حضور والا کی خدمت میں عرض ہے کہ فدوی کا برا نہ مانئے بس نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں نہ کسی کی شکایت مقصود ہے، نہ کسی پر طعن؛ بس اُن چند فسانوں ك کاتذکرہ جو ہم نے نسل در نسل دل میں بسا رکھے ہیں، اور جنہیں حقیقت جان کر اپنی معیشت کی بنیاد بنا ڈالا۔
پہلا فسانہ یہ کہ قرض رفعت کا زینہ ہے۔ شیخ سعدی نے گلستان میں ایک سوداگر کا حال لکھا ہے جسے انہوں نے جزیرہ کش پر دیکھا ڈیڑھ سو اونٹوں کا مالِ تجارت چالیس غلام و خدمت گار مگر رات بھر نیند آنکھوں سے کوسوں دور۔ وہ ہذیان میں بڑ بڑاتا رہا - فلاں مال ترکستان میں ہے، فلاں ہندوستان میں؛ بس ایک سفر اور باقی ہے، گندھک فارس سے چین لے جاؤں گا، پھر گوشۂ قناعت میں جا بیٹھوں گا۔ مگر وہ ایک سفر اور کبھی نہ آیا، حرص نے اُسے قناعت سے پہلے نگل لیا۔ ہم بھی اسی گمان میں ادھار پیتے رہے کہ ہر جامِ مے ہمیں بلندی پر لے جائے گا - اور غالب کا وہ مصرع کہ ’’قرض کی پیتے تھے مے“ گویا ہمارے ہی حال کا آئینہ ٹھہرا۔ مگر دیکھیے ، یہی ادھار آج آٹھ سو کھرب روپے کے قریب جا پہنچا، یعنی قومی پیداوار کا ستّر فیصد، حالانکہ شریعت قانون نے ساٹھ فیصد کی حد باندھ رکھی تھی۔ گو کہ حکومت نے حالیہ برسوں میں کچھ قرض وقت سے پہلے اتارا، اور بوجھ چوہتر سے ستر فیصد پر لے آئی - سو کوشش بے رنگ نہیں۔ پر زینہ پھر بھی سود کی ریت پر کھڑا ہے، اور ریت پر استوار عمارت کا کیا بھروسہ۔
دوسرا فسانہ یہ کہ سبسڈی آسمان سے اُتری کوئی نعمت ہے۔ گلستان ہی میں ہے کہ حلب کے بزازوں کی صف میں ایک مغربی سائل نے صدا لگائی: ”اے صاحبانِ زر اگر تم انصاف کرو اور ہم قناعت، تو سوال کرنے کا پیشہ ہی دنیا سے اٹھ جائے۔“ نہیں حضور . سبسڈی نعمت نہیں، مگر اُن چند نادار ترین گھرانوں کے سوا جو نظام درست ہونے پر بھی اسکے ثمر سے محروم رہ جائیں، وہی جو ہر دوڑ میں سب سے پیچھے چھوٹ جاتے ہیں۔ ان کیلئے سہارا ضرور ہے ۔باقی سب کیلئے یہ رعایت ایک پوشیدہ قیمت ہے جو کوئی اور چکاتا ہے۔ دیکھیے، بجلی کا گردشی قرض 26 ارب روپے سے بڑھ چکا، اور سال بھر کی سبسڈی کم و بیش1 ہزار ارب تک جا پہنچی۔ اور اس گردشی قرض کا بڑا سبب وہ پرانے معاہدے ہیں جو برسوں قبل باندھے گئے ۔ اب اُنکی ادائیگیاں ہماری گردن پر ہیں اور آج کی کوتاہی سے زیادہ کل کے فیصلوں کا بوجھ ہیں۔
تیسرا فسانہ یہ کہ سکّے (کرنسی)کا گرنا ہماری آبرو کا زوال ہے اور اُسے زبردستی روکے رکھنا تقاضہ غیرت۔ سو ہم نے قیمت کو زنجیر پہنائی۔ مگر دانا کہتے ہیں کہ جب آئینہ ہی ٹیڑھا ہو، تو سب سے سچا چہرہ بھی اُس میں بگڑا دکھائی دیتا ہے - اور قیمت بازار کا آئینہ ہے۔ جب اسے مصنوعی طور پر سیدھا روکے رکھیں، تو ہر شے کی قدر جھوٹ بولنے لگتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ برآمدات کے رُکنے کا واحد سبب نرخ زر نہیں - اور بھی کئی بندشیں ہیں جو راہ روکتی ہیں۔ مگر مصنوعی بلند قیمت کا زہر صرف برآمدات تک محدود نہیں رہتا وہ پورے نظام میں وسائل کی تقسیم بگاڑ دیتا ہے ، سرمائے کا پانی غلط جگہ بہنے لگتا ہےاور درآمد سستی دکھا کر اپنی صنعت کو کھا جاتا ہے۔ غیرت وہ نہیں جو حقیقت سے رو چھپائے غیرت وہ ہے جو حساب کا سامناکرے۔
چوتھا، اور سب فسانوں سے گہرا کہ محصول محض ظلم ہے جو ارباب اقتدار رعایا پر روا رکھتے ہیں۔ سو ہم بڑے فخر سے دفتر و دستاویز سے باہر رہے۔ نتیجہ حضور کے سامنے ہے ہمارا محاصل بمشکل قومی پیداوار کے ساڑھے دس فیصد کو پہنچا۔ اور دیکھیے ، ملک کی کل زر گردش کا قریباً28 فیصد - ہر چار میں سے ۔ ایک روپیہ کھاتوں اور بینکوں سے باہر ، نقد کی صورت ہاتھوں ہاتھ پھرتا ہے۔ جو دولت کاغذ پر نہ آئے، اس پر محاصل کی نگاہ کیونکر پڑے ؟ پر اس کوتاہی کا سارا ملبہ رعایا پر نہ ڈالیے۔ خرابی یہ نہیں کہ ریاست محصول جمع نہیں کرنا چاہتی - خرابی اس ادارے کی بوسیدگی میں ہے جسے برسوں سے کسی نے درست نہ کیا۔ وہی فرسودہ طریق کار اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سرکاری ملازم ایک بار بھرتی ہو جائے تو پھر اُس پر حقیقی جواب دہی کی کوئی تلوار نہیں لٹکتی۔ جہاں محنت اور کاہلی کا ایک سا صلہ ہو، وہاں اصلاح کیونکر پنپے؟ اقبال کا وہ مصرع کہ’’ خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی“ یہاں رعایا اور ریاست، دونوں کو پکارتا ہے۔
اور یہیں ایک اور فریب ہمیں گھیرتا ہے - وہ شور کہ دائرہ وسیع کرو، نیا دہندہ ڈھونڈو۔ حضور، یہ سراب کے پیچھے دوڑنا ہے۔ اس مملکت کے قریباً ترانوے فیصد گھرانوں میں تو پنکھے سے آگے ٹھنڈی ہوا کا کوئی سامان تک میسر نہیں۔جو روٹی کو ترسے، اس سے محصول کی توقع کیسی؟ سو جنہیں ہم نیا دہندہ سمجھ کرتعاقب کرتے ہیں، ان میں سے اکثر دینے والے نہیں، خود سہارے کے طلبگار ہیں۔ اور جس ادارے نے تنخواہ دار کو، جو پہلے ہی گرفت میں ہے اور جسکا محصول ماخذ ہی پر کٹ جاتا ہے، بار بار نچوڑا - اور طاقتور کو جو دائرے سے باہر کھڑا ہے، چھیڑنے کی سکت نہ پائی - وہ بے انصافی محض بدنیتی نہیں، اسی ادارہ جاتی کمزوری کا ثمر ہے جسے درست کرنے سے ہم صرفِ نظر کرتے رہے۔
اصل روگ وسعت میں نہیں، گہرائی میں ہے۔ مرض اُن میں نہیں جو دائرے سے باہر ہیں، بلکہ اُن میں جو دائرے کے اندر بیٹھے ہیں اور پھر بھی کم لکھواتے ہیں - وہی صاحب ثروت جو اپنی آمدنی کا عشر عشیر ظاہر کرتا ہے، اور بنگلہ، موٹر، سفر، سب کے مزے لوٹتا ہے، مگر گوشوارے میں مفلسی کا نوحہ لکھتا ہے۔ بابا بلھے شاہ ایسے ہی روپ پر انگلی رکھتے ہیں - سر تے ٹوپی تے نیت کھوٹی، لینا کی سر ٹوپی دھر کے؟“ یعنی سر پر ٹوپی سجی ہے مگر نیت میں کھوٹ ہے، تو اس ظاہری بھیس سے کیا حاصل؟ گوشوارہ بھی ایک ٹوپی ہے، اور بہت سے سروں پر نیت کھوٹی ۔پر اس چوری کو ممکن بنانیوالا وہ نظام بھی ہے جو دیکھ کر اندیکھا کرتا ہے، اور جس میں جانچنے والے ہاتھ کو نہ ہنر دیا گیا، نہ جواب دہی کا خوف۔ سو مجرم دونوں ہیں: وہ بھی جو جھوٹ لکھتا ہے، اور وہ ادارہ بھی جو سچ پرکھنے کی اہلیت ہی نہ رکھے۔
پانچواں فسانہ یہ کہ دولت کاغذ پر عدد لکھ دینے سے جنم لیتی ہے - گویا نوٹ ڈھال لینے سے کھیت میں گندم اُگ آئیگی۔ مگر اصل بات نوٹ چھاپنے کی نہیں، اُس خسارے کی ہے جسے پاٹنے کو وفاق ہر برس قرض اور توسیع زر کا سہارا لیتا ہے۔ یہی خسارے کی مالکاری ہے جو خاموشی سے ایک محصول وصول کرتی ہے - مہنگائی کا محصول، جو نہ گوشوارے میں لکھا جاتا ہے، نہ کسی کی منظوری سے، مگر سب سے بھاری ہاتھ اسی نادار پر پڑتا ہے جس کی جیب میں بچت کا کوئی حصار نہیں۔
اور سب سے بڑا فسانہ یہ کہ کوئی مسیحا آئے گا - کوئی قرض ، کوئی نسخہ، کوئی دوست دیار — اور ایک شب میں سارا روگ دور کر دے گا۔ مگر مسیحا نہیں آتے ، حضور ؛ صرف تقاضے آتے ہیں۔ سود کی ادائیگی سرکاری خرچ کا بڑا حصہ نگل جاتی ہے - یہ کسی نجات دہندہ کا انتظار نہیں، یہ ہماری اپنی پرانی آرزوؤں کا قرض ہے جو ہم سود سمیت لوٹا رہے ہیں۔ سعدی نے کہا تھا کہ سختی کے بعد آسانی آتی ہے - مگر یہ بشارت اُسی کیلئے ہے جو ہاتھ پاؤں ہلائے ؛ بیٹھے بٹھائے گلاب کانٹے سے نہیں نکلتا۔
سو عرض اتنی ہے کہ معیشت کوئی طلسم نہیں یہ حساب ہےاور حساب جھوٹ نہیں بولتا،۔بس ہم سننے سے گریزاں ہیں۔ نہ ساری خرابی رعایا کے کھاتے میں ہے، نہ ساری ریاست کے۔سدھار بھی دونوں کو ملکر کرنا ہے۔ نجات کسی بیگانے کے ہاتھ میں نہیں - وہ کھیت کی محنت میں ہے، کارخانے کے دھوئیں میں ہے، اُس محاصل کی رسید میں ہے جو رعایا دیانت سے ادا کرے، اور اُس امانت میں ہے جو ریاست خرچ کرتے ہوئے برتے۔ یہی نیک و بد ہے جو ہم بہ ادب حضور کی خدمت میں عرض کئے دیتے ہیں۔