مولانا روم کی مثنوی میں ایک شاہین کا ذکر ہے۔بادشاہ کا شکاری باز، تیز نظر، بلند پرواز جسکی جگہ شاہی کلائی پر تھی اور جس کا میدان کھلا آسمان۔ ایک دن وہ راہ بھٹک کر ایک بڑھیا کی جھونپڑی میں جا گرا۔ بڑھیا نے اس کے لمبے پنجے دیکھے تو ترس کھا کر، محبت کے جوش میں، قینچی اٹھا کر شاہین کے وہی پنجے، وہی چونچ، وہی پر کاٹ دیے جو اس کے شکار کا اصل ہتھیار تھے۔ بیچارہ باز، مجروح اور بے بال و پر، روتا رہااور بادشاہ کی اُس کلائی کو یاد کرتا رہا جہاںسے اڑ کر وہ کبھی آسمان چیرا کرتا تھا۔
یہ ظلم کی نہیں، غلط فہمی میں لپٹی محبت کی کہانی ہے۔ بڑھیا نے باز کے پر سنوارنے کیلئے کاٹےاور یہی اس کہانی کا اصل المیہ ہے۔
پاکستان کی برآمدی صنعت کا قصہ بھی بادشاہ کے باز جیسا ہے۔ ہماری صنعت بھی ایک شاہین ہو سکتی تھی، مگر اسے تحفظ کے نام پر، اس کی بھلائی کے نام پر، ٹیرف کی فصیل کے پیچھے بٹھا کر اسکے پنجے کاٹ دیے گئے۔ اور جو فصیل اسے بچانے کیلئے اٹھائی گئی تھی، وہی اس کے اڑنے کی صلاحیت کھا گئی۔
شفقتِ بے علم، تیغِ ناتراش است
فصیل اتنی ہی پرانی ہے جتنا یہ ملک۔پچاس کی دہائی میں ہی بانیانِ معیشت نے درآمدی متبادل(Import Substitution)کاراستہ چنا: درآمدی پابندیاں، اوسطاً پینسٹھ فیصد محصول۔ نتیجہ؟ صنعت میں منافع کی شرح سو فیصد تک پہنچ گئی۔
غیر جمہوری بندوبست میں اقلیت کا جیت جانا قابلِ فہم ہے۔ مگر اصل معمہ تب شروع ہوا جب ووٹ ہر شہری کے ہاتھ میں برابر آیا اور پھر بھی ٹیرف کی فصیل جوں کی توں کھڑی رہی۔ اب کی بار تو اقلیت کی طرف سےاکثریت کا استحصال حرام نہیں تو کم از کم مکروہ ضرور ہونا چاہیے تھا۔
مگر ’عملِ اجتماعی‘ کی عدم مساوات کیوجہ سے ایسا نہ ہو سکا ۔ فصیل یافتہ کارخانے دار کا فائدہ مرتکز ہوتا ہے؛ سو وہ منظم ہے اور دن رات اپنی فصیل کی پہرے داری کرتا ہے۔ صارف کا نقصان ہر قمیض، ہر گاڑی پر چند سو روپے ہوتا ہے، جو لاکھوں گھروں میں یوں بٹ جاتا ہے کہ نظر ہی نہیں آتا۔ متوسط ووٹر ٹیرف کی فہرست نہیںبلکہ قیمت دیکھتا ہےاور قیمت کو اُس ایس آر او سے نہیں جوڑ پاتا جس نےاسے جنم دیا۔فصیل کولافانی بنانےوالی چیز عملِ اجتماعی کی وہ ناہمواری ہے جو آزاد ووٹ کے باوجود متوسط شہری کو شکست دے دیتی ہے۔بُڑھیااب کوئی آمر نہیں،بڑھیاخودوہ بکھری ہوئی، غیر منظم رحم دلی ہے جو ہر جمہوری بہار میں شاہین کے پر دوبارہ کاٹ دیتی ہے۔
کوئی ہر گام پہ سو دام بچھا جاتا ہے
ہر فصیل کی اپنی منظق ہوتی ہے : نوزائیدہ صنعت کوپناہ دو، وہ جوان ہو گی، اور پھر دنیا کا مقابلہ کرے گی۔ مشرقی ایشیا نے بھی یہی راستہ چنا مگر ایک فرق کے ساتھ:غروب شمس کی کڑی شرط بھی رکھی، جسکے بعد سہارا کھینچ لیا جاتا۔پاکستان میں فصیل تو اٹھی، مگر غروبِ شمس کی شرط اشرافیہ کی بھائی بندی میں کہیں بیچ ہی میں رہ گئی۔ چنانچہ ایک فصیل زدہ کرایہ خور صنعت نے جنم لیا،بے بال و پر ایسی کہ اڑان بھرنے سے ہی قاصر ہے۔
فصیل کی قیمت کوئی اورچکاتاہے۔ادارہِ ترقیاتی معاشیات (PIDE)کے مطابق، تحفظ کی سالانہ لاگت تقریباً 1770 ارب روپے ہے اور فی گھرانہ کوئی 42000 روپے۔ اور یہ رقم جاتی کہاںہے؟کچھ ریاست کےگلے میں، کچھ چند سو کاروباری خاندانوں کی جیب میں، کچھ غیر ملکی کمپنیوں کو رائلٹی کی صورت میں اور بقیہ غیرپیداواری کرایہ خوری میں ۔
اب پلٹیے اُن شاہینوں کی طرف جو واقعی اُڑنا سیکھے۔ سب سے روشن مثال ویتنام کی ہے۔ 1986 میں اس کی کل برآمد بمشکل ایک ارب ڈالر تھی؛ دیوار گرانے اور عالمی منڈی سے جڑنے کے بعد، آج اس کی برآمدات 470 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں۔ ویتنام نے دروازہ کھولنے سے پہلے اپنی صنعت کے جوان ہونے کا انتظار نہیں کیا؛ اس نے دروازہ اس لیے کھولا تاکہ اسکی صنعت جوان ہو سکے۔ عالمی قیمت کا دباؤ استاد تھا، انعام نہیں۔
البتہ پنجرہ کھولنا ضروری ہے، مگر کافی نہیں۔ فصیل گرانے کے ساتھ وہ چیزیں بھی دینا ہوں گی جو شاہین کو اڑنے کے قابل بنائیں سستی توانائی، آسان قرضے، ہنر اور فصیل تدریج سے گرے تو معاملہ سہل رہتا ہے۔اسی پس منظر میں قومی محصولاتی پالیسی 2025-30 کو دیکھیے، جو اَوسط ٹیرف دس اعشاریہ چھ فیصد سے گھٹا کرچھ فیصد سے نیچے لانا چاہتی ہے۔ اسے آئی ایم ایف کا مطالبہ کہہ کر مسترد کرنا اصل نکتے سے فرار ہے۔ یہ تو صارف کی چرائی ہوئی متاع کی واپسی ہے، اور وہی غروبِ شمس کی شرط جو پون صدی پہلے رکھی جانی چاہیے تھی۔ یہ خیر کی راہ میں ایک بڑا قدم ہے
مگر ابھی اس پالیسی کو بنے ایک برس بھی نہیں گزرا کہ واپسی کی کوششیں شروع ہو گئیں ،صنعت کاری اور برآمدات ہی کے نام پر۔ کہا جا رہا ہے کہ ٹیرف کی دیوار گری تو صنعت تباہ ہو جائیگی۔ ہم ایک”تاجر قوم“ بن کر رہ جائیں گے۔ مگر یہ وہی پرانا نسخہ ہے جس نے پون صدی میں ایک بھی برآمدی شاہین پیدا نہیں کیا صرف کرایہ خور، بے بال و پر پرندے۔ اور یہ آواز اٹھانے والے کون ہیں؟ بعینہٖ وہی لوگ جنہوں نے کل اس فصیل کے پیچھے بیٹھ کر صارف کی متاع سمیٹی تھی۔
یہ دباؤ اندر کے کواڑوں پر بھی ایک دلفریب دستک دیتا ہے۔ صنعت بچاؤ کا نعرہ اتنی خوش نمائی سے بلند کیا گیا ہے کہ خود ایوانِ اقتدار میں کئی لوگ، باوجود مکمل نیک نیتی کے، قائل ہو چلے ہیں۔
میرؔ کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
یوں مرتکز مفاد، اپنی بات کو قومی مفاد کا لباس پہنا دیتا ہے، اور وہی لباس فیصلہ ساز کی آنکھ کو دھندلا دیتا ہے۔ فصیل گرانے والا ہاتھ خود فصیل کی پاسبانی پر مامور ہو جاتا ہے۔ بڑھیا کی قینچی اب کی بار پھر جھونپڑی سے نکل کر دربار کی ڈیوڑھی تک آ پہنچی ہے، اور اس نے ایک نیا دل کش نعرہ سیکھ لیا ہے:صنعت بچاؤ۔ مگر ہاتھ وہی ہیں، اور پنجے کاٹنے کی نیت بھی وہی۔
پنجے واپس اُگ سکتے ہیںبشرطیکہ شاہین کو پھر سے کھلے آسمان میں چھوڑ دیا جائے۔ اور اس نیک عمل کا آغاز قومی محصولاتی پالیسی 2025 تا 2030 کے ساتھ ہو چکا۔ فصیل گرانا صنعت کو بے یار و مددگار چھوڑنا نہیں؛ اسے ٹیرف کی اس قینچی سے بچانا ہے جو ہر دور میں اس کے پر کاٹتی رہی۔ کیونکہ گھر میں مقابلے سے بچنے والی صنعت پردیس میں کبھی فاتح نہیں ہوتی۔ اور جو صارف پون صدی سے اسی فصیل کی قید میں ہے، اسکی متاع لوٹانا کسی بیرونی ادارے پر احسان نہیںاپنے ہی شہری سے کیے گئے ایک عہدِ قدیم کی پاسداری ہے۔ پنجرے کا دروازہ کھولنا، اسی ادھورے عہد کی تکمیل ہے۔
کھلے جو در، تو ہوا بھی ہے روشنی بھی ہے