دہائیوں پر دہائیاں بدلتی رہیں، نوحہ نہیں بدلا: غربت، کم پیداوار، ناتواں برآمدات، اور خزانے کی تنگی۔ ہر اہلِ نظر یہی کہتا ہے، ہر تجزیہ یہی دُہراتا ہے۔اوراِس سب کے باوجود،بحیثیت قوم ہم نے وہ بنیادی اصلاحات کبھی نہیں کیںجواِس مرض کا اصل علاج ہیں۔ کوئی اور ملک ہوتا تویا دیوالیہ ہو جاتا یا پھر وہ جامع اصلاح کے راستے پر نکل پڑتا۔ مگر ہمارے ہاں نہ دیوالیہ ہوا، نہ اصلاح۔ نہ ہم ڈوبے کہ قصہ تمام ہو، نہ اُبھرے کہ کنارہ نصیب ہو ۔ بس منجدھار میں ناک بھر اوپر، سانس روکے تیرتے رہے۔ مولانا روم نے مثنوی میں فرمایا تھا:
آب کم جو، تشنگی آور بہ دست
تا بجوشد آب از بالا و پست
یعنی پانی کی کمی پر ماتم نہ کر، پیاس پیدا کر کہ جب سچی طلب پیدا ہوتی ہے، تب چشمے آپ ہی آپ پھوٹ پڑتے ہیں۔ ہمارے معمّے کا سِرا یہیں کھلتا ہے۔ دوسری قوموں کو مالی تنگی کے خوف نے اصلاح کی راہ پر ڈالا۔ ہمارے لیے، ہر بحران کی گھڑی میں کوئی نہ کوئی ایسی سبیل نکل آئی کہ ہمیں پیاس کبھی پوری شدت سے محسوس ہی نہیں ہونے دی ۔ سو پہلے ان سبیلوں کا ذکر ۔اوّل، ہمارے قرض کی نوعیت۔ ہمارا بیرونی قرض ، بیشتر عالمی مالیاتی اداروں اور برادر و دوست ملکوں کا ہے ۔ ایسے قرض خواہ جو رعایت اور مہلت کے قائل ہیں،معاملہ آگےبڑھا دیتے ہیں، تقاضا نہیں کرتے۔ جن قوموں کو حالیہ برسوں میں سخت بحران سے گزرنا پڑا، اُن کا بیشتر قرض اُن نجی قرض خواہوں کا تھا جو نالش کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ قرض خواہ ایسے ملے جو دروازہ نہیں کھٹکھٹاتے اور ہم بھی ایسے نکلے جو نصف صدی میں کوئی دو درجن بار خوداُن کادروازہ کھٹکھٹاآئے۔دوم، بین الاقوامی حالات کی گردش ۔ پچاس اور ساٹھ کے عشروں میں، سرد جنگ کے زمانے میں، مغرب کو سوویت اثر کے مقابل ہماری ضرورت پڑی۔ اسّی کے عشرے میں، افغان جہاد کے دوران، ہم صفِ اوّل کے ملک ٹھہرے اور نئی صدی میں دہشت گردی کیخلاف جنگ نے ہمیں پھر ناگزیر بنا دیا۔ہر موڑپر دنیا کوہماری حاجت رہی اور جس ساعت ہم معاشی دشواری میں گھرے، کہیں نہ کہیں سے کوئی ہاتھ تھامنے نکل آیا۔ مگر جو قوم قسمت کو کسبِ محنت کا بدل سمجھ لے، وہ آہستہ آہستہ ہنر بھی کھو دیتی ہے اور قسمت بھی۔لیکن سب سے بڑی سبیل ،ہماری اپنی چاندی ، ترسیلاتِ زر رہی ۔ ستّر کے عشرے میں جب خلیج میں تیل کی بہار آئی اور ہمارے محنت کش اُس ریگزار کی طرف چل نکلے، تو وہ رقم جو برائے نام تھی چڑھتے دریا کی مانند بڑھتی چلی گئی، یہاں تک کہ 1982 میں قومی پیداوار کے کوئی دسویں حصے تک جا پہنچی، اور ہمارے تجارتی خسارے کا بیشتر بوجھ اُٹھا لیا۔ آج یہ قریباً 38 ارب ڈالر سالانہ سے بھی زیادہ ہو چکی ہے ہماری سب سے بڑی ”برآمد“ اب ہمارا مال نہیں، بلکہ ہمارے پردیسی بھائیوں کا پسینہ ہے۔ اِس کمائی نے لاکھوں گھروں کے چراغ روشن رکھے اور یہ بجائے خود باعثِ مسرت ہے کہ جس آنگن کا کفیل خلیج میں ہے اُسکی آمدنی روپے کی بےقدری سے محفوظ رہتی ہے۔مگر اِس خوش بختی میں ایک ستم ظریفی پوشیدہ ہے۔ اِن تین مثبت عوامل نے ہماری اشرافیہ کو ایسی مہلت بخش دی جو عام ملکوں کی اشرافیہ کو میسر نہیں یعنی وہی طبقہ جو اصلاح کی قوت رکھتا تھا، اسے کبھی اُس دیوار سے نہ لگنا پڑا جو فیصلے پر مجبور کرتی ہے۔ چنانچہ اصلاح کا عملِ صالح ہر بار آنے والے کل پر ٹلتا رہا۔ ایک اور راز بھی اِسی پردے میں ہے: ہمارا اندرونی قرض روپے میں ہے، اور روپیہ ہم خود چھاپ سکتے ہیں ۔سو ہم کبھی باقاعدہ نادہندہ نہیں ہوئے۔ مگر نوٹ چھاپنا مفت نہیں ہوتا یہ مہنگائی بن کر لوٹتا ہے اور مہنگائی ایک خاموش محصول ہے جو غریب کی جیب سے وصول ہوتا ہے، جبکہ وہ مقروض دولت مند جسکے ذمّے بھاری واجبات تھے، اُسکا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے اور اُسکی زمین اور اسکے ڈالر کی قدر بھی برقرار رہتی ہے۔سو اِس مہلت کی قیمت دبے پاؤں وہی عام آدمی چکاتا رہا وہی مزدور، وہی تنخواہ دار، وہی سفید پوش جسکی قوتِ خرید کو مہنگائی چاٹتی رہی اور جس کے امکانات سُکڑتے چلے گئے۔ گو ہم نے دیوالیے کی رسوائی کبھی اس طرح تو نہ دیکھی جیسی دوسری قوموں کے حصے میں آئی، مگر یہ ایک خاموش بخار کی طرح ہماری رگوں میں اُترتی رہی۔اور یہیں اصل خطرہ پوشیدہ ہے۔ ظاہر میں تو ہماری چاندی پہلے سے زیادہ چمک رہی ہے ترسیلات آج ماضی سے بھی بلند ہیں۔ مگر خرابی اِسی چمک میں ہےباقی سہارے یکے بعد دیگرے نحیف پڑ رہے ہیں، بیرونی رعایتیںپہلے جیسی فراخ دست نہیں رہیں، برادر ملک زیادہ محتاط ہیںاور ہم روز بروز ایک ہی سہارے کے محتاج ہوتے جا رہے ہیں۔ اور یہ اکلوتا سہارا بھی اُنہی خلیجی حالات کا مرہون منت ہے جن پر ہمارا کوئی اختیار نہیں، بدلتی علاقائی فضا اور خلیجی ممالک کی وہ پالیسیاں جو اپنے شہریوں کو روزگار دینے کیلئے غیر ملکی مزدور کی جگہ گھٹاتی جا رہی ہیں۔ برسوں ہمیں یہ سہولت میسر رہی کہ دشوار فیصلے آنے والے کل پر ٹال دیں اب اُس سہولت کا چراغ ٹمٹما رہا ہے۔ جوں جوں یہ سہارے کم ہوں گے، اصلاح اختیار کے دائرے سے نکل کر مجبوری کے دائرے میں داخل ہو جائیگی۔ اور جو کام آج اپنی شرائط پر وقار کے ساتھ ہو سکتا ہے، وہی کل دوسروں کی شرائط پر سر جھکا کر کرنا پڑے گا۔یہ بھی سچ ہے کہ اب ہم اصلاح کی راہ پر چل نکلے ہیں اور بعض کڑوے مگر ناگزیر فیصلے ہو چکے ہیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جو ہاتھ بھی اصلاح کو اُٹھتا ہے، اُسے اُنہی مفادات کی مزاحمت کا سامنا ہوتا ہے جن کے لگے بندھے وظائف اِس اصلاح سے مجروح ہوتے ہیں اور یہ مزاحمت کسی ایک حکومت تک محدود نہیں، ہر اُس حکومت کے سامنے آتی ہے، اور آتی رہے گی، جو یہ بوجھ اُٹھانے کا حوصلہ کرے۔
اور یہاں تاریخ ہمیں ہسپانیہ کی تاریخ کا ایک عبرت ناک ورق یاد دلاتی ہے۔ سولہویں صدی میں جب نئی دنیا کی کانوں سے چاندی کے بھرے جہاز ہسپانیہ کے ساحلوں پر لنگر انداز ہونے لگے، تو ہسپانیہ بغیر محنت بیٹھے بٹھائے روئے زمین کا سب سے مالدار ملک ٹھہرا۔ مگر قدرت کا دستور نرالا ہے: جہاں دولت بلا محنت اُترنے لگے، وہاں محنت کی بےقدری ہو جاتی ہے۔ ہسپانیہ کے کارخانوں پر ویرانی اُتری، ہنر کی شمعیں گل ہوئیں، اور اُس کی اشرافیہ نے پیداوار کی زحمت چھوڑ کر زمین اور سود کی آسائش کو گلے لگا لیا ( یہاں کیا کچھ مانوس معلوم پڑتا ہے ؟) ۔ پھر جب چاندی کا سلسلہ ختم ہوا تو ہسپانیہ نے اپنے ہاتھ خالی پائے نہ ہنر باقی، نہ صنعت، نہ محنت کی وہ خُو جو مشکل وقت میں کام آتی ہے۔ اُسی عہد کے ایک صاحبِ بصیرت Martín González de Cellorigo نے یہ نتیجہ اخذ کیا: ہسپانیہ اِسلئے تہی دست ہوا کہ وہ مالدار تھا۔
راقم کو اندیشہ ہے کہ کہیں یہی سطر کل ہمارے حاشیے پر نہ لکھی جائے۔ مگر ہسپانیہ اور ہم میں ایک بنیادی فرق ہے ہسپانیہ کو اپنی غفلت کا اندازہ تب ہوا جب چاندی جا چکی تھی اور ہمیں یہ اندازہ اُس وقت ہو رہا ہے جب مہلت ہنوز باقی ہے۔ اور جو تنبیہ وقت پر سمجھ لی جائے، وہ پیش گوئی نہیں رہتی وہ ایک انتخاب بن جاتی ہے۔ سو معاملہ مایوسی کا نہیں، فیصلے کا ہے۔ چاندی ہمیں مہلت دے سکتی ہے، نجات نہیں۔نجات اُسی دن ملے گی جس دن ہم اپنے ہاتھ کی محنت کو اپنی چاندی بنائیں گے۔