سندھ کے ساتھ دریائی ناانصافیاں

December 07, 2021

سندھ تین ’’طرفہ‘‘ فارمولا کے خلاف مسلسل احتجاج کررہا ہے مگر پنجاب اور ارسا اس کا موقف قطعی طور پر سننے کے لئے تیار نہیں اور مسلسل اس فارمولا پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں ستمبر کے آخر میں ارسا کی فنی کمیٹی کے اجلاس میں سندھ کے نمائندے مسلسل احتجاج کرتے رہے جبکہ پنجاب اور ارسا اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے لہٰذا سندھ کے نمائندوں کو مجبور ہوکر اس اجلاس کا بائیکاٹ کرنا پڑا، اس ہنگامے میں بلوچستان اور کے پی نے پنجاب کا ساتھ دیا کیونکہ اس فارمولا کے تحت پانی کی قلت کی تقسیم میں بلوچستان اور کے پی کے شریک نہیں کئے جاتے۔ یہ قلت فقط سندھ اور پنجاب میں تقسیم کی جاتی ہے۔ سندھ اس فارمولا کے خلاف ہے کہ اس سے سندھ کو ہر سال 5 ارب کا نقصان ہورہا ہے۔سندھ حکومت کے یہ نمائندے دریائے سندھ کے پانی کی صوبوں میں تقسیم کے سلسلے میں ارسا کی فنی کمیٹی کے اس اجلاس کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں، ارسا کی فنی کمیٹی کا یہ اجلاس پنجاب کے سیکریٹری آبپاشی اور ارسا کے قائم مقام چیئرمین سیف انجم کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں ربیع کی فصل کے لئے دریائی پانی کی تقسیم کے بارے میں غور کیا گیا۔ اجلاس میں سندھ کی طرف سے سیکرٹری آبپاشی سہیل قریشی، چیف انجینئر ظریف کھیڑو، اسپیشل سیکرٹری جمال منگن اور سیکرٹری زراعت عبدالرحیم سومرو نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومت سندھ کے نمائندوں نے کہا کہ پانی کی تقسیم 91 ء کے معاہدے کی پیراگراف 2 کے تحت کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو سندھ یہ فیصلہ قبول نہیں کرے گا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ربیع میں پانی کی ٹوٹل قلت 28 فیصد ہے۔ اجلاس میں پانی کی تقسیم کے ایشو پر وفاق‘ پنجاب‘ بلوچستان اور کے پی کے ایک ہوگئے تو تقسیم ’’تین طرفہ‘‘ فارمولا کے تحت ہوگی۔ اجلاس میں ربیع میں پانی کی تقسیم کے حوالے سے پانی کی مقدار کے اندازے اور دریا کے بہائو کے اعداد و شمار کے بارے میں جو بریفنگ دی گئی اس پر سندھ کے نمائندوں نے اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ بریفنگ میں سندھ کو پانی کا حصہ ’’تین طرفہ‘‘ فارمولا کے تحت دکھایا گیا ہے جبکہ باقی صوبوں میں پانی کی تقسیم 91 ء کے معاہدے کے پیراگراف 2 کے تحت کی گئی ہے۔ سندھ کے نمائندوں نے کہا کہ انہیں اس بریفنگ میں جو اعداد و شمار دیئے گئے ہیں وہ انہیں قبول نہیں، بہرحال سندھ کے اس مطالبہ پر اس بریفنگ کو واپس لیا گیا جبکہ ارسا کی طرف سے سندھ کے نمائندوں کے ان اعتراضات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ارسا میں سندھ کے ممبر زاہد جونیجو نے کہا کہ اتنی بڑی غلطی پر ارسا کی خاموشی معنی خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بریفنگ قبول نہیں ہے۔ سندھ کے سیکرٹری زراعت نے کہا کہ وزیر اعظم زراعت کو اولین ترجیح دے رہے ہیں مگر یہاں ایک صوبے کا حصہ کاٹا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی تقسیم سے نقصان ہوگا۔ سندھ کے سیکریٹری آبپاشی سہیل قریشی نے کہا کہ سندھ کا مطالبہ ہے کہ پانی کی تقسیم معاہدے کی پیراگراف 2 کے تحت کی جائے جبکہ انہیں دوسرا کوئی فارمولا قبول نہیں۔ ارسا کے قائم مقام چیئرمین نے کہا کہ 18سال سے ارسا کا طے شدہ فارمولا یہی ہے کہ تقسیم ’’تین طرفہ‘‘ فارمولا کے تحت ہورہی ہے لہٰذا اس فارمولا کی سندھ کی طرف سے ہونے والی مخالفت بلاوجہ ہے۔ ارسا کے قائم مقام چیئرمین نے کہا کہ پیراگراف 2 کے تحت پانی کی تقسیم کے بارے میں سندھ کے مطالبہ میں کوئی وزن نہیں ہے۔اس کے بعد اجلاس میں موجود کے پی کے،وفاق اور بلوچستان کے ممبران نے بھی پنجاب کے ممبر کا ساتھ دیا اور ’’تین طرفہ‘‘ فارمولا کے تحت پانی کی تقسیم کا فیصلہ کیا گیا۔ اس مرحلہ پر بشمول ارسا میں سندھ کے ممبر اور سندھ کے سیکرٹری آبپاشی سندھ کے سارے نمائندوں نے کہا کہ اگر زبردستی کی گئی تو سندھ کے نمائندے اس اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے۔ سیکرٹری آبپاشی نے کہا کہ پاکستان فقط صادق آباد تک محدود نہیں ہے، اس سے آگے بھی پاکستان ہے لہٰذا صوبوں میں برابری کی بنیاد پر پانی کی تقسیم کی جائے۔ سندھ کے ممبر زاہد جونیجو نے کہا کہ سندھ کو پاکستان کا حصہ سمجھا جائے،سندھ کا ڈیلٹا پاکستان کا ڈیلٹا ہے۔ بلوچستان کے پانی کا حصہ 12 فیصد ہوتا ہے اس کو اپنے ساتھ ملا کر پانی کے پچاس فیصد حصے والے سندھ کو پیچھے نہیں دھکیلا جاسکتا۔یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے بلوچستان کو اپنے ساتھ ملاکر غلط فیصلہ نہ کریں۔ اس مرحلے پر پانی کی تقسیم کے بارے میں ارسا کے اجلاس میں ہنگامے جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اسکے بعد سندھ کے نمائندے اجلاس کا بائیکاٹ کرکے باہر چلے گئے۔ اس وجہ سے ارسا کی مشاورتی کمیٹی پہلی بار کوئی فیصلہ نہیں کرسکی۔ ارسا کے ترجمان خالد ادریس نے رابطہ کرنے پر صحافیوں کو بتایا کہ مشاورتی کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سندھ کے بائیکاٹ کی وجہ سے کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ بشمول وفاق چاروں صوبوں نے موقف اختیار کیا کہ تین طرفہ فارمولا کا ایشو مشترکہ مفادات کونسل کو بھیجا گیا ہے لہٰذا یہ فیصلہ ہونے تک پانی کی تقسیم ’’تین طرفہ‘‘ فارمولا کے تحت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود سندھ نے اس فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ (جاری ہے)