وہ وقت آگیا ہے …!

December 06, 2021

علامہ اقبال کے شہر سیالکوٹ کے واقعہ پر کالم لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ رہے ہیں، دل بیٹھ رہا ہے اور آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا ہے ۔ وہ الفاظ نہیں مل رہے، جن سے اپنے دکھ اور اپنی ندامت کا اظہار کروں ۔ وہ کون اور کس طرح کے لوگ ہوں گے ، جنہوں نے اسپورٹس گارمنٹس کی ایک فیکٹری میں مذہبی پوسٹر پھاڑنے کا الزام لگا کر فیکٹری کے سری لنکن مینجر پر یانتھا کمارا کو پہلے مار مار کر ادھ موا کر دیا ۔ پھر اسے گھسیٹ کر جی ٹی روڈ پر لے گئے اور مزید تشدد کے بعد اسے زندہ جلا دیا ۔ الامان والحفیظ ، الامان والحفیظ..........!

پوری دنیا میں اس واقعہ کی مذمت کی جا رہی ہے ۔ پاکستان کے حکمرانوں ، سیاست دانوں ، مذہبی شخصیات اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ممتاز لوگ بھی اس واقعہ کی مذمت کر رہے ہیں لیکن شاید ہماری یہ مذمت دنیا کی نظر میں ’’ عذر گناہ بدتر ازگناہ ‘‘ سے زیادہ کچھ نہیں ہو گی ۔ عمران خان کے بطور وزیر اعظم پاکستان یہ الفاظ کسی حد تک مناسب ہیں کہ ’’ سری لنکن منیجر کو زندہ جلانے کا واقعہ پاکستان کیلئے شرم کا دن ہے ۔ ‘‘ جی ہاں ! ہمیں مذمت کرنے کی بجائے ندامت کا اظہار کرنا چاہئے ۔ ندامت اور شرمساری کے لئے موزوں الفاظ کی تلاش کے لئے ہمیں مختلف زبانوں کی لغات ( ڈکشنریز ) کی مدد لینی چاہئے تاکہ دنیا کو احساس ہو کہ پاکستانی معاشرہ مکمل طور پر تباہی اور عدم برداشت کا شکار نہیں ہوا ۔ کچھ لوگ اب بھی پاکستانی معاشرے کے خوف ناک انحطاط سے پریشان ہیں ۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک غیر ملکی باشندے کے اس بہیمانہ قتل کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا اور کہا ہے کہ اس طرح کا ماورائے عدالت قتل کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے ۔ یہ بات بہت منطقی ہے ۔ جب توہین مذہب کا قانون موجود ہے ( جس پر پاکستان کے کچھ حلقوں سمیت پوری دنیا کو اعتراض ہے ۔ ) تو کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر کسی نے توہین مذہب ، توہین رسالت ، توہین اہلبیت یا توہین صحابہ کا کوئی واقعہ دیکھا ہے تو وہ پہلے پولیس میں رپورٹ کرے اور عدالت میں اس واقعہ کے شواہد مہیا کرے ۔ عدالت خود ہی فیصلہ کرے گی کہ توہین کے مرتکب ایسے شخص کو سزا دینی ہے یا نہیں ۔ لوگ اپنے طور پر سزا نہیں دے سکتے ۔ لیکن عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنی عدالت لگا کر سزا دے دیتے ہیں ۔ کسی کو صفائی کا موقع بھی نہیں دیتے ۔ دنیا آرمی چیف کی بات پر بھی اس وقت یقین کرے گی ، جب آرمی چیف کے مطابق ماورائے عدالت کے قتل کے مجرموں کو کڑی سزا دی جائے گی ۔ٹی وی چینلز کی رپورٹس کے مطابق فیکٹری کے گارڈز بھی سری لنکا کے اس باشندے کو نہ بچا سکے اور وہ لوگ بھی نہ بچا سکے ، جو چھتوں پر چڑھ کر اس واقعہ کی ویڈیو بنا رہے تھے ۔ ٹی وی چینلز کہہ رہے تھے کہ یہ لوگوں کی بے حسی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں کو ئی بھی شخص ہوتا ، مشتعل ہجوم کے آگے بے بس ہوتا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ اس نہج تک کیسے پہنچا ؟

میں بار بار انہی کالموں میں لکھ رہا ہوں کہ اس صورت حال کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے قیام پاکستان سے لے کر آج تک پاکستان کو غیر سیاسی بنانے کی کوشش کی ۔ وہی لوگ اپنے گریبان میں جھانکیں ۔ سیاست کو کمزور کرنے اور سیاست دانوں کو جسمانی اور سیاسی طور پر کمزور کرنے کا یہی نتیجہ نکلنا تھا ، جس ملک میں سیاست اور سیاست دانوں کو گالی بنا دیا جائے ، اس ملک میں انتہا پسندی کے فروغ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا ۔ اس بات کا کریڈٹ پاکستان تحریک انصاف کو جاتا ہے ، جس نے سیاست اور سیاست دانوں کو گالی دینے پر کام کیا اور معیشت کی تباہی اور سیاسی عدم استحکام کا الزام اپنے سر لیا ۔

پاکستان کی سیاست ، پاکستانی معاشرے کی کثرتیت والی سوچ ، رواداری ، برداشت اور جمہوری رویوں پر اس وقت برا وقت شروع ہو چکا تھا ، جب تحریک انصاف کی قیادت کے سیاسی فلسفے کو انقلاب اور تبدیلی کا فلسفہ ثابت کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا گیا اور اس کےلئے ’’ نصابی مڈل کلاس ‘‘ کو آلہ کار بنایا گیا ۔ انقلاب اور تبدیلی کا وہ خواب اس وقت اسی مڈل کلاس کی مایوسی میں تبدیل ہو چکا ہے اور وہ اب انتہا پسندی کی طرف راغب ہے ۔ معیشت کی تباہی ، خارجہ اور داخلہ پالیسیوں میں ناکامی اور بیڈ گورننس کے بعد لوگ واپس ان سیاسی قوتوں کے پاس کیسے جائیں ، جو مبینہ کرپشن کے باوجود عالمی مالیاتی اداروں کو مزاحمت دیتی تھیں اور عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی بجائے اپنی حکومتوں کی برطرفی پر راضی ہو جاتی تھیں۔ لوگوں کے پاس اب ایک ہی راستہ ہے کہ وہ انتہا پسند قوتوں کی طرف دیکھیں گے۔ لوگوں کا مطلب ’’ نصابی مڈل کلاس ‘‘ ہے ، جسے پاکستان کی سیاست میں فیصلہ کن ’’ پولٹیکل فیکٹر ‘‘ بنا دیا گیا ہے ۔ حالانکہ پاکستان کی اکثریت غریب عوام اس ’’ نصابی مڈل کلاس ‘‘ کی سوچ سے متفق نہیں ہے ۔

وطن عزیز کو غیر سیاسی بنانے کی کوششیں اب نہ صرف پاکستانی معاشرے ( سماج ) کے مکمل انحطاط کا سبب بن گئی ہیں بلکہ خود ریاست کی سلامتی کےلئے بھی خطرہ بن گئی ہیں ۔ ان کوششوں کے اثرات کو پلٹنا اب آسان نہیں رہا ۔ معیشت کی تباہی نے ایسی کوششیں کرنے والی طاقتوں کو اس قابل نہیں چھوڑا کہ وہ اپنے کھیل کے نتائج اپنی مرضی سے حاصل کر سکیں ۔ معیشت کے ساتھ ساتھ داخلی اور خارجی سیاست بھی ان کے ہاتھ میں نہیں رہی ۔ یہ طاقتیں اب ’’ ڈبل گیم ‘‘ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہیں ۔ اب ان کا کھیل بھی ختم ہو گیا ہے ۔ اب معاملات عالمی مالیاتی اداروں اور ان کے سرپرستوں کے ہاتھوں میں مکمل طور پر چلے گئے ہیں ، جو پہلے جزوی طور پر ان کے ہاتھوں میں تھے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی یہ پیش گوئی درست ثابت ہو رہی ہے کہ پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کو انتہا پسندوں کے ذریعے عالمی طاقتیں اپنی مرضی سے چلائیں ۔ ان ملکوں میں انتہا پسند سیاست اور حکومتیں ہوں گی اور ان کے فیصلے غیر ملکی طاقتیں کریں گی ۔ مجھے لگتا ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے ۔ اس سے آگے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ۔

آیئے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی،

ہم جنھیں رسم دعا یاد نہیں

ہم جنھیں سوز محبت کہ سوا

کوئی بت کوئی خدا یاد نہیں

آئیے عرض گزاریں کہ نگار ہستی

زہر امروز میں شیرینیٔ فردا بھر دے

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)