• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرانس، برطانیہ ماہی گیری کھینچاتانی، 11 یورپی ملکوں کا برطانیہ کیخلاف مشترکہ محاذ

راچڈیل(ہارون مرزا)فرانس اور برطانیہ کے درمیان ماہی گیری کے معاملے پر کھینچا تانی کے بعد11 یورپی ممالک برطانیہ کیخلاف مشترکہ محاذ کیلئے کھل کر سامنے آ گئے۔ جرمن ، اسپین، اٹلی ودیگر ممالک نے بھی فرانس کے موقف کی تائید کرتے ہوئے ماہی گیری کے لائسنس کی درخواستیں رد کرنے کے عمل کو نامکمل اور نامناسب قر ار دیا ہے ۔فرانس نے برطانیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بریگزٹ کے بعد تجارتی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، ایسے فرانسیسی ماہی گیروں کی اکثریت کو لائسنس دینے سے انکار کیا گیا ہے جو برطانیہ کے پانیوں میں ماہی گیری کرتے رہے ہیں مگر لندن سے جاری سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صرف ان کشتیوں کو لائسنس دینے سے انکار کیا گیا ہے جن کے کپتان اپنی روایتی بنیادوں کے ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہے ہیں، یورپی یونین کے 11 ممالک کی جانب سے یہ بیان لکسمبرگ میں یورپی یونین کے زراعت اور ماہی گیری کے وزراء کی ایک میٹنگ کے بعد سامنے آیا ۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے اس تنازع کے تناظر میں یورپی ممالک سے برطانیہ پر مزید دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے ،فرانسیسی وزیر ماہی گیری اینک گیراردین نے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کے موقف پر فرانسیسی اور یورپی ردعمل اکتوبر کے دوسرے نصف حصے میں منظر عام پر لایا جائے گا اور اس میں سخت اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ گیراردین نے کہا کہ یہ مشترکہ اعلامیہ ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتا ہے کیونکہ صرف ایک اجتماعی ردعمل ہی یورپی یونین کو اپنے برطانوی پارٹنر کے ساتھ مذاکرات کے تسلسل پر غور کرنے کی اجازت دے گا۔ اگر لندن نے چھوٹی فرانسیسی ماہی گیری کی کشتیوں کو برطانیہ کے تاج جرسی اور گرنسی کے قریب گھومنے کے لیے مزید لائسنس نہ دیئے جو فرانس کے نارمنڈی ساحل پر واقع ہیں تو برطانیہ کیخلاف محاذ مزید سخت ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے فرانس کی پارلیمنٹ میں وزیر اعظم جین کاسٹیکس نے برطانیہ پر ماہی گیری کے حوالے سے وعدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ،انہوں نے کہا ہم واضح طریقے سے دیکھتے ہیں کہ برطانیہ اپنے دستخط کا احترام نہیں کرتاہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ دئیے گئے لفظ کا احترام کیا جائے اور وعدوں کی پاسداری ہونی چاہیے ۔

یورپ سے سے مزید