| |
Home Page
جمعرات 04 ربیع الاوّل 1439ھ 23 نومبر 2017ء
سہیل وڑائچ
November 15, 2017 | 12:00 am
تالیاں

Taaliyaan

69سال پہلے عوام خان پیدا ہوا تو ماہرین علم نجوم نے اسی وقت یہ پیشین گوئی کر دی تھی کہ یہ سعد نہیں نحس لمحے میں پیدا ہوا ہے اس لئے یہ جس کو بھی اپنا آئیڈیل یا ہیرو بنائے گا وہ بالآخر اس کو شرمندہ اور شرمسار کرے گا۔ ستارہ شناسوں نے کہا کہ اس کے سارے ہیرو مصنوعی، جھوٹے اور بھٹکے ہوئے ہوں گے مگر عوام خان سادگی میں ان کو اپنا ہیرو بنائے گا ان کی دل ہی دل میں پوجا کرے گا، سوچے گا کہ یہ ہیرو میرے ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا، اس ملک میں انصاف اور قانون کا بول بالا کر دے گا۔ عوام خان کو جسٹس منیر کی دانش اور انصاف پسندی سے بڑی امیدیں تھیں مگر یہ قابل ترین لبرل اور پڑھا لکھا جج بھی تمیز الدین کیس میں نظریۂ ضرورت کا شکار ہو گیا۔ عوام خان نے پھر بھی تالیاں بجائیں کہ شاید یہ فیصلہ ملک کے لئے بہتر ہو گا مگر عوام خان کو جلد ہی احساس ہوا کہ اس کی تالیاں غلط تھیں۔ نظریۂ ضرورت نے تو وہ غلط بنیاد رکھ دی ہے جس پر ہر طالع آزما اپنی دیوار کھڑی کرے گا اور یوں ملک بار بار عدم استحکام کا شکار ہوتا رہے گا۔
عوام خان بڑا خوش فہم اور بھولا بھالا ہے جسٹس شیخ انوار الحق چیف جسٹس بنے تو اس نے پھر بڑی تالیاں بجائیں اس کا خیال تھا کہ بیورو کریسی کا تجربہ رکھنے والے شیخ خاندان کا یہ فرد مولوی مشتاق حسین کے متعصبانہ فیصلے کو رد کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو کو باعزت بری کر دے گا۔ عوام خان کا خیال تھا کہ جج آمروں سے نہیں ڈرتے کیونکہ انہیں آئین کا تحفظ حاصل ہوتا ہے لیکن عوام خان کو اس وقت شدید مایوسی ہوئی جب بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ ہوا۔ عوام خان کا عدالتوں اور انصاف پر سے اعتماد اٹھ گیا۔ عوام خان کئی سالوں تک دل ہی دل میں ناراض رہا مگر پھر بھی اس بجھی راکھ میں کبھی کبھی کوئی شرارہ بھڑک اٹھتا تو عوام خان کو امید بندھتی کہ اب حالات بدلیں گے۔ جسٹس مارشل کی طرح کا کوئی جج آکر امریکہ کی طرح پاکستان میں بھی فیڈرلزم کو لاگو کرے گا، اپنے ایک ہزار سے زائد فیصلوں کے ذریعے عدل و انصاف کے پھریرے لہرا دے گا جو اتنا محنتی ہو گا کہ جسٹس مارشل کی طرح 500سے زائد فیصلے خود لکھ کر نظام انصاف کو نئی بنیادیں فراہم کرے گا۔
طویل وقفے کے بعد اندھیری رات میں پھر ایک پھلجڑی پھوٹی عوام خان سمجھا کہ بس روشنی کی آمد آمد ہے۔ جسٹس افتخار کے انکار کو اس نے ایک خدائی اشارہ سمجھا اور انصاف کے سنہرے دور کو لانے کے لئے تالیاں بجانے لگا، نعروں کی ضرورت پڑی تو نعرے لگائے حتیٰ کہ عوام خان نے پرزور احتجاجی تحریک چلائی اور بالآخر افتخار چوہدری کو انصاف کے سنگھاسن پر بٹھا کر ہی چھوڑا۔ عوام خان اس دن از حد خوش تھا کہ اس کا یہ ہیرو ماضی کے آئیڈیلز سے مختلف ہے یہ اسے کبھی دھوکہ نہیں دے گا۔ شروع میں عوام خان ہر روز سینہ تان کر افتخار چوہدری کے کارنامے لوگوں کو سناتا تھا اور کہتا تھا اب سب کچھ بدل جائے گا، نظام انصاف بدلے گا، طرز حکمرانی بدلے گا، کرپٹ پکڑے جائیں گے، سیاستدان ٹھیک ہو جائیں گے، بیورو کریسی کا احتساب ہو گا، سارے لاپتہ لوگ واپس آئیں گے، ایجنسیوں کو عدالتوں کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ عوام خان پُرامید تھا کہ جسٹس چوہدری یہ سب کچھ کر دکھائے گا۔ اس زمانے میں انصاف کی پتنگ اس قدر اونچی اڑ رہی تھی کہ ایک بار چوہدری شجاعت حسین نے بھری محفل میں کہہ دیا کہ آج کل ہماری حکومت نہیں بلکہ جسٹس افتخار چوہدری کی حکومت ہے وہی وزیر اعظم، وہی صدر اور وہی چیف جسٹس ہیں۔ اتنا بااختیار چیف جسٹس شاید ہی کبھی تاریخ میں آیا ہو۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی ریٹائرمنٹ قریب آئی تو عوام خان بولایا ہوا پھر رہا تھا کہ اب عدل و انصاف کا کیا ہو گا؟ خیر جب اس سرشاری کا نشہ اترا تو عوام خان کو احساس ہوا کہ اس کے ساتھ پھر ہاتھ ہو گیا ہے کیونکہ اس کے ہیرو نے اخبارات کی شہ سرخیاں اور ٹی وی کے ٹکرز تو بہت بنوائے مگر عملی طور پر کچھ بھی نہ کیا۔ نہ نظام عدل ٹھیک ہوا اور نہ طرز حکمرانی بہتر ہوئی۔ فاضل جج صاحب کا طوطی تو بہت بولا مگر نہ درختوں پر ہریالی آئی اور نہ ہی کہیں پھل لگا۔ عوام خان مایوس کا مایوس ہی رہا۔ تالیاں پیٹتے پیٹتے اس کے ہاتھ سرخ ہو گئے مگر تالیوں کی گونج کے باوجود اندھیرے میں روشنی نہ ہو سکی۔ یہ افتخاریہ پھلجھڑی بھڑکی پھڑکی اور پھر بجھ گئی۔
عوام خان بہت جلد متاثر ہو جاتا ہے ہر راہگیر کو راہبر سمجھ لیتا ہے بعد میں اسے علم ہوتا ہے کہ وہ راہبر نہیں راہزن تھا۔ جب توہین عدالت کے جرم میں پہلا وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی گھر بھیجا گیا تو عوام خان نے بہت تالیاں پیٹیں چوک میں کھڑے ہو کر بھنگڑا بھی ڈالا اور نعرے لگائے کہ اشرافیہ کا احتساب اب شروع ہوا ہے، اب انصاف کا بول بالا ہو گا، اب انقلاب آئے گا، اب کسی غریب کا استحصال نہیں ہو گا، اب انصاف کے ذریعے استحصال کا خاتمہ ہو گا۔ عوام خان ابھی متحیر تھا کہ دوسرے وزیر اعظم کو بھی آرٹیکل 184/3کے تحت نکال دیا گیا۔ عوام خان نے پھر تالیاں بجائیں اور کہا کہ اب اس کا ہیرو سب ٹھیک کر دے گا سب بدل دے گا۔ عوام خان تالیاں بجا رہا تھا کہ غریب خان نے اسے ایک طرف لے جا کر کہا کہ عوام خان تمہیں جوتے کھانے کی عادت پڑ چکی ہے، تمہیں شکایت صرف یہ ہے کہ جوتے کھانے کے لئے لمبا انتظار کرنا پڑتا ہے، تمہاری خواہش صرف یہ ہے جوتے مارنے والے بڑھا دیئے جائیں۔ اور جب تمہارا یہ مطالبہ پورا ہو جائے گا تو تم زور زور سے تالیاں بجائو گے اور بادشاہ کے عدل و انصاف کے گن گائو گے۔
غریب خان نے عوام خان سے کہا حدیبیہ پیپر مل کے بنچ ٹوٹنے پر تم نے پھر بہت تالیاں بجائیں حق و انصاف کے لئے نعرے لگائے مگر یاد رکھو بروٹس بہت پڑھا لکھا، ایماندار اور قابل احترام شخص تھا مگر تاریخی غلطی کرتے ہوئے سیزر کے قاتلوں میں شامل ہو گیا اسی لئے شیکسپیئر نے بروٹس کے لگائے گئے زخم کو سب سے غیر مہربان زخم (The Unkindest cut of all)قرار دیا۔ پڑھا لکھا اور لبرل جسٹس منیر یا قابل جسٹس شیخ انوار الحق آئین اور قانون کی نئی تشریح کرے یا پھر آج کے آئین اور قانون کے سب سے بڑے شارح جمہوریت کے مستقبل پر ہی وار کریں تو عوام خان مایوس تو ہو گا، وہ اپنی سادگی میں تالیاں بجائے گا مگر مستقبل کی تاریخ میں اس کے یہ ہیرو بھی بروٹس کی طرح کا ہی نام کمائیں گے۔