• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اب وہ تین فسانے۔ پہلا: ”اساتذہ کم پڑھے لکھے ہیں۔“ حقیقت اِس کے برعکس ہے، اور اصل بات اور بھی چونکا دینے والی۔ لیپس (LEAPS) کا وہ معروف مطالعہ، جو پنجاب کے دیہات میں برسوں چلا، بتاتا ہے کہ سرکاری و نجی اساتذہ تقریباً یکساں اسناد رکھتے ہیں؛ مگر استاد جو ”حاصلِ تدریس“ بچے تک پہنچاتاہے، اُس کا بمشکل پانچ فی صد اُس کی سند، تربیت یا ڈگری سے بیان ہوتا ہے۔ سند ایک نقاب ہے اصل ہنر اُس کے پیچھے ہے۔دوسرا فسانہ: ”اساتذہ کو تنخواہ کم ملتی ہے۔“ معاملہ اُلٹا ہے۔ اِسی ’لیپس‘ کے اعداد پر تحقیق کہتی ہے کہ سرکاری استاد اوسطاً نجی استاد سے کوئی پانچ گنا زیادہ پاتا ہے ایک لاکھ سے اوپر کمانے والے ہر سو میں سے چورانوے سرکاری مکتب کے ہیں۔ اور سب سے کاری وار: ایک تجزیے میں تنخواہ پینتیس فی صد گھٹا کر دیکھی گئی، تو حقیقی تدریس پر ذرا فرق نہ پڑا۔ سو اجرت وہ زنجیر نہیں جس سے تدریس بندھی ہے۔ تیسرا فسانہ کہ ”بجٹ کم ہے“، جس کا پردہ اوپر چاک ہوا۔ تو اصل گرہ کہاں ہے؟ فقیر کی ناقص رائے میں نظامِ کار ۔ وہی ’لیپس‘ والی تحقیق کہتی ہے کہ نجی مکتب میں جو استاد زیادہ پڑھاتا ہے اُسے زیادہ ملتا ہے، مگر سرکاری مکتب میں اجرت اور حاصلِ تدریس کے بیچ کوئی رشتہ ہی نہیں۔ اور پھر یہ کہ ابتدائی جماعتوں میں اساتذہ کی غیر حاضری 17 فیصد تک جا پہنچتی ہے، اور سندھ میں تو ہزارہا اساتذہ ایسے نکلے جو مہینے میں ایک دو بار مکتب کا منہ دیکھتے ہیں۔ چونکہ تنخواہیں جاری اخراجات کا اسّی فی صد ہیں، غیر حاضری کا ہر لمحہ خالی کمرے کو دی گئی تنخواہ ہے۔ ہم دو کروڑ پچاس لاکھ بچوں کے مکتب سے باہر ہونے پر کہرام مچاتے ہیں، اور بجا مچاتے ہیں۔ مگر ذرا اُن پانچ کروڑ سے زائد کی بھی خبر لیجیے جو مکتب کے اندر ہیں: عالمی بینک اور ’اَےایس ای آر ASER جیسے پیمانے بتاتے ہیں کہ دس میں سے قریب آٹھ بچے دس برس کی عمر کو پہنچ کر بھی ایک سادہ عبارت پڑھ کر سمجھ نہیں پاتے۔ سو ”اندر رہ کر نہ سیکھنے والوں“ کا شمار اُن سے کہیں بڑھ کر ہے جو باہرہیں۔ اگر ہم اِنہی دو کروڑ پچاس لاکھ کو اِسی مکتب میں ٹھونس دیں، تو ”باہر کے بچے“ کو محض ”اندر کے ناخواندہ“ میں بدل دیں گے ایک نالائقی سے دوسری نالائقی کا سفر کتنا آسان ہو تا ہے ۔

فقیر یہ ہرگز عرض نہیں کرتا کہ بلوچستان کی اُس بچی کو مکتب نہ پہنچائیے جو مکتب کی دہلیز سے باہر کھڑی ہے، پہنچنا اس کا حق ہے، ایک قرض ہے جو ہم سب پر واجب ہے ۔ عرض صرف اتنا ہے کہ دہلیز پار کرا دینا کافی نہیں اور جب ہمارے فراہم کردہ کمرے ہی کچھ نہیں سکھاتے، تو ”اور کمرے“ بنانا اصل علاج نہیں۔ اصل سوال ”نشستوں کی تعداد“ نہیں ، ”فی نشست ترسیل تعلیم“ ہے۔اور اب اصل گواہ، جو کسی دیس بدیس میں نہیں، اِسی گلی کے اُس پار کھڑا ہے۔ سرکاری مکتب کے عین سامنے ایک کم خرچ نجی مکتب ہے:وہی گاؤں، وہی بچے، وہی ہوا۔ اپنے استاد کو سرکاری استاد کے مقابلے میں بمشکل پانچواں حصہ تنخواہ دیتا ہے، اور اکثر ایسی نوجوان، کم سند یافتہ معلمہ رکھتا ہے جسے سرکار شاید دروازے پر بھی نہ بٹھائے۔ پھر بھی اور یہی لیپس (LEAPS) کی تحقیق کا چونکا دینے والا نتیجہ ہے وہ کم تنخواہ، کم سند والی معلمہ سرکاری استاد سے بہتر پڑھاتی ہے۔ سو نہ روپیہ، نہ سند:کم خرچ پر زیادہ حاصل، عین ہمارے آنگن میں۔

تو پھر بھید کس میں ہے؟ فقیر کی ناقص رائے میں بس ایک فرق دونوں مکتبوں کے بیچ کھڑا ہے: ترغیب کا ڈھانچا۔ نجی مکتب کا مالک اُس استاد کو، جو محنت نہ کرے، فارغ کر سکتا ہے اور اُس کی اپنی روزی بندھی ہے اِس بات سے کہ وہ کتنے بچے اپنے مکتب کھینچ لاتا ہے، سو پڑھائی اُس کیلئے نفع و نقصان کا معاملہ ہے، نہ کہ سرکاری مہربانی۔ اِس کے برعکس سرکاری استاد ایک ’سرکاری ملازم‘ ہےنہ آسانی سے رکھا جاتا ہے نہ ہٹایا جا سکتا ہے۔ ’لیپس‘ ہی کی تحقیق کہتی ہے کہ سرکاری نظام میں اجرت کا رشتہ سند اور برسوں سے ہے، حاصلِ تدریس سے نہیں؛ جب کہ جہاں کارکردگی سے بندھی تنخواہ آزمائی گئی، وہاں بہتر اساتذہ خود کھنچے چلے آئے۔ ثبوت چاہیے تو خود پنجاب میں موجود ہے۔ حکومت نے اپنے بدترین کارکردگی والے ہزارہا سرکاری مکاتب نجی منتظمین کے سپرد کیے،اپنی ہی فی بچہ لاگت سے کہیں کم پر اِس شرط کے ساتھ کہ وہ اپنے استاد خود رکھیں گے۔ سو رکاوٹ روپے کی نہیں، اُس زنجیر کی ہے جو محنت کو انعام اور سستی کو سزا سے جوڑتی ہے، اور جو سرکاری مکاتب میں سرے سے ٹوٹی ہوئی ہے۔جو اپنے سامنے کے سبق سے آنکھ چرائے، اُسے کوئی نہیں پڑھا سکتا۔

سو علاج کیا ہے؟ ۔ اگر بھید ترغیب کے ڈھانچے میں ہے، تو شفا بھی وہیں ہے اور علاج مرض کی شدت کے مطابق۔ جو سرکاری مکتب برسوں سے ناکام پڑے ہیں، اُن کی نظامت بے کھٹکے ایسے ہاتھوں میں دیدی جائے جو محنت کو پرکھ سکیں اور کاہلی کو چلتا کریں ، جیسا پنجاب پہلے کر چکا ہے۔ خرچ سرکار کا، نگرانی سرکار کی، مگر چلانے کا ہنر اُس کے سپرد جسے بچے کا سیکھنا اپنا نفع و نقصان معلوم ہو۔ فقیر یہ نہیں کہتا کہ یہ راہ کانٹوں سے خالی ہے۔ ہر نجی منتظم فرشتہ نہیں؛ کہیں منافع کی ہوس بچے کی حفاظت اور برابری پر بھاری پڑ سکتی ہے، اور خود عالمی بینک خبردار کرتا ہے کہ نجی منتظمین کے نتائج ہر جگہ یکساں نہیں رہے۔ سو یہ سپردگی آنکھ بند کر کے نہ ہو، بلکہ کڑی شرطوں اور سخت نگرانی کے ساتھ۔اور رہیں اساتذہ کی انجمنیں ،ہاں، یہ راہ کا سب سے بڑا پتھر ہیں، اور فقیر اِس سے آنکھ نہیں چراتا۔ مگر کوئی انجمن کب تک ایک پوری قوم کے بچوں کو یرغمال بنائے رکھ سکتی ہے؟ کسی نہ کسی دن، کوئی نہ کوئی حکومت اُٹھے گی اور انجمنوں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر کہے گی کہ میز پر فیصلہ طلب مسئلہ بچے کی تعلیم ہےاستاد کی مراعات، تحفظ اور تاحیات وظیفہ نہیں۔

سو فقیر کی ناقص رائے میں حاصلِ بحث یہ ہے کہ تعلیمی بجٹ کا کم ہونا ایک افسانہ ہے، بے ثمر خرچ ایک حقیقت۔ ملّا نصیرالدینؒ کی وہ چابی، جو ہم برسوں سے لیمپ کے نیچے ڈھونڈ رہے ہیں وہاں ہے ہی نہیں،وہ اُسی اندھیرے کونے میں پڑی ہے، جواب دہی کے کونے میں۔ چراغ میں تیل کی کمی نہیںبتی جل کر بجھ چکی ہے اور لَو کہیں اور بھٹک رہی ہے۔ رِستا ہوا کوزہ بدلیے، جواب دہی کی بتی سنواریے، اور ہر بچے کو اُسکی اپنی سطح پر پڑھائیے پھر یہی کھرب، جو آج بے سبب برباد ہو رہے ہیں، حرف اور شعور کی فصل اگانے لگیں گے۔

تازہ ترین