• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوٹہ سسٹم، قانون ساز ادارے جائزہ لیں، پارلیمنٹ قانون سازی کرے، سندھ ہائیکورٹ

کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے پاکستان میں نا انصافی پر مبنی کوٹہ سسٹم کیخلاف دائر آئینی درخواست نمٹاتے ہوئے کہا کہ کوٹہ سسٹم چونکہ قانونی مسئلہ ہے اسلئے قانون ساز ادارے اورلیجسلیٹو کونسل اس معاملہ کا جائزہ لے لیں اور پارلیمنٹ اس پر قانون سازی کرے۔ پاسبان کی آئینی درخواست کے جواب میں سرکاری اداروں اور گورنمنٹ آف فیڈریشن نے عدالت میں جو جواب جمع کرایااس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ کوٹہ سسٹم 2013 میں ختم ہو گیا تھا۔ اسکے بعد سے یہ قانون سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ عوامی مفاد میں کوٹہ سسٹم کیخلاف پاسبان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہاگیا ہے کہ آئین پاکستان کے تحت سرکاری ملازمتوں میں ملک بھر کے عوام کی نمائندگی کیلئے سندھ میں دیہی و شہری بنیادوں پر کوٹہ سسٹم متعارف کرایا گیا تھا۔ جسکی مدت کئی بار توسیع کے بعد ختم ہو چکی ہے لیکن اس ناانصافی پر مبنی کوٹہ سسٹم کے تحت اب بھی تقرریاں کی جا رہی ہیں۔یہ سلسلہ متعصبانہ اور بنیادی حقوق کے برخلاف ہے۔ پاسبان کا موقف ہے کہ کوٹہ سسٹم میرٹ کا قتل عام ہے۔ اس سسٹم کو ختم کرنے کے احکامات صادر کئے جائیں تا کہ اداروں میں میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں اور تقرریاں کی جاسکیں۔کوٹہ سسٹم ہمیشہ کیلئے ختم کر کے ہر سطح پر میرٹ کا نافذ کیا جائے سرکاری اداروں کو کرپشن، لاقانونیت، اقرباء پروری، وڈیرہ شاہی اور لٹیرا شاہی سے نجات مل سکے اور عوام میں احساس محرومی کو ختم کیا جاسکے۔

اہم خبریں سے مزید