| |
Home Page
منگل یکم ذیقعدہ 1438ھ 25 جولائی 2017ء
July 17, 2017 | 12:00 am
سیاسی منظرنامہ ،باہم مقابل سیاستدانوں کی گرمی گفتار بام عروج پر

Todays Print

اسلام آباد( طاہر خلیل) سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد سیاسی رت کچھ یوں بدلی کہ مون سون کی برساتوں میں باہم مقابل سیاستدانوں کی گرمی گفتار نے سیاسی گرما گرمی کو بام عروج پر پہنچا دیا،16 جولائی اتوار کی چھٹی کے باوجود سیاسی اعتبار سے ایک حدت آمیز دن تھا، اسلام آباد میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گردی کے خلاف خیبرفور آپریشن کے آغاز کااعلان کیا، جے آئی ٹی رپورٹ اور حکومت کے خلاف’’ سازش‘‘ سے متعلق سوالوں کے جواب میں انہوں نے درست کہا کہ جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کی ماتحتی میں کا م کیا، اس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے ارکان شامل تھے اور جے آئی ٹی میں شامل فوج کے ممبرز نے محنت اور ایمانداری سے کام کیا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے حکومت کے خلاف سازش کے الزامات کو یہ کہہ کر مستر د کردیا کہ اس سوال کا جواب دینا بھی مناسب نہیں، اس حقیقت سے ہر کوئی آشنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج گزشتہ 15 برس سے دہشت گردی کے خلاف ایک فیصلہ کن معرکہ آرائی میں مصروف ہیں، آپریشن خیبرفور کا آغاز فوج کے اس عزم کاآئنہ دار ہے کہ فوج ہر رنگ و نسل کے دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں ،مالی مدد گاروں اورمنصوبہ سازوں کا ملک میں ہر جگہ تعاقب کررہی ہے اوراس کا نظریہ ہے کہ دہشت گردی کا فوری اور بےرحم جوا ب ہی اس عفریت کے خاتمے کے لئے موثر ہوسکتا ہے۔

دہشت گردوں کے خلاف فوج کے جاری آپریشنز کے ساتھ سیاست ہمہ جہتی بحران کا شکار ہے، حکومت اورحزب اختلاف کے مابین تندوتیز الزامات کی گھن گرج نے جمہوری عمل پر سیاسی دبائو بڑھا دیا ہے اور حزب اختلاف کی بیشتر جماعتیں وزیراعظم سے مستعفی ہونے کے مطالبے کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہیں۔ اتوار کو اسلام آباد میں چوہدری شجاعت حسین کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ کے اجلاس میں وزیراعظم کے استعفے سے متعلق قرار داد کی منظوری کے ساتھ مسلم لیگیوں کو ایک پلیٹ فارم پراکٹھا کرنے کی تحریک کو بعض حلقے ’’کچھ ہونے‘‘ کے اندیشے کو تقویت دے رہے ہیں ان کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں پیدا شدہ گھمبیر صورتحال کے باوجود کسی بریک تھرو سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔

عمران خان، خورشید شاہ، چوہدری پرویز الٰہی سمیت اپوزیشن کے دیگرسیاستدان بحران کے جلد خاتمے  کیلئے وزیراعظم کی اقتدار سے سبکدوشی کو لازمی قرار دیتے ہیں جبکہ وزیراعظم کا فیصلہ پہلےہی سامنے آچکا کہ ’’استعفیٰ نہیں دوں گا، آخر تک لڑوںگا اور پاکستان کو پیچھے نہیں دھکیلنے دوں گا‘‘ وزیراعظم اور حکمران جماعت سے وابستہ دیگر رہنما بار بار دہرا رہے ہیں ان کے خلاف سازش ہورہی ہے۔ سازش کہاں ہورہی ہے ،کون کررہاہے؟ اس حوالے سے الزامات کے شور کو مدھم کرنے کا کوئی راستہ نہیں دکھاتا،تاکہ تدبیر اور دور اندیشی سے کام لے کر روز افزوں سیاسی کشیدگی کو ختم کیاجاسکے۔ سازش تھیوری کے دالدادہ سیاسی اور فکری عناصر کو بھی سمجھنا چاہیے کہ داخلی استحکام نظر سے اوجھل ہوگا تو ملک اور قوم کے مفادات متاثر ہوں گے اور اگر شاخ جمہوریت ہی نہ رہی تو کہاں کا آشیانہ۔