• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں ایک سیدھا سادا سا خالو بھالو ہوں ۔ کالے ریچھ کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر اس کے جھانسے میں آگیا تھا ۔ کالے ریچھ نے مجھے غار میں موجود ایک تاریک کوٹھری میں بند کر دیا تھا ۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس صورت حال میں مجھے کیا کرنا چاہیے ۔میں نہیں جانتا تھا کہ کیسے اس خطرناک کالے ریچھ کی قید سے خود کو آزاد کراؤں ۔اس تاریک غار سے کیسے باہر جاؤں ۔

کوٹھری میں لکڑی کی ایک کرسی تھی ۔میں کرسی کے کنارے پہ بیٹھااندر کانپ رہا تھا کہ جانے اب کیا ہوگا۔کالا ریچھ ضرور مجھے جان سے مار دے گا۔

میں مسلسل سوچ رہا تھا ۔پریشانی میں ادھر ادھر دیکھ بھی رہا تھا، مگر اندھیرا ہونے کی وجہ سے مجھے زیادہ کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔

اب تک تو آپ بھی جان گئے ہوں گے کہ میں ایک شریف ،اور بوڑھا سا جان وَر ہوں ۔میں نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تھا۔کسی کا دشمن نہیں تھا ۔کسی کا کبھی برا نہیں سوچا تھا مگر اب میں اپنے بارے میں سوچ رہا تھا،جو کچھ میرے ساتھ برا ہوا تھایا جو ہونے والا تھا میں نے تاریکی میں گھورتے ہوئے بڑ بڑا کر کہا :

’’یا اللہ ۔۔ میں نے کبھی کسی کے ساتھ برائی نہیں کی تو میرے ساتھ برا کیوں ہوا ۔۔۔کہیں ایسا تو نہیں ۔۔۔ کہ میں کالے ریچھ کے بارے میں غلط سوچ رہا ہوں ۔۔کالے ریچھ سے میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے،پھر اس نے مجھے کیوں قید کر لیا ۔۔ ا س نے ضرور میرے ساتھ کوئی مذاق کیا ہے ۔۔۔‘‘

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میں کالے ریچھ کو ذاتی طور پر جانتا نہیں ہوں،نہ وہ مجھے جانتا ہے ۔مذاق تو جان پہچان والے کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔وہ کیوں میرے ساتھ مذاق کرنے لگا ۔۔۔؟میری کچھ سمجھ میں نہیں آرہاتھا ۔میں نے سوچا۔’’چلو پوچھ کے دیکھتا ہوں ۔۔۔‘‘یہ سوچ کر میں نے اونچی آواز میں کالے ریچھ سے کہا:’’ بھائی کالے ریچھ ،تم نے مجھے دوست کہا تھا، دوست بنا کر مجھے اندر آنے کی دعوت دی تھی،اب یہاں بند کردیا ہے ۔۔۔تم مذاق کر رہے ہو نا میرے ساتھ ۔۔۔؟‘‘

جواب میں کالے ریچھ کی غراتی ہوئی آواز سنائی دی ۔

’’ نہیں خالو بھالو، یہ کوئی مذاق نہیں ہے،تمہیں اندازہ نہیں ہو رہاکہ تم ایک بڑی مصیبت میں پھنس گئے ہو۔ میری خوراک بننے والے ہو ۔۔۔میں کچھ ہی دیر میں تمہیں پکا کر کھاؤں گا ۔۔۔‘‘

میں نے حیرانی سے کہا :’’ پکا کر کھاؤ گے ۔۔۔ واقعی ۔۔۔؟ کیا ریچھ بھی کچھ پکا کر کھاتے ہیں۔۔۔؟‘‘

’’ ہاں ۔۔۔کچا گوشت بہت دیر میں ہضم ہو تا ہے،پھر اس کا ذائقہ بھی مجھے پسند نہیں ۔میں دوسرے ریچھوں سے ذرا مختلف ہوں۔کچا گوشت نہیں کھاتا ۔پکا کر کھاتا ہوں،بس ذرامیں آگ جلانے کا انتظام کرلوں،پھر تمہیں بھون کر کھاؤں گا ۔۔۔میں نے سنا ہے چھوٹی نسل کے بھالو کا بھنا ہوا گوشت بہت لذیذ ہو تا ہے ۔۔۔‘‘

اب تو سچ میں میری سٹی گم ہوگئی ۔کالا ریچھ اندھیرے میں اپنے سفید سفید دانت چمکاتے ہوئے بھیانک انداز میں ہنسنے لگا۔اس کے عزائم جان کر میرا خون خشک ہو نے لگا۔میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میرے سفر کا یہ انجام ہو گا۔میں شروع میںہی کسی بھیانک کالے ریچھ کا شکار ہو جاؤں گا۔ا س کی خوراک بن جاؤں گا،وہ مجھے بھون کر کھاجائے گا ۔میں نے سٹپٹاتے ہوئے سوچا:’’ کیا واقعی یہی و ہ چمتکار تھا جس کی تلاش میں اپنے گھر سے روانہ ہو اتھا میں ۔۔۔میرا انجام یہی ہو نا تھا۔۔۔؟کیا میں اس طویل سفر پر صرف اسی لیے گھر سے نکلا تھا کہ راستے میں کالے ریچھ کے پیٹ کا ایندھن بن جاؤں۔۔۔؟

کالا ریچھ اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ا س نے غار میں آگ جلانے کا کام شروع کردیا۔

یہ غار کالے ریچھ کا گھر تھا۔یہاں ا س کی ضرورت کی ہر چیز موجود تھی ۔

کالے ریچھ نے چولھا نکالا ۔ ا س میں لکڑیا ںڈال دیں ،پھراپنے بڑے بڑے ناخنوںکو رگڑ کر اس کی چنگاریوں سے آگ جلادی۔

میں لکڑی کے دروازے کے دوسری طرف کھڑا جھریوں میں سے پھٹی پھٹی نظروں سے یہ سب منظر دیکھ رہا تھا ۔

کالے ریچھ کے ناخنوں سے نکلتی چنگاریاں اور پھر جلتی ہوئی آگ دیکھ کر میرے اوسان خطا ہو گئے ۔

کیسا خوف ناک ریچھ تھا۔اپنے ناخنوں سے آگ جلالی تھی ا س نے ۔۔۔چولہے میں آگ جلنے سے اندھیرے غار میں کچھ روشنی ہو گئی تھی ۔

مجھے اب غار کے اندر کا منظر صاف طور پر دکھائی دینے لگا تھا۔ کالا ریچھ چولہے میں آگ جلا کر خوش ہو رہا تھا۔خوشی سے ناچ رہا تھا۔اپنی بھیانک آواز میں گا رہا تھا۔

’’دعوت ہے بھئی دعوت ہے

کالے ریچھ کی دعوت ہے

آج تو سچ میں دعوت ہے

بھالو بھون کے کھاؤں گا

تکے، کباب بناؤں گا

خوب مزے اڑاؤں گا

’’دعوت ہے بھئی دعوت ہے

کالے ریچھ کی دعوت ہے

آج تو سچ میں دعوت ہے

برسوں بعد ملا ہے موقع

نرم نرم سے گوشت کا تحفہ

ریچھ رہے گا اب نہ بھوکا

دعوت ہے بھئی دعوت ہے

کالے ریچھ کی دعوت ہے

آج تو سچ میں دعوت ہے

اب مجھے پوری طرح یقین آیا کہ میں سچ مچ میں پھنس گیا ہوں ۔کالا ریچھ بہت چالاک تھا۔وہ اپنے غار میں چھپا بیٹھا تھا ۔قریب سے آتے جاتے معصوم اور بھولے بھالے جانوروں کا انتظار کرتا رہتا تھا۔اس نے مجھ معصوم ’’خالو بھالو‘‘ کو دیکھ کر چالاکی سے بے وقوف بناکرچمتکار دینے کا جھانسا دے کر اندر بلالیا تھا۔آنکھیں کم زور ہونے اور سورج کی روشنی سے بچنے کا بہانہ بھی کیا تھا ۔یعنی اس نے مجھے پکڑنے کے لیے جھوٹ بولا تھا اور بتایا تھا کہ روشنی سے بچنے کے لیے اسے بھی کالا چشمہ پہننا پڑتا ہے ۔اس نے یہ بھی جھوٹ ہی بولا تھا کہ اس کا چشمہ بننے کے لیے دکان پر جمع کرایا گیا ہے ۔

آپ تو سب جانتے ہیں کہ جھوٹ بولنے والے کبھی اپنے مقصد میں کام یاب نہیں ہو تے ۔کالا ریچھ بھی ناکام ہو نے والا تھا ۔جوں جوں آگ بڑھ رہی تھی، توں توں میری پریشانی بھی بڑھتی جا رہی تھی ۔میں پریشانی میں ٹہل ٹہل کرسوچنے لگے :

’’ لگتا ہے میرا آخری وقت آگیا ہے ۔۔۔یہ کالا ریچھ مجھے پکا کر کھا جائے گا ۔۔۔ میرا سفر کالے ریچھ کے غار میں ختم ہو جائے گا ۔۔۔ لیکن غلطی میری ہی ہے ۔۔۔مجھے ا س کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے تھا ۔۔۔مجھے احتیاط سے کام لینا چاہیے تھا،مگر اب کیا ہو سکتا ہے۔کاش،کاش میں یہاں سے بچ کرنکل سکتا ۔۔۔اپنے بھانجوں کامی اور مانی خرگوش سے مل سکتا ۔۔۔کاش ۔۔۔کاش۔۔۔مجھ سے بڑی بھول ہوئی ۔۔۔ مجھے اتنی بڑی حماقت نہیں کرنی چاہیے تھی ۔۔۔ اس غار میں داخل ہی نہیں ہونا چاہیے تھا ۔۔۔‘‘

مجھے اب بڑی شدت سے اپنے بھانجوں ،کامی خرگوش اور مانی خرگوش کی یاد آرہی تھی ۔ان کی یاد آئی تو کچھ اور بھی یاد آگیا۔اور میں جیسے اچھل گیا۔مجھے یاد آیا کہ جب میں گھر سے روانہ ہوا تھا تو کامی اور مانی خرگوش نے میرے تھیلے میں کوئی چیز ڈالی تھیں ۔ کہا تھا :’’ خالو بھالو۔۔۔ اگر آپ کسی پریشانی میں مبتلا ہوئے اور مصیبت میں پھنسے تو یہ آپ کے کام آئے گی۔۔۔‘‘

اس وقت تو میں نے کامی کی بات پہ دھیان نہیں دیا تھانہ یہ دیکھا تھا کہ کامی نے میرے جھولے میں کیا رکھا ہے ۔میں یہی سمجھا تھا کہ کوئی کھانے پینے کی چیز ہو گی ،مگر اس وقت مجھے کامی کی بات یاد آئی تو چونک گیا ۔کامی نے کہا تھا :’’اگر آپ کسی پریشانی میں مبتلا ہوئے اور مصیبت میں پھنسے تو یہ آپ کے کام آئے گی ۔۔۔‘‘یہ جملہ یاد آتے ہی میں کھڑا ہوگیا۔

’’ مصیبت ۔۔۔پریشانی ۔۔۔؟ اس سے بڑی پریشانی کیا ہوگی ۔۔۔اس سے زیادہ تکلیف دہ مصیبت کیا ہوگی ۔۔۔میں یہاں کالے ریچھ کے غار میں قید ہو گیا ہوں ۔۔۔کالے ریچھ نے مجھے پکاکر کھانے کا منصوبہ بنا لیا ہے ۔۔۔میں مصیبت میں ہوں ۔۔۔وہ گانا گا رہا ہے ۔۔۔‘‘

میں نے جلدی سے اپنا جھولا کھولا تو وہاں اور بہت سی چیزوں کے ساتھ ایک باریک ،پتلی مگر بے حد مضبوط رسی کا گچھا موجود تھا۔اس کے ساتھ کاغذ پہ لکھا ہوا ایک تراشا بھی نتھی تھا۔

تراشے پہ لکھا تھا :

’’ محترم خالو بھالو ۔۔۔اگر آپ کسی گھر میں ہوں ۔۔۔اور وہاں آگ لگ جائے تو یہ رسی آپ کو بچا سکتی ہے ۔۔۔اس کے ذریعے آپ کمرے کی کھڑکی سے باہر نکل سکتے ہیں ۔۔۔آگ میں جھلسنے سے خود کو بچا سکتے ہیں ۔۔۔‘‘

میں نے یہ پڑھا تو خوشی کے مارے اچھل گیا ۔

’’ یا خدا ۔۔۔یہ تو کمال ہو گیا ۔۔۔‘‘

میری خوشی دیدنی تھی ۔

’’ اب مزہ آئے گا ۔۔۔ ادھر کوٹھری سے باہر کالا ریچھ جشن منا رہا ہے ۔۔۔مجھے پکانے کے لیے آگ جلا رہا ہے ۔۔۔مگر میں یہاں سے نکل جاؤں گا ۔۔۔اس کوٹھڑی میں ایک کھڑکی ہے اس کے ذریعے یہاں سے فرار ہو جاؤں گا ۔۔۔‘‘میں نے ایک بار پھر اطمینان کرنے کے لیے اوپر کی طرف دیکھا کہ وہاں کھڑکی ہے یا نہیں ۔

وہاں ایک کھڑکی تھی،ذرا اونچائی پہ تھی ۔وہاں تک پہنچنا آسان نہیں تھامگر اب میں آسانی سے اس رسی کے ذریعے کھڑکی تک پہنچ سکتا تھا ۔کھڑکی سے نکل کر باہر جا سکتا تھا ۔اپنی جان بچا سکتا تھا ۔میرے پاس وقت کم تھا ۔میں نے وقت ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا ۔رسی کے ساتھ ایک چھوٹا سا مضبوط آنکڑا بھی تھا ۔میں نے جلدی سے کھڑکی کی طرف آنکڑا پھینکا۔لوہے کا آنکڑا پہلی ہی کوشش میں کھڑکی سے باہر جا کر کھڑکی کے کونے سے اٹک گیا۔میں نے رسی کھینچ کر اس کی مضبوطی کا اندازہ لگایا۔

رسی میری توقع سے زیادہ مضبوط تھی ۔میرا وزن سنبھال سکتی تھی ۔میں خالو بھالو ۔۔۔ایک بوڑھا ،بیماربھالو بہت آہستگی سے اس رسی کے ذریعے اوپر اٹھا اور کھڑکی کے ذریعے دوسری طرف اتر گیا۔ عین اس وقت جب میں کھڑکی سے دوسری طرف اتر رہا تھا ۔کالا ریچھ مجھے چولہے پہ چڑھانے کے لیے دروازہ کھول کر کوٹھری میں آیا۔اس نے دیکھا کوٹھری خالی ہے تو وہ اچھل گیا۔اس نے گھبرا کر کھڑکی کی طرف دیکھا ۔میں بڑے مزے سے دوسری طرف اتر رہا تھا ۔بہت مزے کی صورت حال تھی ۔اس کی دعوت کا گوشت کھڑکی سے باہر بھاگ رہا تھا۔ یہ دیکھتے ہی کالے ریچھ کا خون کھول گیا۔اس نے غرا کر کہا:

’’اے خالو بھالو ۔۔۔ بھاگنے کی کوشش مت کرو ۔۔۔شرافت سے واپس آجاؤ ۔۔۔‘‘

اس کی آواز مجھ تک پہنچ گئی تھی ۔میں ابھی کھڑکی سے دوسری طرف اتر رہا تھا لیکن اتنا بھی بے وقوف نہیں تھا کہ کالے ریچھ کے کہنے پہ واپس آجاتا۔ میں کھڑکی کے دوسری طرف لٹک کر باہر نکل گیا۔باہر جا کر میں نے جلدی سے رسی کھینچی اور لپیٹ کر احتیاط سے جھولے میں ڈال لی ۔یہ بہت کام کی چیز تھی۔آئندہ بھی میرے کام آسکتی تھی۔

اس کے بعد میں وہاں رُکا نہیں ۔

اس سے پہلے کہ کالا ریچھ نکل کر میرے قریب پہنچتا ،میں وہاں سے بھاگتا چلا گیا ۔

غار بہت طویل تھا ،تاریکی تھی ،مگر میں اندھیرے میں دوڑتا رہا ۔جس قدر ممکن تھا ، اس حصے سے دور چلا گیا ۔ویسے بھی اگرکالا ریچھ باہر آجاتا اور بھاگ کر مجھے پکڑنے کی کوشش کرتا تو یہ ناممکن تھا۔میں بوڑھا ضرور تھا مگر اتنا بھی لاغر یا کم زور نہیں تھا کہ ریچھ بھاگ کر مجھے پکڑ سکتا ۔ جب جان پر بنی ہو تو میں اتنی تیز دوڑ سکتا تھا کہ مجھے پکڑنا مشکل ہو جاتا۔