| |
Home Page
منگل 29 ذیقعدہ 1438ھ 22 اگست 2017ء
حا مد میر
June 30, 2016 | 12:00 am
غیروں کی جنگ، اپنوں کا نقصان

Gheron Ki Jang Apnoon Ka Nuksaan

سحری کے وقت بیدارہوا تو پتہ چلا کہ استنبول کے اتاترک انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر تین بم دھماکے ہو گئے ہیں۔ دل بجھ سا گیا پچھلے کچھ سالوں میں کئی مرتبہ اس ایئرپورٹ پر آنا جانا ہوا۔اس ایئرپورٹ کے عملے کا پاکستانیوں کے ساتھ غیر معمولی طور پر دوستانہ رویہ ہمیشہ اطمینان کا باعث بنتا ہے ۔مجھے اس ایئرپورٹ کے عملے کی مسکراہٹیں، یہاں کے ریستورانوں کی رونقیں اور ترکش ایئرلائنز کے طیارے یاد آنے لگے جن میں سفر کرتے ہوئے اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ایسا لگ رہا تھا کہ یہ حملہ ترکی میں نہیں بلکہ پاکستان میں ہوا ہے ۔میں کھانے کی میز پر بیٹھا اپنی سوچ میں گم تھا اور سحری کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا تھا ۔کچھ کھانے کو دل نہیں چاہا۔ مشکل سے پانی کا ایک گلاس حلق سے نیچے اتارا۔ ٹیلیوژن کی اسکرین پر رمضان کی سحری ٹرانسمیشن کی بجائے استنبول ایئرپورٹ پر تین بم دھماکوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کی خبر بار بار بریکنگ نیوز کے طور پر چل رہی تھی ۔مجھے یقین تھا کہ ترک حکام اس حملے کی ذمہ داری داعش پر عائد کریں گے کیونکہ پچھلے کچھ عرصے میں داعش نے ترکی میں کئی بم دھماکے کئے ہیں میں سوچ رہا تھا کہ مسلمانوں کو مسلمانوں سے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں ۔مسلمانوں کا سب سے زیادہ خون وہ مسلمان بہا رہے ہیں جو اپنے آپ کو بڑا متقی اور نیک سمجھتے ہیں۔
میں چشم تصور سے ان خودکش حملہ آوروں کے بارے میں سوچنے لگا جنہوں نے رمضان المبارک کے مقدس ایام میں جنت میں جانے کیلئے درجنوں بے گناہ مسلمانوں کو قتل کر دیا اور دنیا بھر میں مسلمانوں کو بھی بدنام کیا۔اس دہشت گردی کی مذمت میں مسلمان آگے آگے ہیں لیکن مسلمان یہ سوچنے کیلئے تیار نہیں کہ جو دین انہیں امن اور سلامتی کی تعلیم دیتا ہے اس دین کے پیروکار رمضان میں یہ قتل وغارت کیوں کر رہے ہیں ؟یہ قتل وغارت اس جھوٹ، گمراہی اور بددیانتی سے جنم لے رہی ہے جو مسلم معاشروں میں تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے ۔آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو ایسے بہت سے لوگ نظر آئیں گے جو روزہ رکھ کر جھوٹ بولتے ہیں۔غیبت کرتے ہیں اور معمولی باتوں پر بڑے بڑے بہتان تراش کر فتنہ و فساد برپا کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں ۔ان میں سے اکثر لوگ اسلام کے محافظ بنے نظر آتے ہیں لیکن انہی لوگوں نے مسلمانوں کو ہر جگہ غیر محفوظ بنا رکھا ہے ۔یہ خودساختہ محافظین اسلام دشمنان اسلام کا تو کچھ نہیں بگاڑ پاتے البتہ مسلمانوں کو نقصان پہنچا کر خود کو اہل جنت میں شامل کر لیتے ہیں حالانکہ جنت میں داخلے کا فیصلہ تو اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کو کرنا ہے اور میرے ناقص علم کے مطابق بے گناہوں کا قتل اللہ تعالیٰ کو بالکل پسند نہیں ۔میں سوچ رہا تھا کہ کتنے بدقسمت ہیں وہ علماء اور جہاد کے علمبردار وہ شعلہ بیان مقررین جن کی تقریروں سے متاثر ہو کر تین حملہ آوروں نے استنبول ایئر پورٹ پر اپنے آپ کو دھماکوں سے اڑا لیا اور نقصان صرف مسلمانوں کا کیا ۔
اگر آپ ان حملہ آوروں کے حامیوں سے یہ پوچھیں گے کہ تم نے رمضان کے مہینے میں بے گناہ مسلمانوں کو قتل کرکے کیا حاصل کیا تو وہ آپ کے سامنے قرآن وحدیث کے حوالوں کا ایک انبار لگا دیں گے اور آپ کی تشویش کو دنیا سے محبت کرنے والے ایک کمزور مسلمان کا عدم تحفظ کا احساس قرار دیکر آپ کو شرمسار کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہیں چھوڑیئے ...جب بھی پاکستان کے معروف قوال اور نعت خواں امجد فرید صابری کے قاتل پکڑے جائیں گے اور ان سےپوچھا جائے کہ تم نے رمضان کے مہینے میں ایک عاشق رسول ؐ کو کیوں قتل کیا تو وہ بھی کوئی نہ کوئی دلیل اور جواز ضرور پیش کر دیں گے۔ جس گروہ نے امجد فرید صابری کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے وہ خود کو اسلام کا محافظ قرار دیتا ہے لیکن ہو سکتا ہے ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ دھوکہ ہو اور قتل کسی اور نے کیا ہو ۔قاتل جو کوئی بھی ہے اپنوں میں سے ہے ۔باہر سے نہیں آیا اور رمضان کے مہینے میں ایک مسلمان پر گولیاں برسانے والا شخص اسی معاشرے نے پیدا کیا ہے ۔ جس معاشرے میں رمضان کے مقدس ایام میں رمضان کو کاروبار بنا لیا جائے دین کے نام پر مکروہ فریب کیا جائے، کچھ علماء نمودونمائش اور شہرت پسندی کی بیماریوں کا شکار ہو جائیں اور کچھ قاری و حفاظ خوفِ خدا کو بھول کر جھوٹ بولیں اور غیبت کریں تو ایسے معاشرے میں امجد فرید صابری پر گولی چلانے والے کا پیدا ہو جانا کوئی عجیب بات نہیں ۔حقوق العباد سے غافل مسلمان حقوق اللہ پورے کرنے کے دعوے کیسے کر سکتے ہیں ؟جیسا معاشرہ ہو گا اسے ویسے ہی حکمران ملیں گے ۔ ان حکمرانوں کو کوسنا اپنا ہی مذاق اڑانا ہے۔
استنبول ایئر پورٹ پر بم دھماکوں کی خبر نے اتنا بے چین کر دیا کہ نماز فجر ادا کرنے کے بعد سونے کی بہت کوشش کی لیکن نیند نہ آئی ۔مجھے کچھ سال پہلے ترک صدر طیب اردوان کے ساتھ ہونے والی ایک گفتگو یاد آنے لگی جس میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی شامل تھے ۔اردوان کی گفتگو سے تاثر ملا کہ وہ آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کو ملکی ترقی کے راستے کی رکاوٹ سمجھتے ہیں ۔وہ اپنا اقتدار قائم رکھنے میں کامیاب رہے لیکن ترکی کا امن قائم نہ رکھ سکے۔انہوں نے وہی غلطیاں کیں جو پاکستان نے افغانستان میں کیں۔پاکستان کو افغانستان میں عالمی طاقتوں کے کھیل سے دور رہتے ہوئے صرف اپنی سلامتی و استحکام پر توجہ دینے کی ضرورت تھی لیکن پاکستان نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے فراہم کر دیئے اور ان اڈوں سے ہونے والی کارروائیوں کے ردعمل میں پاکستان بم دھماکوں کی لپیٹ میں آ گیا ۔جو غلطی پاکستان نے افغانستان کے معاملے میں کی وہی غلطی ترکی نے شام میں کر دی ۔ترکی نے شام میں روس کے حامی بشارلاسد کی حکومت ختم کرنے کیلئے شام کے باغیوں کی حمایت کی اور امریکہ کو فوجی اڈے بھی فراہم کر دیئے ۔کہنے کوتو ترکی اور شام دو لبرل اور سیکولر ممالک ہیں لیکن دونوں ممالک کی حکومتوں کے اختلافات میں فرقہ وارانہ سوچ بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔شام کی حکومت کو ایران اور ترکی کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے ۔ترکی اور امریکہ نے مل کر شام کے انتہا پسند مذہبی عسکریت پسندوں کی خوب مدد کی جس نے آخرکار داعش کی شکل اختیار کر لی۔ یہ داعش شام کے خلاف لڑتے لڑتے ترکی سے بھی الجھ گئی ۔ترکی نے ہزاروں شامی مہاجرین کو پناہ دی ۔انہی پناہ گزینوں میں سے داعش کے خودکش حملہ آور جنم لے رہے ہیں ۔عالمی طاقتوں نے شام کو ترکی کا افغانستان بنا دیا ہے ۔افغانستان میں روس کے خلاف لڑنے والوں کو امریکہ نے مسلح کیا اور جب روس نکل گیا تو مجاہدین آپس میں لڑنے لگے ۔شام میں بشار الاسد کے خلاف لڑنے والوں کو ترکی نے مسلح کیا اور اب یہ مجاہدین ترکی کے دشمن بن گئے ۔مشرق وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک مسلمان آپس میں لڑ رہے ہیں ۔سب سے پہلے تو عام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اسلام کو صرف خاص مسلمانوں پر نہ چھوڑ دیں بلکہ اپنے دل ودماغ کو اسلام کی سچی تعلیمات سے مسلح کریں تاکہ کوئی مفاد پرست اسلام کا نام لیکر انہیں گمراہ نہ کر سکے۔دوئم یہ کہ مسلم ممالک کے حکمران اپنی پالیسیاں اپنے عوام کے مفاد میں بنائیں غیروں کی جنگوں میں الجھنے کا نقصان غیروں سے زیادہ اپنوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔