• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہماری غربت کی اصل تصویر کسی بہی کھاتے میں نہیں ملے گی۔ وہ گندم کے کھیت میں جھکی ہوئی اُس کمر میں ہے، اور اُس کسرِ اجرت میں جو اُس جھکی کمر کو کبھی سیدھا نہیں کر پاتی۔ ہماری 35فیصد آبادی زمین سے بندھی ہے، مگر زمین ہماری دولت کا صرف 20 فیصد دیتی ہے سب سے زیادہ ہاتھ وہیں مصروف ہیں جہاں صلہ سب سے کم ہے۔ جو گاؤں سے نکلے، شہر کی بے ترتیب بھیڑ اُنہیں نگل گئی: ٹھیلا، دیہاڑی، ایک کمرے کی دکان روزگار نام کا، بےکاری کام کی، جہاں نہ ہنر بڑھتا ہے، نہ اجرت، نہ اُمید۔ ماہرینِ معیشت اِسے ”مزدوری کا پھندا“ کہتے ہیں: آدمی کام سے بندھا ہے، اور کام غربت سے۔ کوئی قوم اپنے لوگوں کو اِس گڑھے سے نکالے بغیر خوشحال نہیں ہوئی۔ ترقی کا سارا مطلب ہی پیشے کی ہجرت ہے کھیت سے کارخانے تک، کارخانے سے دنیا کی منڈی تک۔ قوم اُتنا ہی اونچی اٹھتی ہے جتنا اُس کا مزدور؛ جہاں مزدور سستا رہے، وہاں قوم غریب رہتی ہے۔ باقی سب منشی گیری ہے۔

یہ نہیں کہ ہم نے کوشش نہیں کی۔ کوشش کی، اور بار بار کی۔ ہمارے پاس اِس کوشش کا ایک نام بھی تھا: صنعتی پالیسی۔ اُنیس سو انسٹھ کے بونس واؤچر سے لے کر امسال کے حربوں تک، ہر نسخہ آزمایا گیا۔ اور نتیجہ؟ برآمدات جو دولت کا چھٹا حصہ تھیں اب دسواں ہیں، اور ہمسائے وہ سیڑھی چڑھ گئے جسے ہم چمکاتے ہی رہ گئے۔ ہر رعایت احسان بنی، ہر سبسڈی مستقل حق۔ ہر کوئی درِ سرکار پہ ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا، اور جسے ایک بار نوازش کی لت لگی، اُس نے پھر منڈی کا رخ نہ کیا۔ اُن پانچ چہیتے شعبوں کو دیکھیے۔ دس سال سے زیادہ، ٹیکسٹائل، چمڑا، قالین، کھیلوں کا سامان اور جراحی کے اوزار حکم نامے سے صفر شرح پر رہے صرف اُن کی برآمد نہیں، اُن کی ہر مقامی فروخت بھی، یہاں تک کہ لاہور کی دکان پر بکنے والی قمیض بھی اِس مفروضے پر بے محصول رہی کہ وہ برآمد ہونے کو بنائی گئی تھی۔دو ہزار پانچ میں کوارٹرلی جرنل آف اکنامکس میں چھپنے والے ایک مطالعے نے ہمارے اپنے بینکوں کے کھاتے پڑھ کر بتایا کہ جس کمپنی کے بورڈ میں کوئی صاحبِ اثر بیٹھا تھا، اُس نے سرکاری بینکوں سے تقریباً پینتالیس فیصد زیادہ قرض لیا، اور تقریباً پچاس فیصد زیادہ ہضم کیا۔یہ رعایت صرف سرکاری خزانے پہ پلتی تھی، نجی بینک ایسے کسی دوست کو نہ جانتے تھے۔ اور برآمدی رعایتوں کے جائزے نے سب سے سخت فیصلہ سنایا: کارخانوں نے مال نہیں بدلا، صرف لیبل بدلا۔ جہاں شرح اونچی تھی، برآمد وہیں دکھا دی؛ کُل مقدار ٹس سے مس نہ ہوئی۔ سبسڈی نے لوگوں کو رعایت کے پیچھے دوڑنا سکھایا، منڈی کے پیچھے نہیں۔یہ عارضہ نیا نہیں۔ جہاں ریاست چالاکی کو ذرا سا راستہ دے، وہاں چالاک کھلاڑی اُس راستے کو چوڑا کرانے کی سفارش کرتے ہیں۔ جانچ کمپنی کے اپنے کاغذ سے ہوتی تھی، اِسلئے سفارش کرانا ہمیشہ محنت کرنے سے زیادہ منافع بخش رہا۔ قصور ہمارے صنعت کاروں میں نہیںاُس نظام میں ہے جو منڈی کی تلاش پر رعایت کی تلاش کو انعام دیتا ہے۔ کھیل ہمیشہ سے ایک ہی رہا: جس کے ہاتھ میں کڑچھی، وہی حلوے کے قریب۔

تو پھر وہ راستہ کون سا ہے جس پر ہم کبھی نہیں چلے؟ وہ رعایت کا نہیں، اصول کا راستہ ہے۔وہ صوابدید کا نہیں، ضابطے کا راستہ ہے۔ آج تلک ہم بس منّت سماجت کے عادی رہے۔اب دستِ طلب نہیں، دستِ ہنر چاہیے۔ اُسکا پہلا اصول ایک کڑوا اعتراف ہے: ریاست صرف وہی کرے جو منڈی نہ کر سکے۔ منڈی کہاں ناکام ہوتی ہے؟ جہاں سرمایہ کار ایک دوسرے کا منہ تکتے رہیں: کوئی کارخانہ نہیں لگاتا کہ بجلی کی تار نہیں، کوئی تار نہیں بچھاتا کہ کارخانہ نہیں۔ اِس گرہ کو سبسڈی نہیں، ایک میز چاہیے: حکومت اور صنعت آمنے سامنے بیٹھیں، ہر رکاوٹ درج ہو، ہر رکاوٹ کے سامنے ایک ذمہ دار اور ایک تاریخ طے ہو، اور روداد چھاپ دی جائے۔ منڈی وہاں بھی ناکام ہوتی ہے جہاں کوئی جری تاجر کوئی نئی چیز برآمد کرتا ہے: ٹھوکر لگے تو نقصان اکیلے اُس کا، کامیاب ہو تو راستہ سب کا۔ ایسے پہل کرنیوالے کو انعام دو مگر نیلامی سے کہ جو سب سے کم مانگے وہی چنا جائےرقم اسے واپس ملےاور علم سب کا ہو۔ منڈی تربیت میں بھی کنجوس ہے۔ سو اخراجات سب پر بانٹو، لوٹاؤ اُسی کو جو واقعی سکھائے۔ قرض کی ضمانت دو، مگر ضمانت کو نیلام کرو سود کبھی سستا نہ کرو کہ سستا قرض ہمیشہ طاقتور کی جیب میں جاتا ہے۔ ریاست کسی کمپنی کو مقابلے کے قابل نہیں بنا سکتی، مگر وہ زمین ہموار کر سکتی ہے جس پر مقابلے کی فصل اگتی ہے۔

دوسرا اصول: قاعدہ پہلے لکھو۔ شرطیں ہر اسکیم کے دروازے پر کندہ ہوں: جو پورا اترے وہ اندر آئےاور جہاں جگہ کم ہو، فیصلہ مقابلے سے ہو، کسی افسر کی مرضی سے نہیں۔ حکومت جیتنے والا نہ چنے،وہ مسئلہ چنے، اور کمپنیوں کو حل کے لیے مقابلہ کرنے دے۔ جو ریاست جیتنے والے چنتی ہے وہ درباری پیدا کرتی ہے۔جو مسئلے سامنے رکھتی ہے وہ مقابلہ کرنے والے۔ تیسرا اصول سب سے سخت ہے: ممنوع چیزوں کی ایک فہرست، قانون کے پتھر میں کھدی ہوئی۔ نہ معاف شدہ ٹیکس، نہ محصول کی نئی دیوار، نہ سستا قرض، نہ نقد خیرات، نہ آدھی رات کا کوئی حکم نامہ۔ یہ فہرست حاکم کو اُتنا ہی باندھتی ہے جتنا تاجر کو، کیونکہ رعایت صرف مانگی نہیں جاتی بانٹی بھی جاتی ہے، اور بانٹنے والا ہاتھ خیرات کی قیمت خوب جانتا ہے۔ چوتھا اصول حساب کی ترتیب کا ہے: ادائیگی کام کے بعد، پہلے کبھی نہیں، اور ثبوت وہ کاغذ جو کمپنی کے قبضے میں نہ ہو کسٹم کا اندراج، ڈیجیٹل رسید، ملازموں کی فہرست۔ جو اپنا دعویٰ بڑھا چڑھا کر لکھے، وہ اپنے ہی گوشوارے پر فردِ جرم لگائے۔ ہر اسکیم کو ایک غروبِ شمس کی شرط سے باندھو: تجدید چاہیے تو پارلیمان میں ثبوت لاؤ ورنہ اسکیم بے ماتم مر جائے۔ اور ہر روپے اور ہر لینے والے کا نام ہر تین مہینے بعد اخبار میں چھاپو کہ اندھیرے میں دی گئی رعایت کچھ اور معنی رکھتی ہے اور یاد رہےشفافیت سب سے سستا پہرہ دار ہے۔ پانچواں اصول نگہبانی کا ہے: ایک چھوٹا مگر نہ بکنے والا نگہباں ادارہ درجنوں ماہر، ہزاروں منشی نہیں اِتنا قریب کہ اصل رکاوٹ دیکھ لے، اِتنا دور کہ کوئی سرگوشی اُسکے کان تک نہ پہنچے۔ اُسکے پاس بخشش کیلئے کچھ نہ ہو، سلجھانے کیلئے سب کچھ ہو۔

پالیسی تبھی کھری ہے جب اُس سے کمانے کا سب سے سستا راستہ یہی ہو کہ کمپنی زیادہ پیداوار دے۔ جو اسکیم مزدور سے پہلے وکیل، سفارشی اور لیبل بدلنے والے کا پیٹ بھرے، وہ صنعتی پالیسی نہیں وہ اشرافیہ کا وظیفہ ہے۔ یہ بظاہر خشک نظر آنے والے ضابطے دراصل اُسی جھکی کمر کی وکالت ہیں جس سے بات شروع ہوئی تھی۔ منزل یہ ہے کہ کپاس چننے والا ہاتھ کھڈی تک پہنچے، کھڈی مہارت تک اور مہارت دنیا کی منڈیوں تک۔دربار مانگنے والوں کا مسکن ہے، ضابطہ کمانے والوں کا۔ دربار احسان بانٹتا ہے، ضابطہ حق اور قومیں اُس سے نہیں بدلتیں جو عطا کیا جائے، بلکہ اُس سے بدلتی ہیں جو ادا کیا جائے۔

تازہ ترین