| |
Home Page
اتوار یکم جمادی الثانی 1439ھ 18 فروری 2018ء
آصف علی بھٹی
February 13, 2018 | 12:00 am
بیک ڈور ڈپلومیسی،پاک امریکہ تعلقات بحالی کاراستہ

Backdoor Diplomacy May Open New Vistas Of Pak Us Relations

جب بھی امریکہ کا سفر کرتا ہوں، امریکہ میں موجود لاکھوں پاکستانی تارکین وطن کے مسائل اور ان کو درپیش پریشانیوں کے نئے قصے سننے کو ملتے ہیں، بطور صحافی ان مشکلات کا ازالہ تو بس میں نہیں لیکن ان کو ضبط تحریر لا کر دونوں ملکوں کی سرکار کی توجہ کے قابل بنانا ہماری مقدور بھر کوششوں کا حصہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ دیار غیر میں محنت مزدوری اور مختلف اہم ترین پیشوں میں خدمات سرانجام دینے والے ہمیشہ اپنے وطن کی تڑپ میں دن رات غلطاں رہتے ہیں، اربوں ڈالر پیارے وطن بھجوانے والے اپنے ہم وطنوں کی ہمت کو داد دینی چاہئے کہ اپنے ملک و قوم کی عزت اور مقام کی خاطر جو ہوسکتا ہے کر گزرتے ہیں، امریکی انتظامیہ کے حالیہ خطرناک ارادوں اور امیگرنٹ مخالف پالیسیوں کے اعلانات نے ان کے عزم کو کم کرنے کی بجائے مزید مضبوط کیا ہے، اندرون وبیرون ملکی ناموس کا تحفظ اصل ذمہ داری تو پاکستان کی اشرافیہ کی ہے جو ریاست پر کبھی آمریت اور کبھی جمہوریت مسلط کر کے حکمرانی تو کرتی ہے لیکن عوام بالخصوص تارکین وطن کے مسائل کا ادراک تک نہیں کرتی۔ ان کے ذاتی مفادات، کاروبار اور تعلقات تو امریکہ سے وابستہ ہیں لیکن یہاں آکر اپنے وطن کا مقدمہ لڑنا ان کے لئے چیلنج بن جاتا ہے میرے مشاہدے میں ہے کہ وزیراعظم سمیت اہم وفاقی وزرا جب بھی امریکہ جاتے ہیں تو وہ پاکستان کا کیس مضبوط حکمت عملی یا ٹھوس پالیسی کی بجائے زبانی کلامی اور محض بڑے دعوئوں سے لڑنے کو ترجیح دیتے ہیں، حالانکہ امریکہ تمام تر منفی سوچ اور متضاد حکمت عملی کے باوجود یقین رکھتا ہے کہ جنوب ایشیائی خطے بالخصوص افغانستان میں امن کا مستقل قیام پاکستان کے کردار کے بغیر ممکن نہیں۔ امریکہ کو اچھی طرح احساس اور یقین ہے کہ اگر جنگ مسلط کرنے کا راستہ یہاں سے بنا تھا تو اب امن کوششوں کے تمام راستے بھی پاکستان سے ہی ہوکر گزرتے ہیں۔ حقیقت کا سیاہ پہلو ماضی میں پاکستانی ’قیادت‘ کا غیر سے اخلاص، تابعداری اور اپنی قوم سے غداری کے فیصلوں سے مزین ہے، ایک کال پر ڈھیر ہو کر پاک سرزمین و فضا سمیت سفری ومواصلاتی نظام بےمول وقف کرنا وفاداری کی نشانی نہیں، ہماری تاریخ پر بدنما داغ ہے، اپنے ملک میں انتشار اور دہشت گردی کا راج، معاشرے کی سیاسی ومذہبی انتہا پسندی کے اسباب پیدا کرنا ہمارے گلے کا طوق ہے، معاشی، تجارتی، تعلیمی اور معاشرتی ڈھانچے کی تباہی ہمارا مقدر بنا دیا گیا ہے، دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے ہزاروں جانوں کی قربانی اور اربوں ڈالر کا نقصان ہمارا نصیب ٹھہرا ہے۔ ماضی کا پردہ چاک کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ستر برسوں میں پاک امریکہ تعلقات بےتکلفی و بےباک الفت کے نشیب وفراز اور انتہائی بےکیف حالات کا شکار رہے ہیں، بدترین تعلقات کی حالیہ لہر بھی بے مثال ہے۔ شاید ایک مرتبہ پھرعالمی سطح پر بدحالی و بدامنی تقاضا کر رہے ہیں کہ بادشاہ اور رعایا کے تصور پر استوار تعلقات کو اب باہمی احترام اور برابری کے تقاضوں میں ڈھالا جائے، فیصلہ کن موڑ کا خیال انگڑائی لے رہا ہے کہ، خود اعتمادی، خودمختاری، خودداری اور سمجھداری سے اپنے پائوں پر کھڑا ہوا جائے، لیکن یہ محض اندازوں اور دعوئوں سے ممکن نہیں، عملی اقدامات پہلی شرط ہیں، دوست کی بداعتمادی کے اظہار کے بعد پاکستان کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت نے ایک صفحے پر رہتے ہوئے مشترکہ سوچ وحکمت عملی کا واضح اظہار کیا ہے، میری اطلاع کے مطابق پاکستان کی نئی اسٹرٹیجی نے معاملات میں بہتری کے آثار نمایاں بھی کئے ہیں، تاہم افغانستان میں دہشت گردی کے حالیہ پے درپے واقعات نے امریکی انتظامیہ کی پریشانی کو مزید بڑھا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ ابھی خاموشی تو ہے لیکن نئی امریکی جنوبی ایشیائی پالیسی پر عمل درآمد روکنے یا اس کو تبدیل کرنے کا عندیہ نہیں دیا گیا ہے۔ موجودہ گمبھیرحالات میں بھی امریکہ میں برسوں سے مقیم قابل فخر پاکستانیوں نے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی بحالی، تعلقات کی بہتری اور مضبوطی کا بیڑا اٹھایا ہے، امریکن پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی ’اپپیک‘ بنا کر دونوں ملکوں کی نمایاں شخصیات، رہ نمائوں اور قیادت کو ایک میز پر بٹھانے کا پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے، کمیٹی چیئرمین نیویارک کی معروف پاکستانی امریکن شخصیت اور دل کے امراض کے ماہر سرجن ڈاکٹر اعجاز احمد اب دونوں ملکوں کے دلوں کی پیوندکاری کا کام شروع کر چکے ہیں، وزیرخارجہ خواجہ آصف اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری کی اپپیک کی ہر ممکن سپورٹ اور منتخب امریکی حکومت و ارکان پارلےمنٹ کی توثیق نے اس اہم فورم کی ذمہ داریوں میں اضافہ کر دیا ہے، اپپیک نے تمام امریکی ریاستوں میں اپنے پائوں پھیلا دیئے ہیں اور وہاں مقیم تمام پاکستانی بالواسطہ یا بلاواسطہ اس فورم کا حصہ بن رہے ہیں، پاکستان ایک ذمہ دارایٹمی صلاحیت کا حامل خودمختار اور طاقتور ملک ہے، اگر طاقتوروں سے لڑنا اور تعلقات کو خراب کرنا مفاد میں نہیں تو عزت واحترام کے ساتھ جینا تو بطور آزاد قوم ہمارا حق ہے، لہٰذا اپنی بات اور سچ کے اظہار کی ہمت تو کرنی چاہئے، ابھی براہ راست بات چیت کے حالات یا امکانات نہیں تو کم از کم امریکن پاکستانی پبلک افیئر کمیٹی کے ذریعے درپردہ کوششوں یعنی ’بیک ڈورڈپلومیسی‘ یا پس پردہ رابطہ کاری سے معاملات سلجھانے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے، حکومتی سرپرستی سے ناصرف دوطرفہ سردمہری کا خاتمہ ممکن ہوگا بلکہ مستقل، پائیدار اور باہمی مفادات پر مبنی بااعتماد تعلقات کی بنیاد بھی رکھی جاسکتی ہے۔ دوسری طرف امریکی قیادت اور عوام پر آشکار کرنے کا سنہری موقع ہاتھ آسکتا ہے کہ افغانستان میں بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کی موجودگی اور مشکوک سرگرمیاں پاکستان ہی نہیں پورے خطے کی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ ہیں، ون بیلٹ ون روڈ سی پیک پر تشویش بلاجواز ہی نہیں حقائق کے برعکس بھی ہے، پاکستان کی دہشت گردی سے تباہ حال معاشی و اقتصادی صورتحال کا ادراک، بے پناہ جانی قربانیوں کا اعتراف، انفراسٹرکچر کی تعمیرنووجنگی فوجی ضروریات کا احساس کرنا لازمی امر ہے، پاکستان اور امریکہ کا بااعتماد اتحادی رہنا اور دوستی کا رشتہ دنیا میں امن وسلامتی کی کنجی بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری قیادت کو بھی ماضی سے باہر آنا ہوگا، ’تزویرانی گہرائی‘ کو متروک قرار دینا ہوگا، دہشت گردی و انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے لئے اپنے ایکشنز میں اخلاص کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ دنیا اور پوری قوم کا یقین واعتماد بحال ہوسکے، یہی ہم سب کی فتح بھی ہوگی، وزیرداخلہ احسن اقبال نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران اپپیک کی تقریب سے خطاب میں واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات کے تانے بانے گیم چینجر منصوبے سی پیک سے غلط طور پرملائےجا رہے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سی پیک ایک ترقی کا منصوبہ ہے یہ امریکہ سمیت کسی بھی ملک کےخلاف نہیں، یہاں تک کہ بھارت بھی خطے کی ترقی کے عظیم منصوبے کا حصہ بن سکتا ہے، پاکستان پر پابندیاں لگا کر مخصوص مقاصد کے حصول کے لئے دبائو ڈالنا کوئی بہتر حکمت عملی نہیں حالانکہ پاکستان نے انتہائی مخلصانہ کوششوں سے اپنی سرزمین دہشت گردوں سے پاک کردی ہے، اب امریکہ اگر افغانستان میں امن چاہتا ہے تو اس کے لئے پاکستان کے بغیر یا اس کو بلاجواز دبائو میں لا کر فتح کا حصول مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا، لہٰذا دونوں ملکوں کو باہمی احترام اور مشترکہ کامیابی کے اصول پر کاربند ہوکر آگے بڑھنا ہوگا، اسی سے جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا میں قیام امن کی راہ ہموار اور باہمی مفادات کا تحفظ ممکن ہوسکتا ہے۔