ہمارے بیشتر ادارے اپنا فرض کما حقہٗ ادا نہیں کر پا رہے۔ یہ کوئی محلِ نزاع بات نہیں، روز کا مشاہدہ ہے: عدالت ہو یا شفاخانہ، سرکاری دفتر ہو یا نجی اِدارہ، فیصلے ناقص، تدبیر ناتمام، اور انجام بیشتر حسرت ناک۔ مگر اِس مشاہدے کو اُسکی منطقی منزل تک پہنچائیے، تو ایک ایسا سوال اٹھتا ہے جو دل کو بے کل کر دیتا ہے۔دلیل سیدھی ہے۔ اگر کسی ادارے کے نتائج پون صدی سے مسلسل ناقص ہیں، اور اُسے چلانیوالے واقعی وہی لوگ ہیں جو اُسکے منتظم کہلاتے ہیں، تو ہم اِس نتیجے سے کیونکر بچ سکتے ہیں کہ خود منتظم طبقے میں اہلیت کی کمی ہے۔ قابل ہاتھوں سے مسلسل برے نتائج برآمد نہیں ہوا کرتے۔ یہ کوئی طعنہ نہیں، محض منطق ہے۔ سو دیکھنے والا یہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ ہمارے ادارے، اکثر اوقات ہمارے سب سے قابل لوگوں کے ہاتھ میں نہیں۔اب اصل سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ اِسکی دو ہی ممکنہ وجوہ ہیں۔ یا تو اِس ملک میں قابل لوگ سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتے، کہ ہم قحط الرجال میں مبتلا ہیں یا پھر قابل لوگ پیدا تو ہوتے ہیں، مگر ہم اُنہیں منتظم کی مسند تک پہنچنے نہیں دیتے۔پہلی توجیہ کو رد کر دیجیے، کیونکہ خام ذہانت کا نزول ہر قوم میں یکساں ہے۔ لاہور کا بچہ بوقتِ پیدائش برلن کے بچے سے ذرہ برابر کم ذہین نہیں ہوتا۔ ذہانت کسی کی موروثی جاگیر نہیں۔وہ ایوان میں بھی اترتی ہے اور کلبۂ احزاں میں بھی، اور یہ نہیں دیکھتی کہ ماں کے ہاتھ میں کنگن ہیں یا محنت کے آبلے۔ ماہرینِ نفسیات جسے ”ذہین“ کہتے ہیں، یعنی وہ اڑھائی فیصد بچے جو آئی کیو کے ایک سو تیس سے زیادہ کے معیار پر پورے اترتے ہیں، غیرمعمولی ٹھہرتے ہیں۔ اِس حساب سے، ہر برس اِس دھرتی پر قریب ایک لاکھ بہتر ہزار نابغے آنکھ کھولتے ہیں۔ سو جوہر کا قحط نہیں، نقص ہماری نگہداشت اور چناؤ میں ہے۔ ذہانت وہ خزانہ ہے جو زمین میں دبی دھات کی مانند ہر بستی، ہر گاؤں، ہر جھونپڑی میں بکھرا پڑا ہے مگر ہم اُس کا عشرِ عشیر بھی کھود کر باہر نہیں لاتے۔
سنہ انیس سو تیرہ میں مدراس کی بندرگاہ کا ایک غریب کلرک، جسکے پاس کسی جامعہ کی سند نہ تھی، ریاضی کے ایسے نکتے دریافت کر رہا تھا جو صدیوں کے تربیت یافتہ ذہنوں سے چھوٹ گئے تھے۔ اُس نے اپنی دریافتیں کیمبرج کو لکھ بھیجیں۔دو ریاضی دانوں نے کاغذ بے دیکھے لوٹا دیے، مگر تیسرے، ہارڈی نے پڑھا اور پکار اٹھا کہ یہ صدیوں میں ایک بار پیدا ہونیوالا دماغ ہے۔ یوں رامانوجن، جو ایک گمنام کلرک کی حیثیت سے مر کھپ جاتا، دنیا کے عظیم ترین ریاضی دانوں میں شمار ہوا۔ مگر وہ محض ایک خط، اور ایک پہچاننے والی آنکھ کے فاصلے پر تھا۔ اُن ہزاروں کا کیا ہوا جن کا خط کبھی نہ پڑھا گیا؟نصف صدی پر محیط ایک تحقیق بتاتی ہے کہ بارہ برس کی عمر میں غیرمعمولی ذہین قرار پانیوالے بچے، بہتر تعلیم ملنے پر، اعلیٰ اسناد، ایجادات اور قیادت کے مناصب کہیں زیادہ حاصل کرتے ہیں۔ گویا ذہانت بھی موجود ہے اور اُسے نکھارنے کا نسخہ بھی، ہم محض دونوں سے آنکھ چراتے ہیں۔اور غیرمعمولی ذہن صرف اپنا کام ہی بہتر نہیں کرتا، بلکہ اپنے ارد گرد کے سو افراد کو بھی بارآور بنا دیتا ہے۔ تحقیق کی رُو سے اقوام کے پیداواری فرق کا ایک تہائی تک محض نظم و انصرام کے معیار سے پھوٹتا ہے۔ سو جب اوسط ذہن اہم کرسیوں پر بیٹھتے ہیں تو پورا معاشرہ اُنکے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔تو یہ غیرمعمولی بچے جاتے کہاں ہیں؟ معیاری تعلیم اِس ملک میں مہنگی اور بیشتر نجی ہے۔ ایک اچھے اسکول کی فیس کم از کم پندرہ ہزار روپے ماہانہ ہے، جو صرف بالائی پانچ فیصد گھرانوں کو میسر ہے۔ اور چونکہ ذہانت کا نزول اندھا ہے، اِن نابغہ بچوں کی غالب اکثریت اُنہی پچانوے فیصد محروم گھروں میں جنم لیتی ہے: قریب ایک لاکھ چونسٹھ ہزار۔اور وہ کلیدی مناصب جنہیں اِن نابغوں نے سنبھالنا تھا؟ اِس ملک میں ایسے قریب پانچ لاکھ چالیس ہزار منصب ہیں، ہر پانچ میں سے چار نجی شعبے میں۔ تیس برس کی ملازمت کے حساب سے، ہر سال قریب اٹھارہ ہزار نئے نابغوں کی ضرورت پڑتی ہے۔مگر بالائی پانچ فیصد کے اپنے غیرمعمولی بچے فقط ساڑھے آٹھ ہزار، اور اِن میں سے بھی آدھے خوشحالی کے عیوب سے بچ نہیں پاتے۔ سو ہر چار میں سے تین مناصب خوشحال طبقے کے اوسط بچوں کے حصے میں آتے ہیں، اِس لیے نہیں کہ اُنہوں نے ناداروں کے ذہین ترین کو ہرایا، بلکہ اِس لیے کہ نادار کا ذہین ترین بچہ میدان میں اترا ہی نہیں۔ جسے ہم ”مقابلہ“ کہتے ہیں، وہ دراصل خوشحال گھرانوں کے نالائق بچوں کی آپس کی دوڑ ہے۔اِس زیاں کی قیمت ہر سال قومی پیداوار کا قریب آٹھ فیصد ہے، اور یہ اندازہ بھی محتاط ہے۔
جریدے اِکنامیٹریکا کی تحقیق بتاتی ہے کہ امریکہ میں محض عورتوں اور سیاہ فاموں کی راہ کی رکاوٹیں ہٹانے سے فی کارکن پیداوار کی نمو کاپانچواں حصہ اضافی حاصل ہوا۔ہماری رکاوٹیں تو پچانوے فیصد گھرانوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ سو آٹھ فیصد کم از کم اندازہ ہے، اصل زیاں اِس سے کہیں فزوں تر ہے۔علاج سادہ ہے۔ پہلا قدم: ہر بچے کی بے لاگ آزمائش چوتھی پانچویں جماعت میں، جب مہنگی کوچنگ نے ابھی فرق پیدا نہ کیا ہو۔ نہ سفارش، نہ درخواست، فقط خام جوہر کی شناخت۔ دوسرا قدم: اِن چنیدہ بچوں کیلئے، چھٹی سے بارھویں جماعت تک، ریاست کے خرچ پر مفت رہائشی درسگاہیں۔ حساب صاف ہے: ملک کو سالانہ قریب اٹھارہ ہزار منصب بھرنے ہوتے ہیں، اور اِن درسگاہوں میں کامیابی کی شرح اسی فیصد تک پہنچ سکتی ہے، سو سالانہ قریب ساڑھے بائیس ہزار کا داخلہ ہماری ضرورت پوری کر دیتا ہے۔ یہ قریب ایک سو ساٹھ درسگاہیں بنتی ہیں، ہر ایک میں ایک ہزار بچے، اور یہ سب اُسی ایک لاکھ چونسٹھ ہزار کے خزانے میں سے ہیں جسے ہم ضائع کرتے ہیں، یعنی اُس کا ساتواں حصہ بھی نہیں۔ اور یہ سرکاری محکمے نہ ہوں: عمارتیں نجی سرمائے سے اٹھیں اور نظم نجی اداروں کے سپرد ہو۔اِس پہلے مرحلے کی سالانہ لاگت، تمام درسگاہیں بھر جانے پر، قریب ایک سو اڑتیس ارب روپے ہو گی۔ تناظر یہ ہے کہ پاکستان کا سرکاری شعبہ تعلیم پر پہلے ہی قریب بائیس سو ارب روپے سالانہ خرچ کرتا ہے۔ یوں یہ منصوبہ موجودہ تعلیمی خرچ کے ہر سولہ روپے میں سے ایک کے برابر ہےاور وہ ایک روپیہ اُس زیاں کے مقابل ہے جو قومی پیداوار کے آٹھ فیصد سے کم نہیں۔بات گھوم پھر کر ایک ہی نکتے پر آن رکتی ہے۔ بچے کی ذہانت محض اُس گھر کی ملکیت نہیں جہاں وہ اتفاقاً پیدا ہوا،وہ سارے معاشرے کی امانت ہے۔ سو قدرت کی اِس عطا کو غربت کی دہلیز پر دم توڑتے دیکھنا اور دستِ کرم نہ بڑھانا معاشی خودکشی کے سوا کچھ نہیں۔ نابغوں کا غربت کے سبب ضائع ہونا قدرت کا نہیں، اب ہمارا اپنا فیصلہ ہے اور یہ فیصلہ اِس قوم کو بہت مہنگا پڑ رہا ہے۔