عمل میں کیا مزید استعفے سامنے آئیں گے؟

میڈیا میں روانہ اس حوالے سے بحث ہوتی ہے رمیز راجا کو اس بحثکابھی خاتمہ کرنا ہوگا۔رمیز راجا یقینی طور پر فرنٹ فٹ پر ہیں اور مسلسلجارحانہ اسٹروکس کھیل رہے ہیں ۔ان کی نیت پر شک نہیں، لیکن جب تک پاکستانی ٹیم جیت حاصل نہیں کرے گی شائقین کرکٹ کو خوش نہیں کیا جاسکتا۔

کہتے ہیں کہ جب نیت صاف ہو تو منزل آسان ہوجاتی ہے رمیز راجا کو گراس روٹ کرکٹ کی جانب توجہ دینا ہوگی تاکہ کلب کرکٹ عام ہو اور کلبوں کے معاملات عام آرگنائزر چلائے کرکٹ چلانا فائیو اسٹار کلبوں میں بیٹھنے والوں کی بس کی بات نہیں ہے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید