• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعمیراتی عمل میں پلستر اور اینٹوں کا استعمال

تعمیراتی عمل میں کئی طرح کے مراحل ہوتے ہیں۔ ایک بار جب بنیادیں ڈال دی جاتی ہیں تو مکان کا اسٹرکچر کھڑا کرنے کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔ پلرز اور چھت کی تعمیر کے بعد جب دیواروں کی تعمیر کی بات آتی ہے تو اس کے لیے اینٹیں یا بلاکس درکار ہوتے ہیں اور پھر ان پر پلستر کرنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں دیوار کی تعمیر میں استعمال ہونے والے بلاکس، اینٹوں اور اس پر کیے جانے والے پلستر پر بات کی جارہی ہے۔

پلستر

پلستر کرنے سے قبل بجلی، سیورج اور گیس وغیرہ کے پائپس کی فٹنگ کا کام مکمل کرلینا چاہیے تاکہ بعد میں دیواروں میں سوراخ وغیرہ نہ کرنا پڑے۔ پلستر کا مسالا بنانے کے لیے باریک اور صاف ستھری ریت استعمال کریں۔ اس کام کو شروع کرنے سے پہلے دیواروں کو اچھی طرح پانی سے تر کرنا چاہیے۔ پلستر کرنے سے پہلے دیوار پر نیرو (پانی میں سیمنٹ گھول کر) لگایا جاتا ہے۔ ماہر ٹھیکیداروں کے مطابق پلستر کی موٹائی آدھا سے ایک آنچ تک ہو تو بہتر ہے۔ 

اگر آپ اس سے زیادہ موٹائی کا پلستر کروانا چاہتے ہیں تو ایسا دو حصوں میں کریں یعنی پہلے رَف پلستر کیا جائے اور پھر اس کے اوپر حتمی پلستر کرنا چاہیے۔ دیوار کے جس حصے میں کنکریٹ اور چنائی کا جوڑ ہو، وہاں پلستر کرنے سے قبل اگر باریک لوہے کی جالی لگالی جائے تو بعدمیں دیوار میں دراڑیں نہیں پڑتیں۔ اگر رنگ و روغن کرنا ہو تو پھر پلستر پر لوہے کا گرمالا نہ مارا جائے بلکہ اس کی جگہ فوم استعمال کرنا چاہیے۔ 

دراصل لوہے کا گرمالا مارنے سے پلستر کی سطح تو نکھر جاتی ہے مگر سیمنٹ اوپر آنے سے پلستر قدرے غیر محفوظ ہوجاتا ہے۔ ایک بار جب پلستر کا کام مکمل ہوجائے تو اس کے بعد کم از کم چار سے پانچ دن لگاتار اس پر پانی سے ترائی کرتے رہنا چاہیے۔

اگر اینٹوں کی دیوار کی موٹائی 4.5″ انچ ہے تو پلستر کا مسالا بنانے کے لیے ایک حصہ سیمنٹ اور چار حصے ریت استعمال کریں، اگر دیوار 9″ انچ یا اس سے بھی موٹی ہو تو مسالے کے لیے ایک حصہ سیمنٹ اور چھ حصے ریت استعمال کرنا بھی ٹھیک رہتا ہے۔ اگر دیوار کسی ایسی جگہ بنائی جارہی ہے، جہاں اس پر زیادہ دباؤ (پریشر) آنا ہے جیسے کہ پانی کی ٹنکی کی دیواریں تو وہاں بھی پلستر کا مسالا بنانے کے لیے ایک حصہ سیمنٹ اور چار حصے ریت استعمال کی جائے۔ اہم بات یہ ہے کہ اینٹوں کی دیوار میں بھلے آپ مسالا ایک حصہ سیمنٹ اور تین حصے ریت پر مبنی استعمال کرلیں لیکن اگر اس کی ترائی ٹھیک سے نہیں ہوگی تو پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ اس مسالے سے بھی خراب اور کمزور ہوگی جس کی ترائی اچھی طرح کی گئی ہو۔

اینٹوں کی تعداد

اس بات کا اندازہ لگانا نہایت آسان ہے کہ رہائشی یا کمرشل عمارت کی تعمیر میں کتنی اینٹیں لگیں گی، اس طرح بجٹ بنانے میں بھی آسانی ہوجاتی ہے۔ اس کے لیے کسی بھی عمارت میں بنائی جانے والی دیواروں کی کل لمبائی کو جمع کریں۔ ماہر ٹھیکیدار کے مطابق ایک کیوبک فٹ میں مسالے کے ساتھ اسٹینڈرڈ سائز کی 13.5اینٹیں لگتی ہیں۔ اگر اینٹ کا سائز بڑا یا چھوٹا ہوگا تو تعداد اسی حساب سے مختلف ہوگی۔ ڈور لنٹل ہاتھ سے کنکریٹ مکس کر کے بھرا جاسکتا ہے بشرطیکہ کنکریٹ ، سیمنٹ، ریت اور کرش کی مقدار پوری ڈالیں۔ کوئی بھی چیز کم یا زیادہ نہ ہو جبکہ بہتر راڈنگ کے ساتھ شٹرنگ بھی اعلیٰ معیار کی ہو۔

بلاکس: قیمت کے لحاظ سے اینٹوں کے مقابلے میں بلاکس سستے پڑتے ہیں اور اگر کوئی بڑی عمارت تعمیر کی جارہی ہو تو پھر یہ فرق کافی زیادہ ہوجاتا ہے۔ بلاکس جلدی جلدی لگائے جاسکتے ہیں اور ان کی چنائی کرتے ہوئے پلستر بھی کم استعمال ہوتا ہے۔ بلاکس سے بنی دیوار کو تیاری کے بعد زیادہ پانی بھی نہیں دینا پڑتا۔ یہ آواز اور حرارت کے خلاف بھی بہترین کام کرتے ہیں۔ اینٹ کے مقابلے میں بلاک کا سائز بڑا ہوتا ہے ،اسی لیے بلاکس کے جوڑ بھی دور ہوتے ہیں اور وہ زیادہ عرصے تک اپنی جگہ پر رہتے ہیں۔ 

اپنے سائز کی وجہ سے اینٹ کی نسبت بلاک بیرونی پریشر برداشت کرنے میں زیادہ کارگر ہیں یعنی اگر بلاکس کی دیوار کو توڑا جائے تو وہ دیر میں ٹوٹے گی۔ اگر عمارت فریم اسٹرکچر کے تحت بن رہی ہے تو پھر بلاکس کا استعمال ہی بہتر رہے گا کیونکہ اس سے رقم کی کافی بچت ہوگی۔ اس کے علاوہ ایسے مکان یا کمرے جن کے بارے میں معلوم ہو کہ مستقبل میں ان پر کوئی دوسری منزل نہیں تعمیر کرنی یا جن کی چھتیں ٹی آئرن وغیرہ کی بنی ہوں تو ان کی دیواروں کی تعمیر میں بھی بلاکس ہی استعمال کیے جائیں۔ تاہم ، بلاکس لگانے کے جہاں فوائد ہیں، وہاں یہ وزن برداشت کرنے میں کافی کمزورہوتے ہیں، ان کی چنائی کے دوران بلاکس میں باریک دراڑیں آنے کے کافی امکانات اور سیم آنے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

اینٹیں: عمارت اگر لوڈبیرنگ کے تحت تعمیر کی جارہی ہے اور مستقبل میں اس کے اوپر ایک اور منزل بنانے یا وزن ڈالنے کا ارادہ ہے تو اینٹوں کی دیوار ہی تعمیر کروائیں اور بلاکس استعمال نہ کریں۔ اینٹیں، وزن برداشت کرنے کے معاملے میں بلاکس سے تین گنا زیادہ طاقت کی حامل ہوتی ہیں۔ چھوٹے سائز کی وجہ سے انہیں تعمیراتی سائٹ پر پہنچانا آسان ہوتا ہے۔ اینٹوں سے بنی دیوار میں دراڑیں نہیں پڑتیں جبکہ سیم آنے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔ 

تاہم، بلاکس کی طرح اینٹوں کے استعمال کے بھی کچھ نقصانات ہیں جیسے کہ یہ حرارت اور بیرونی آوازوں کو روکنے کے خلاف زیادہ مزاحم نہیں ہیں۔ ان کی مجموعی لاگت بلاکس سے زیادہ ہوتی ہے اور ان پر پلستر کے دوران مسالا بھی زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اینٹ سائز میں چھوٹی ہوتی ہے، اس وجہ سے اس کے جوڑ قریب ہوتے ہیں اور بیرونی پریشر پڑنے پر یہ جلدی اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں یعنی اگر اینٹوں سے بنی دیوار کو ایک جانب سے ہتھوڑے سے چوٹ لگائی جائے تو وہ بلاکس سے بنی دیوار کے مقابلے میں جلد ٹوٹ جائے گی۔