شام کا دھندلکا اُترا تو اسلم شہر سے لوٹا تھکن سے چُور، جوتوں پر سوتر منڈی کی گرد۔ ماں نے صدا دی: ”نصرت! بھائی تھکا آیا ہے، ٹھنڈا پانی تو لا۔“ لالٹین کی لَوتلے نصرت نے کتاب سے نظر اٹھائی ،بی اے میں ضلع بھر کی اوّل، جس کی سند اُسی صندوق میں مقفّل ہے جہاں جہیز کے برتن دھرے ہیں۔ خاموشی سے گلاس بھرتی ہے جھکتے ہوئے ایک ٹیس سی اٹھتی ہے: بھائی، جو پرائمری سے آگے نہ پڑھ سکا، شہر بہ شہر نوکری کرتا پھرتا ہےاور میں اپنے ہی گاؤں کی دہلیز نہیں پھلانگ سکتی۔ اُس کی محنت گھر کا وقار، میری محنت گھر کا اندیشہ۔ رشتہ آئے تو ابّا فخر سے فرماتے ہیں، ”بیٹی بی اے پاس ہے“ مگر سند برتنے کا ذکر چھڑے تو وہی اعزاز عیب ٹھہرتا ہے۔
یہ ایک آنگن کی روداد نہیں، قوم کے بہی کھاتے کا ایک بدصورت ورق ہے۔ ادارۂ شماریات کے لیبر فورس سروے (2024-25) کی رو سے ہر 100 عورتوں میں فقط 24 معیشت میں شریک۔ حساب کھولیے: عورتیں محض بنگلہ دیش کی شرح سے کام کریں تو 1.5 کروڑ نئے کارکن میسر آئیں ۔ ہنر بھی، بازو بھی دہلیز کے اندر محبوس۔ مکمل مساوات ہو تو گم شدہ لشکر 4.5 کروڑ۔ اہلِ معیشت اِسے ”گم شدہ کارکن“ کا نام دیتے ہیں۔فقیر کی نظر میں آدھی فوج خیموں میں اور خواب فتحِ مبین کے۔ ابن خلدون مقدمے میں لکھ گیا ہے کہ دولت انسانی محنت ہی کا دوسرا نام ہے جس معیشت کی آدھی محنت بہی کھاتے سے باہر پڑی ہو، اُس کا خزانہ کیوں کر بھرے؟
ستم بالائے ستم کڑی قید اُسی پر ہے جس نے سند حاصل کی۔ جامعات میں بیٹیاں بیٹوں سے آگے نکل گئیں ۔ صفِ اوّل کی درسگاہوں میں پلڑا اُن کی طرف جھکا ہے ۔کنگ ایڈورڈ کی میرٹ لسٹ اٹھائیے، اوپر کے نام بیٹیوں کے ہیں۔ مگر ڈگری یافتہ مردوں میں قریب سبھی برسرِ کار یا طلب گارِ کار، عورتوں میں بمشکل نصف۔ نصیب دیکھیےپڑھے لکھے مردوں میں بے روزگاری 6-7 فیصد، پڑھی لکھی عورتوں میں 40 سے اوپر۔ گویا جوں جوں سند اونچی ہوئی، صندوق کا قفل بھاری ہوتا چلا گیا۔اور قفل کی کنجی کسی دفتر یا قانون میں نہیں مرد کی نفسیات کی تہ میں دفن ہے۔ غیرت کے اُس بھیانک تصور میں جو بہن کے ہنر کو خطرہ جانے۔ ثبوت پنجاب کی تجرباتی تحقیق میں ہے (چیمہ، خواجہ، ناصر اور شپیرو کی ”شیشے کی دیواریں“ Glass Walls، جرنل آف پولیٹکل اکانومی، 2026): جہاں ہنر سیکھنے کو گاؤں کی حد پار کرنا لازم ہو خواہ چند کلومیٹر ۔ عورتوں کی شرکت گھٹ کر چوتھائی رہ جاتی ہےاور راہ کھوٹی کرنے والا فاصلہ نہیں، وہ گھورتی نگاہ ہے جو دہلیز پار کرتی بیٹی کا حساب رکھتی ہے۔ اِسی نگاہ کے طفیل بیٹے کا ہنر سکہ رائج الوقت؛ بیٹی کا ہنر قبر کی امانت۔اور یہ مت کہیے کہ عورت کام سے جی چراتی ہے وہ مسلسل جُتی ہوئی ہے، بس مشقّت کھاتے میں درج نہیں6 کروڑ 70 لاکھ عورتیں نسوانی آبادی کا 77 فیصد ،بلا اجرت گھر گرہستی اور نگہداشت میں جُتی ہیں۔ عورت کے حصے 5 گھنٹے روزانہ، مرد کے حصے آدھ گھنٹہ۔بنگلہ دیش میں 44 فیصد عورتیں برسرِ کار، بھارت میں 33، ہم 24پر۔ اور دین کی تاویل سے پہلے سنیےانڈونیشیا اور ملائیشیا میں نصف سے زائد عورتیں کام پر ہیں، ترکی میں بھی 36 فیصد کے لگ بھگ۔ سو مسئلہ مذہب میں نہیں اِس خطے میں ہے جو مردانہ برتری کو مذہب کی قبا پہناتا ہے۔ ورنہ جس دین کا اوّلین سرمایہ اُمّ المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللّٰہ عنہا کی تجارت تھی، جس کے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللّٰہ عنہا نے بھری مسجد میں کھڑے ہو کر اپنا حق مانگا، جن کی نواسی حضرت زینب رضی اللّٰہ عنہا کے خطبے سے دمشق کا دربار لرز اٹھا، اور جہاں بصرہ کے صوفیا حضرت رابعہ بصری رحمۃ اللّٰہ علیہا کے آگے زانوئے تلمذ تہ کرتے تھے اُس کے نام پر بیٹی کے قدم باندھنا تاریخ و تہذیب سے دشمنی ہے۔ اِس رویے کی توجیہ ایک ضدی انا کے سواکچھ بھی نہیں۔
اب زیاں کا مول، درجہ بدرجہ: بھارت کے برابر آئیں تو سالانہ 20 ارب ڈالر۔بنگلہ دیش کو چھو لیں تو 40 ارب ہر برس۔ ملائیشیا کی شرح پر 50 ارب ڈالر سے متجاوز اور جنوبی کوریا کی شرح پر جہاں 56 فیصد عورتیں برسرِ کار ہیں تو 60 ارب کے لگ بھگ۔ خواب ہم کوریا بننے کے دیکھتے ہیں، مگر عورت سے اپنا رویہ بدلنے پر آمادہ نہیں۔ یاد رہے کہ کوریا کا راستہ کابل سے ہو کر نہیں گزرتا۔اِن اعداد کا مطلب سمجھیے: قومی پیداوار 450 ارب ڈالر ہےاور چونکہ عورت کے ہاتھ پہنچی آمدنی بچوں کی خوراک، صحت اور تعلیم پر زیادہ صرف ہوتی ہے، نسل در نسل ثمرات جوڑیے اور بنگلہ دیش کو ہی پیمانہ مان لیں تو زیاں کم از کم 46 ارب ڈالر سالانہ اشیا کی کل برآمدات سے 1.5 گنا۔ ریاست پیداوار کا دسواں حصہ بھی محاصل میں اٹھائے تو 4.5 ارب ڈالر پائے۔ فی کس آمدنی میں 10 فیصد اضافہ الگ۔ روز کا حساب12.5کروڑ ڈالر لگ بھگ 10 کلومیٹر موٹروے کے خرچ کے برابر۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ایک جرم ہے اور قابلِ دست اندازی پولیس ہےمگر جو نگاہ روز 10کلومیٹر موٹروے نگل جاتی ہے، کسی تعزیرات میں درج نہیں۔ کھرے کھاتے میں لکھیے: یہ معاشی خسارہ نہیں، مردانہ اَنا کا سالانہ خراج ہے جو ہم اپنی ہی بیٹیوں سے وصول کرتے ہیں۔مگر ایک باریکی ملحوظ رہے: مقصود محض گھر سے نکلنا نہیں، بارآور کام تک پہنچنا ہے 30 برس میں مرد کھیت چھوڑ کر صنعت و خدمات کو گئے، زراعت کی ارزاں مشقّت عورتوں کے حصے آتی گئی۔ سند یافتہ بیٹی کو بھیڑ بکریوں کے سپرد کرنا آزادی نہیں، اسراف کی دوسری صورت ہے۔ بنگلہ دیش کا کمال یہی تھا کہ اُس نے بیٹیوں کو کارخانے کی مشین تک پہنچایا۔
ریاست کے ذمے جو ہے سو ہے محفوظ سواری، عورتیں کھپانے والی صنعت مگر اصل بار اُس غیرت پر ہے جس نے اپنے معنی ہی کھو دیے۔ جس دن عقدہ کھلا کہ اصل غیرت بہن کو پابند رکھنے میں نہیں، سربلند چلتے دیکھنے میں ہے، قفل بغیر کنجی کھل جائے گا۔ اِسی قفل کو کھولنے کیلئے فہمیدہ ریاض اور کشور ناہید عمر بھر کوشش کرتی رہیںاور مجازؔ کب کے کہہ چکے: تو اِس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا۔
شام اور گہری ہو چلی ہے۔ نصرت گلاس رکھ کر پلٹتی ہے، لالٹین کی لَو اُسی صندوق پر جھلملاتی ہے جہاں سند دبی پڑی ہے اور اُس کے اندر کی گھٹی ہوئی ٹیس اور تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔ گویا حافظ کی زباں میں کہ من خموشم و او در فغان و در غوغاست۔ نصرت کوئی افسانوی کردار نہیں اُسی گم شدہ لشکر کی سپاہی ہے جسے میدان دیے بغیر ہم فتح کے خواب دیکھتے ہیں۔ اُس کے اور میدان کے بیچ نہ دیوار ہے نہ زنجیر بس ایک نگاہ جو دہلیز پر پہرہ دیتی ہے، اور ایک اَنا جو پہرے کو غیرت کہتی ہے۔ سوال لیاقت کا نہیں لیاقت عطا ہو چکی،سوال اب حوصلے کا ہے اور حساب کا ہے۔پوچھنا یہ ہے کہ لڑکی کو گھر بٹھائے رکھنے کا خراج ہم کب تک بھریں گے؟ کوئی قوم اپنی نصف آبادی کو صندوق میں مقفّل رکھ کر سربلند نہیں ہوا کرتی۔