• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ہرات کی 4 سالہ زرمینہ کے سامنے اس کا باپ مارا گیا


کابل کی خیمہ بستی کی 4 سال کی زرمینہ کے باپ کو اس کی آنکھوں کے سامنے موت کے گھاٹ اُتارا گیا، صدمے سے زرمینہ ذہنی اور جسمانی معذوری کا شکار ہوگئی۔

 کابل کی خیمہ بستی میں موجود بچی زرمینہ صرف دو مہینے پہلے ہنستی مسکراتی اور کھیلتی کودتی تھی۔ لیکن اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے باپ کو مار دیا گیا، جس کے بعد صدمے سے بچی ذہنی اور جسمانی طور پر بھی معذور ہوگئی ہے۔

 بچی کی والدہ مریم کا کہنا ہے کہ اس کی بچی اپنے باپ کی بہت لاڈلی تھی،  ہنستی کھیلتی اور اپنے پاؤں پر چلتی تھی۔ جس دن اس کی آنکھوں کے سامنے یہ واقعہ ہوا، اُس دن سے مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ نہ چل پھر سکتی ہے، نہ کچھ بولتی ہے، ہم اس کے لیے ڈاکٹر سے دوائی کیسے لیں، ہمارے پاس پیسے ہی نہیں ہیں۔

اس بربادی کا سبب ہرات میں ہونے والی حالیہ لڑائی بنی، جس کی تفصیل زرمینہ کی دادی نے جیو نیوز کو بتائی ہے۔

زرمینہ کی دادی صاحب جان کا کہنا ہے کہ ’’صبح سویرے چار لوگ گھر میں داخل ہوئے میرے بیٹے کے کمرے میں گئے اس کو سوتے ہوئے سر میں گولی ماری، میرے بچوں نے مزاحمت کی کوشش کی جس میں مزید دو بیٹے اور ایک بیٹی شہید ہوگئے، ظالموں نے مجھ پر بھی تشدد کیا جس سے میرے دانت ٹوٹ گئے اور میں بے ہوش ہوکر زمین پر گر گئی۔‘‘

صاحب جان کا بتانا ہے کہ نا بچوں کو دفنا سکی اور نا ہی ضروری سامان اُٹھاسکی، بس زندہ بچنے والوں کو ساتھ لیا، اور گرتی پڑتی کابل بھاگ آئی۔

زرمینہ اور اس کی دادی صاحب جان کے گھر میں کوئی مرد زندہ نہیں بچا، اور اب باقی اہلخانہ کا بوجھ اس کے ضعیف کندھوں پر ہے۔

صاحب جان  کا کہنا ہے کہ "میں وکیل اور کرنسی کے کاروبار کرنے والے بچوں کی ماں ہوکر بھی سڑکوں پر بھیک مانگتی پھر رہی ہوں،  مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی، میرے چار بچوں کے جنازے میرے سامنے نکلے ہیں، میں دس لوگوں کو پالنے کا واحد سہارا ہوں، مگر میں کیا کروں۔"

یہ خیمہ صرف زرمینہ، اس کی ماں اور دادی کے دکھوں کا امین نہیں ہے بلکہ یہاں خون کے آنسو رُلانے والی اور کہانیاں بھی ہیں۔

اپنے ہی ملک میں دربدر ہونے والے ان لوگوں کی کہانیاں تو مختلف ہیں لیکن دکھ ایک جیسے ہیں۔

ایک خاتون بے نظیر کے شوہر اور بیٹے طالبان میں شامل تھے اور طالبان مخالف قوتوں کے ہاتھوں مارے گئے، جبکہ دوسری طرف صاحب جان ہے ان کے بیٹوں کو طالبان نے مارا اور اب اس خیمے میں یہ دونوں ایک ساتھ ہیں۔

انخلا کے امریکی اعلان کے ساتھ ہی افغانستان میں جو لڑائی شروع ہوئی، اُس سے متاثرہ سیکڑوں خاندان کابل کے شہر نو پارک میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ ہرات، قندوز، تخار اور بدخشاں سمیت افغانستان کے کئی صوبوں سے یہاں آئے ہیں۔

ایسے ہی ایک اور شخص شفیق اللّٰہ کا کہنا ہے کہ "ابھی زندگی بہت خراب ہے ڈھائی مہینے پہلے ہم یہاں آئے، ادھر کچھ نہیں ملتا اب سردی بھی ہوگئی روٹی بھی نہیں ہے پانی بھی نہیں۔ ہمارے بچوں  کی حالت بہت خراب ہے اب سردی آرہی ہے، ہم لوگ کیا کریں۔"

 قندوز کے  شہری محمد ہاشم کو لڑائی کے دوران اس کے سر میں گولی لگی جو ایکسرے میں نظر بھی آرہی ہے لیکن یہ اپنا علاج نہیں کروا پارہا۔

 ہاشم کا کہنا ہے کہ "میرے جسم میں دو گولیاں پیوست ہیں۔ نکلوانے کے لیے میرے پاس رقم کا انتظام نہیں۔ پھیپھڑوں کے دو آپریشن ہوئے ہیں۔ ہفتے میں دو انجکشن لگتے ہیں جس کے لئے میرے پاس رقم نہیں ہے۔ "

ہاشم کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ہمارے 11 بچے ہیں گھر میں، مجھے ہی پالنے ہوتے ہیں، گھر کا کفیل معذور ہوچکا ہے، میں گھروں میں کام کاج کرتی تھی وہ بھی اب نہیں ملتا، بچوں کو کھلانے اور پڑھانے کے لیے بہت پریشان ہوں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کریں۔"

کابل کے پارک میں موجود لوگوں کے لئے کابل میں نہ کوئی روزگار ہے، نہ خوراک ہے اور نہ ہی موسم کی سختی سے بچانے والی چار دیواری اور چھت، جو کبھی خوشحال تھے وہ اب بھیک مانگ کر اور اطراف کے ہوٹلوں سے بچا کھچا کھانا لے کر پیٹ کی آگ بجھانے پر مجبور ہیں۔

افغانستان میں موسم سرما انتہائی سخت ہوتا ہے جو شروع ہوچکا ہے، یہ خستہ حال خیمے ان پناہ گزینوں کو برف باری اور بارش سے ہر گز بچا نہیں پائیں گے۔

شہر نو پارک سمیت کابل میں مختلف مقامات پر موجود پناہ گزینوں نے عالمی امدادی اداروں اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی گھروں کو واپسی اور بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

جنگ کیوں بری ہے اور امن کیوں ضروری۔ اس خیمہ بستی میں رہنے والوں سے زیادہ شاید کوئی نہیں جانتا۔ یہاں ہر خیمے میں جنگ کے شکار لوگوں کی کئی دردناک کہانیاں ہیں، جو دنیا کوجھنجھوڑ رہی ہیں، کیا دنیا ان کی آواز سنے گی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید