اعلیٰ حضرت، فاضل بریلویؒ

September 22, 2022

پروفیسر ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی

موجودہ زمانے میں نافع شخصیتوں سے مستفیض و مستفید ہونے سے عوام و خواص اس لیے بھی محروم ہوئے کہ ان حضرات کا اور ان کے کارناموں کا صحیح معنی میں تعارف نہ ہوسکا۔ ایسی متعدد شخصیات مختلف ادوار اور مختلف شعبہ جات میں منصہ شہود پر آئیں اور حیرت انگیز کارنامے بھی انجام دیے، لیکن کبھی کبھی کچھ وجوہ کی بنیاد پر ان کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا گیا یا تغافل سے کام لیا گیا۔ ان ہی میں سے ایک شخصیت مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلویؒ کی بھی ہے، جن کا علمی قد اُن کے درمیان دراز تھا جو اُن سے فکری اور اعتقادی اختلاف رکھتے تھے، لیکن وہ اُن کی علمی گہرائی اور گیرائی کے معتقد ہونے کی حد تک معترف تھے۔

آپ بریلی شریف کے ایک نہایت متمول اور علمی گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔آپ کے دادامولانا رضا علی خان ؒ ایک بڑے عالم دین اور خطّۂ روہیل کھنڈ کے نامور افراد میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کے والد ماجد مولانا نقی علی خان صاحبانِ علم منقول اور معقول میں اپنی ایک امتیازی شان کے حامل تھے۔آغوش تربیت علمی تھی، لہٰذا علم کی طرف رغبت ایک فطری بات تھی لیکن آپؒنے اپنی وہبی اور کسبی صلاحیتوں سے اس میں چار چاند لگائے اور بڑی قلیل مدت میں اپنی شخصیت کو علمی حلقے میں ممتاز کرنے کی سعی فرمائی۔

اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ اعلیٰ حضرتؒ نے یہ سعی کسی منصوبے کے تحت نہیں کی، بلکہ ایک ذمہ دار عالم دین ہونے کے ناطے علمی فریضے انجام دیے اور درجہ بہ درجہ ان مراحل سے گزرتے ہوئے کمال کی حد تک درجۂ علمی تبحر کے حامل ہو گئےاور ایسے علمی، تحقیقی اور تجدیدی کارنامے انجام دیے کہ ان کے وصال کے سو سال گزر جانے کے بعد بھی ان کے علمی قد کا احاطہ کرنے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

اعلیٰ حضرت کی شخصیت سے جس قدر علمی جہات دیکھنے کو ملتی ہیں، وہ اپنے آپ میں ایک قابل تحقیق انکشاف ہے اور اس اعتراف کا متقاضی ہے کہ وہ ایک غیر معمولی خدادا صلاحیتوں کے حامل تھے جو گزرے ہوئے سو سالوں میں شاید ہی کسی دوسرے میں دیکھنے کو ملی ہوں۔ عوام الناس نے” اعلیٰ حضرت“ تسلیم کیا اور خواص نے بریلی کے ا حمد رضا کو” امام احمد رضا“ تصور کیااور یہ سب اس لیے ہوا کہ فاضل بریلوی نے جس میدان میں قدم رکھا، وہاں امتیاز ہی امتیاز تھا، خلوصِ نیت تھی ، خشیت الہٰی تھی اور عشق رسول ﷺ تھا۔

عوام الناس کے درمیان آپؒ سب سے زیادہ متعارف بحیثیت نعت گو شاعر کے ہوئے ۔ نعتیہ شاعری کے میدان میں جب قدم رکھتے ہیں تو محققین اس بات کی تفریق کرنے میں قاصر نظر آتے ہیں کہ ان کے پورے کلام میں ابتدائیہ کلام کون سا ہے اور اختتامی دور کا کلام کون سا ہے۔ میرے ناقص مطالعے اور مشاہدے کے مطابق ایسی یکسانیت غالبؔ کے علاوہ کسی اور سخن ور میں دکھائی نہیں دیتی۔ اگر یہ کہا جائے کہ نعتیہ شاعری کو ایک مستقل صنفِ سخن کی طرح متعارف کرانے میں امام احمد رضاؒ کی شاعری کا کلیدی کردار ہے تو یہ مبالغہ نہیں ہوگا۔ حدائق بخشش کا مطالعہ کرنے والے اہل علم اور اہل دل اس بات کی گواہی دیں گے کہ آپ کی شاعری مکمل طور سے آمد ہی آمد ہے۔ سنگلاخ زمینوں کو اپنا کر سہل ممتنع میں کلام کہہ دینا یقیناً ایک کرشمہ ہی تو ہے ؎

سوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہو جائے

چھائیں رحمت کی گھٹا بن کہ تمہارے گیسو

………

عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں

عرش کی آنکھوں کے تارے ہیں وہ خوشتر ایڑیاں

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی ایسی عمیق محبت امام احمد رضا ؒکو عطا فرمائی تھی کہ صفحۂ قرطاس پر ثنائے رسول سجانے کے لیے اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کی ایک ادا کا یاد آنا کافی ہو جاتا تھا ۔ ’’مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘ کے ذریعے آپ ؒنے عشق و محبت سے لبریز جو گوہرِ نایاب کلام پیش کیا ،اس جیسا دوسرا سلام شاید آپ ہی لکھ سکتے تھے،جس کے ایک ایک شعر کی تشریح و تفسیر میں کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، مندرجہ ذیل اشعار کو پڑھنے کے بعد کوئی بھی انسان اس بات کی تصدیق کر سکتا ہے؎

عیدِ مشکل کشائی کے چمکے ہلال

ناخنوں کی بشارت پہ لاکھوں سلام

لیلۃ القدر میں مطلع الفجرِ حق

مانگ کی استقامت پہ لاکھوں سلام

ان کا ترجمۂ قرآن تراجم کی دنیا میں ایک شاہ کار کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن عظیم کا ترجمہ کرنا ایک عالم دین اور ایک عربی داں کے قلم سے ہونا مافوق الادراک کام نہیں ، لیکن مشیت ایزدی پر نظر رکھتے ہوئے کلام الہٰی کا ترجمہ کر نا یقیناً ایک امتیاز ہے اور یہ مقام اسی شخص کو حاصل ہو سکتا ہے جس پر صاحب قرآن کے الطاف و عنایات بے شمار ہوں۔

راقم الحروف جغرافیہ کا طالب علم ہے، جن آیات میں ارضیات اور جغرافیائی معاملات کی نشاندہی فرمائی گئی ہے ۔اعلیٰ حضرت نے ان آیات کا جس Scientific انداز میں ترجمہ کیا ہے، اسے پڑھ کر عصری درسگاہوں کے geographer and geologist بھی حیرت میں پڑ سکتے ہیں کہ جو تھیوریز آپ کی حیاتِ ظاہری کے بعد منظرِ عام پر آئی ہوں انہوں نے ان سے بہت پہلے ان تھیوریوں سے تطبیق رکھتا ہوا ترجمہ رقم فرمایا ہے۔

اعلیٰ حضرت کی فقہی بصیرت پر تو کیا ہی کہا جاسکتا ہے۔بڑے بڑے اساطینِ علم ان کے تفقہ کے معترف تھے اور ہیں۔ آپ فتویٰ نویسی نہیں کرتے تھے ،بلکہ وہ ہر مسئلے کی تحقیق میں فتوے کی شکل میں ایک فقہی شاہکار پیش کیا کرتے جس کی وجہ سے فقہی دنیا میں وہ صرف ایک فقیہ ہی نہیں ،بلکہ ایک مجتہدانہ شان کے حامل تھے۔ اسی لیے فتاویٰ رضویہ موجودہ دور میں علمِ فقہ کی ایک ڈائرکٹری تصور کی جاتی ہے۔اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی ۱۱؍ ہزار صفحات پر مشتمل اِس فتاویٰ میں اتنے علوم و فنون پر تحقیق پیش کی ہے کہ الگ کرنے پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بیک وقت متعدد علوم و فنون کے ماہر رہے ہوں گے۔

معروف ماہرِ ریاضیات ڈاکٹر سرضیاء الدین احمد، سابق شیخ الجامعہ ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا امام احمد رضا سے متأثر ہو جانا اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں یقیناً علم ریاضی میں مہارت حاصل رہی ہوگی ،کیوں کہ اس دور میں سر ضیاء الدین بین الاقوامی سطح پر اپنی ریاضی دانی کے لیے معروف تھے۔

فاضل بریلوی ؒعلم فلکیات، معاشیات اور اقتصادیات میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ ان کے ترجمۂ قرآن کا مطالعہ کرنے والے حضرات یہ بخوبی جان لیں گے کہ اعلیٰ حضرت کتنے قابل یقین اور سائنٹفک انداز میں ان حوالوں سے اپنے علم کا اظہار فرماتے ہیں۔ آپ کو اقتصادیات کا کتنا گہرا علم تھا اس بات کا اندازہ پروفیسر رفیع اللہ صدیقی کے ایک مضمون ’’فاضل بریلوی کے چار معاشی نکات‘‘ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اعلیٰ حضرت نے کرنسی نوٹ کے حوالے سے ’’کفل الفقیہ الفاہم فی احکامِ قرطاس الدراہم‘‘ رسالہ رقم فرمایا۔آپ کا یہ شاہکار یقیناً ان کی دانشورانہ اور عالمانہ صلاحیتوں پر دال ہے ۔

ایک انسان کی بیک وقت اتنے علوم و فنون پر مہارت کی حد تک رسائی ہونا عطیۂ خداوندی ہے۔ علم تفسیر و حدیث، اسلامی فقہ، اردو، عربی اور فارسی شاعری، تصوف، عقائد، سائنس، فلسفہ، ریاضی، علم نفسیات ، فلکیات، اقتصادیات، طبعیات، عرضیات یہ ایسے شعبہ جات ہیں کہ جن میں آپ کو ایک Authorityکی حیثیت سے دیکھا جاسکتا ہے۔

ان کا عشقِ رسول ﷺ اور ایسا عشقِ رسول کہ جس کی ترویج و اشاعت انہوں نے اس طرح کی کہ آج سرکار دو عالمﷺ کے حوالے سے، ناموس رسالت پر جاں نثار کرنے والوں کو لوگ شعوری اور لا شعوری طور پر آپ کے مسلک کے پیروکار تصور کرتے ہیں۔ آپ بلاشبہ ایک طبقے کے نہیں، بلکہ ملت اسلامیہ کے عظیم دانشور تھے۔