| |
Home Page
جمعہ یکم محرم الحرام 1439ھ 22 ستمبر 2017ء
June 30, 2016 | 12:00 am
علمائے کرام کی نگرانی مداخلت فی الدین کے مترادف ہے ،میر واعظ

Todays Print

کراچی (جاوید رشید)کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین اور متحدہ مجلس علماء کے امیر میر واعظ عمر فاروق نے حکومتی سطح پر یہاں کے علمائے کرام اور ائمہ مساجد کی دینی سرگرمیوں پر نگرانی رکھنے کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دینی شخصیات اور علمائے کرام کے حوالے سے اس طرح کے بیانات ایک سنگین مسئلہ اور مداخلت فی الدین کے مترادف ہے اور اس معاملے کی سنگینی کے پیش نظر بہت جلد متحدہ مجلس علماء کا ریاست گیر اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں اس معاملے کا جائزہ لینے کے بعد ایک جامع حکمت عملی وضع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔میرواعظ نے کہا کہ یہاں کے علمائے کرام اور ائمہ مساجد کے حوالے سے سرکاری سطح پر آئے روز کے توہین آمیز بیانات اور ان کی سرگرمیوں کو ہدف تنقید بنانے کا عمل افسوسناک ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ جہاں علمائے کرام کی یہ منصبی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو دین کی طرف دعوت دیں وہیں یہاں کے عوام کے روز مرہ کے مسائل اور مشکلات پر اظہار خیال کرنا حق بجانب عمل ہے اور علمائے کرام کو اس ذمہ داری کی ادائیگی سے کوئی نہیں روک سکتا۔