• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت کی معدنی شعبے کیلئے 15 سالہ جامع منصوبہ بندی

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) حکومت نے معدنی شعبے کے لئے 15 سالہ جامع منصوبہ بندی کی ہے۔ جس کی وجہ سے پانچ بڑے منصوبوں کے ذریعے 28 ارب ڈالرز کی مربوط مائننگ ویلیو چین میسر ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق، حکومت نے معدنی شعبے کی ترقی کے لیے ایک جامع ایکو سسٹم بنانے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے ذریعے ایک مربوط مائننگ ویلیو چین قائم کی جائے گی جو کہ آئندہ 10 سے 15 سال میں جی ڈی پی کا 10 فیصد (28 ارب ڈالرز) تک فراہم کرے گا۔ اس حوالے سے پانچ بڑے منصوبوں پر کام ہوگا، ان میں چنیوٹ اسٹیل ملز، کالا باغ اسٹیل ملز، سینڈک میں ایسٹ اور باڈی (ای او بی)، بیرائٹ لیڈ زنک پروجیکٹ اور بولان مائننگ انٹرپرائزز (بی ایم ای، خضدار) اور شمالی وزیرستان کوپر ڈپوزٹ کے منصوبے شامل ہیں۔ مذکورہ پانچ منصوبوں کے لیے روڈ شوز کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاروں کو راغب کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ سات اہم منصوبوں کی فزیبلٹی اسٹڈیز پر بھی کام شروع ہوگیا ہے، ان منصوبوں میں میاں والی اور اٹک میں سولر پینل مینوفیکچرنگ پلانٹ، سالٹ رینچ میں کیمیکل صنعت کا قیام، تھر میں کول گیسیفکیشن پروجیکٹ فزیبلٹی اینڈ بزنس کیس، پنجاب اور کے پی میں سمنٹ پلانٹس، مسلم باغ میں کرومائٹ پلانٹ، نوکنڈی اور چاغی میں منی اسٹیل مل یا آئرن اور پراسیسنگ سہولت اور نگر پارکر میں گرینائٹ سٹی شامل ہیں۔

ملک بھر سے سے مزید