وفاقی بجٹ میں ترقیاتی منصوبے شامل نہ کرنے پرخیبر پختونخوا کا احتجاج
| |
Home Page
جمعہ 27 رمضان المبارک 1438ھ 23 جون 2017ء
May 20, 2017 | 12:00 am
وفاقی بجٹ میں ترقیاتی منصوبے شامل نہ کرنے پرخیبر پختونخوا کا احتجاج

Todays Print

پشاور(نمائندہ جنگ)خیبر پختونخوا حکومت نےآئندہ مالی سال 2017-18کے وفاقی بجٹ میں صوبہ کے تجویز کردہ منصوبے شامل نہ کرنے اور رواں سال پی ایس ڈی پی منصوبوں کےلئے صرف 30فیصد فنڈ جاری کرنے کیخلاف قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں بھر پور احتجاج کیا ہے جس کے بعد وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں خیبر پختونخوا حکومت کے تجویز کردہ متعدد منصوبے شامل کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس گزشتہ روزاسلام آباد میں وزیر اعظم  محمد نواز شریف کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں خیبر پختونخوا کی نمائندگی وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور وزیر خزانہ مظفر سید نے کی ، اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا کی ٹیم نےوفاقی بجٹ میں صوبہ کو نظر اندازکرنے  کے خلاف بھر پور احتجاج کرتے ہوئے  موقف اپنایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا کو اس کے جائز حقوق سے محروم رکھ کر بار بارنظر انداز کیا جارہا ہے ، آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کےلئے خیبر پختونخوا حکومت نے جو  منصوبے وفاق کو ارسال کئے تھے  وہ پی ایس ڈی پی میں شامل نہیں کئے گئے ہیں، رواں سال بھی پی ایس ڈی پی میں شامل صوبہ خیبر پختونخوا کے تین منصوبوں کو ڈراپ کیا گیا ہے جبکہ رواں مالی سال2016-17کے دوران صوبہ کوپی ایس ڈی پی  منصوبوں کےلئے صرف30فیصد فنڈجاری کیا گیا ہے جو ناکافی اور صوبہ کےعوام کو ترقی سے محروم رکھنے کی سازش ہے، خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید نے اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر’’ جنگ‘‘ کو تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ خیبر پختونخوا حکومت نے  جمعرات کے روز پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور جمعہ کے روز قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں صوبہ کے حق کےلئے بھر پور احتجاج کیا ہے، انہوں نے بتایاکہ رواں مالی سال کے دوران صوبہ میں پی ایس ڈی پی منصوبوں کےلئے جو رقم مختص کی گئی تھی اس کا صرف30فیصد جاری کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کرنے کےلئےتین اہم منصوبے مشاورت سے بھجوائے تھے جن میں پشاور کے عوام کو ورسک ڈیم سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نوشہرہ سے اٹک تک جی ٹی روڈ کی ازسر نو تعمیر سمیت مختلف مقامات پر20چھوٹے ڈیموں کی تعمیر شامل تھی  تاہم وفاقی حکومت نے  آئندہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں ان میں سے کوئی منصوبہ بھی شامل نہیں کیا ہے اسی طرح رواں مالی سال کے بجٹ کےلئے بھی وفاقی حکومت کو ملاکنڈ سے دیر تک سڑک کی تعمیر، کوہاٹ اور کرک میں آئی ٹی سکیمیں اورآبپاشی کے مختلف منصوبے پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کےلئے ارسال کئے تھے تاہم گزشتہ سال بھی وفاق نے صوبہ کے ان منصوبوں کو ڈراپ کیا تھا  ، صوبائی وزیر خزانہ نے جنگ کو بتایاکہ خیبر پختونخوا حکومت کے احتجاج کے بعد وزاعظم اور وفاقی حکومت نے  خیبر پختونخوا کے تینوں منصوبے پی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے تاہم  وفاق کی یقین دہانی پر یقین تب ہی آئیگا جب  بجٹ میں یہ منصوبے پی ایس ڈی پی میں خود دیکھیں گے۔