• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ فقیر نہ ماہر تعلیم ہے نہ اعداد کا مجتہد بس ایک طالبِ علم ہے جو اہلِ نظر کی مجلس میں دو حرف رکھنے کی جسارت کرتا ہے۔ سو اگر کہیں لہجہ تلخ ہو جائے تو اسے فقیر کی کم عقلی پر محمول کیجیے، نیّت پر نہیں۔ ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں ۔

بجٹ کی صبح ہے۔ چائے کی پیالی کے پہلو میں اخبار کھلے پڑے ہیں، اور سرخیاں ایک ہی راگ الاپتی ہیں۔ ابھی وزیرِ خزانہ کی تقریر کی سیاہی خشک نہیں ہوئی کہ ملک بھر میں ایک مدھر سا ماتم اٹھ کھڑا ہوتا ہے: ”تعلیم کے حصے میں پھر کم آیا“۔ ”Save the Children“ والے اعلان کرتے ہیں کہ تعلیمی خرچ ”نئی پست ترین سطح“ کو چھو گیا؛ ملالہ فنڈ نوحہ کرتا ہے کہ وفاقی بجٹ ایک ہی برس میں چوالیس فی صد گھٹ گیا ؛ جامعات کے اساتذہ کی انجمن پورے وفاقی بجٹ کو ”مسترد“ کر دیتی ہے؛ اور اداریے وہی پرانی صدا بلند کرتے ہیں ”چار فی صد کا وعدہ، جسے یہ ملک پورا کرنے سے انکاری ہے۔“ یہ سالانہ ماتم اب ایک رسم ہے، اور رسم کی اپنی تسکین ہوتی ہے۔فقیر کو اِس ماتم سے انکار نہیں۔بس اتنا عرض ہے اُسی رپورٹ کے حاشیے میں، ایک جملہ ایسا بھی چھپا ہوتا ہے جسے کوئی نہیں پڑھتا۔ وہی ادارہ ”پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن“ جسکے اعداد سے یہ سرخیاں بنتی ہیں، خود لکھتا ہے کہ ”اضافے کا اثر اِس پر منحصر ہے کہ رقم مؤثر طور پر خرچ ہو اور تعلیمی نتائج میں ڈھلے۔“ سرخی شور مچاتی ہے، حاشیہ سرگوشی کرتا ہے مگر سرگوشیاں کون سنتا ہے بھلے اصل بات حاشیے میں ہی ہو۔

اِس ماتم سے دو غم جنم لیتے ہیں، اور دونوں جائز معلوم ہوتے ہیں۔ پہلا: دو کروڑ پچاس لاکھ سے زائد بچے مکتب سے باہر ہیں دنیا کی دوسری بڑی تعداد۔ دوسرا: جو اندر ہیں، وہ بھی سیکھ نہیں رہے۔ اور پھر فوراً نتیجہ نکال لیا جاتا ہے کہ اِن دونوں غموں کی جڑ ایک ہی ہے”بجٹ کم ہے۔“ یہیں فقیر نہایت ادب سے ہاتھ اٹھاتا ہے، اور عرض کرتا ہے کہ جناب، روشنی جہاں ہے، ملّا نصیرالدینؒ کی چابی شاید وہاں نہیں۔

دلیل سے پہلے ذرا میدان کی وسعت دیکھ لیجیے، کہ بات ہوا میں نہ رہے۔ پاکستان کا نظام مکاتب دنیا کے بڑے نظاموں میں سے ہے۔ تازہ سرکاری اعداد کے مطابق طلبہ کی تعداد قریب پانچ کروڑ تراسی لاکھ کو پہنچ چکی ہے، اور اساتذہ چودہ لاکھ کے لگ بھگ۔ مگر اِس ہجوم کے باوجود قریب دو کروڑ پچاس لاکھ بچے مکتب کی دہلیز سے باہر ہیں۔ اور جو اندر ہیں، اُن کا سفر ہر درجے پر سمٹتا چلا جاتا ہے: پرائمری میں قریب دو کروڑ، مڈل میں بانوے لاکھ، میٹرک میں سینتالیس لاکھ، انٹر میں اٹھائیس لاکھ، اور جامعہ تک پہنچتے پہنچتے بمشکل سات لاکھ۔ یہ نظام ہر سیڑھی پر خراج لیتا ہے۔اور غور کیجیےاسکولوں کی عمارتیں اِس کہانی کا اصل دکھ نہیں۔ سرکاری گنتی خود بتاتی ہے کہ قریب چھیانوے فی صد مکتبوں کی عمارت پختہ ہے، بانوے فی صد میں بیت الخلا، اور بیاسی فی صد میں صاف پانی۔ سو دیواریں کھڑی ہیں، چھتیں موجود ہیں، کمی دیواروں کی نہیں، اُس چیز کی ہے جو دیواروں کے اندر ہونی چاہیے۔

مولانا رومؒ نے اِس المیے کی صورت گری صدیوں پہلے کر دی تھی۔ ایک نحوی کشتی میں بیٹھا اور ملّاح سے، ذرا تکبر سے، پوچھا: ”تُو نے نحو پڑھی ہے؟“ ملّاح نے سادگی سے کہا: ”نہیں، حضور“ ۔ نحوی بولا: ”افسوس، تیری آدھی عمر اکارت گئی۔“ ملّاح نے سر جھکا لیا اور چپ رہا۔ پھر آسمان نے رنگ بدلا، طوفان اٹھا، اور کشتی بھنور میں ڈولنے لگی۔ اب ملّاح نے پلٹ کر پوچھا: ”حضور، تجھے تیرنا آتا ہے؟“ نحوی نے کانپتے ہوئے کہا: ”نہیں۔“ ملّاح نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا:”اے نحوی! تیری ساری عمر اکارت گئی کہ یہاں علمِ نحو نہیں، علمِ شنا وری درکار ہے۔“ہمارا مکتب بھی بچے کو ”نحو“ کے رجسٹر میں چڑھا لیتا ہے، مگر زندگی کے طوفان میں تیرنا نہیں سکھاتا۔ حاضری لگتی ہے، شعور نہیں جاگتا؛ سند ملتی ہے، ہنر نہیں۔

سو اب اُن فسانوں کا دامن ٹٹولنے کی اجازت چاہیے جو ”بجٹ کی کم مائیگی“ کے گرد بُنے گئے ہیں اور فقیر ہر دعوے کے ساتھ وہ گواہ پیش کرئیگا جس تک قاری خود پہنچ سکے۔پہلے ایک ادنیٰ سی گرہ۔ تعلیم اور مکتب ایک شے نہیں۔ ”تعلیم“ کی چادر بڑی کشادہ ہےجامعات، کمیشن، طبی و فنی کالج، وظائف۔ مگر جس بچے کا ہم ماتم کرتے ہیں، اُس کا تعلق اِس کشادہ چادر سے نہیں، اُس کے ایک ننھے پیوند سے ہے: مکتبِ ابتدائی۔ سو جب تک جامعہ کے بجٹ کو مدرسے کے بجٹ سے جدا نہ کریں، اپنے ہی اعداد کے فریب میں رہیں گے۔

اب کھاتہ کھلتا ہے۔ مکتب کی تعلیم تو آئین کی رُو سے ہمیشہ سے صوبوں کی ذمہ داری رہی ہے، یہ اٹھارہویں ترمیم کی پیداوار نہیں سو اصل تماشہ وہیں بپا ہے۔ پنجاب نے پچھلے برس محکمۂ تعلیم کیلئے قریب سات کھرب روپے رکھے، جن میں چھ کھرب کے قریب صرف تنخواہوں کی مَد میں۔ پھر ایک اور پردہ اٹھتا ہے، اور یہ ”I-SAPS“ کے ’پبلک فنانسنگ آف ایجوکیشن‘ نامی مطالعے کا نچوڑ ہے: تعلیم کی کل لاگت پچاس کھرب روپے سے متجاوز ہے جو کہ جی ڈی پی کا قریب ساڑھے چار فیصد بنتا ہے، جس میں سے قریب اٹھائیس کھرب گھرانوں کی جیب سے اور قریب بائیس کھرب سرکار کے میزان سے تاریخ میں پہلی بار والدین کا پلڑا بھاری ہے۔ اِسی میں قریب چھ سو ارب محض ٹیوشن پر اٹھتا ہے:یعنی والدین دوبارہ ادا کرتے ہیں، اِس لیے کہ مکتب نے پہلی بار کچھ نہ پڑھایا۔ خزانہ خالی نہیں کاسہ سوراخ دار ہے۔ (جاری ہے)

تازہ ترین