Advertisement

مرکزی بینکار کی برطرفی سے ترکی کے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

July 15, 2019
 

انقرہ : لارا پٹیل

ترکی کے مرکزی بینک کے سابق گورنر مرات کوٹینیا ،جن کے تین سالہ عہد میں اکثر غیر روایتی اور غیر مستحکم پالیسی سازی نے نقصان پہنچایا تھا،کے حق میں چند سرمایہ کاروں کےکھڑے ہونے کی توقع ہے ۔

تاہم شرح سود میں کمی کی رفتار پر ترکی کے صدر طیب اردوان کی جانب سے ہفتے کو انہیں عہدے سے برطرف کرنے کے طریقہ کارنے ترکی میں شدید غم و غصہ پیدا کردیا ہے۔

مرکزی بینک کے سابق نائب صدر ابراہیم ترہن نے ٹوئٹر پر لکھا کہ اس اندزا میں مرکزی بینک کے گورنر کو ہٹانا اس ادارے کی ساخت،حیثیت اور خودمختاری کیلئے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔

مرات کوٹینیا کی روانگی کے انداز کا مطلب ہے کہ اب خطرہ نظر آرہا ہے کہ ان کے سابق نائب اور اب نئے گورنر مورات عمر اوسال صدر طیب اردوان کے مرہون منت ہوں گے۔ وزارت خزانہ کے سابق سینئر اہلکار اور ترکی کی مرکزی حزب اختلاف جماعت کے رکن فائک ازترک نے خبردار کیا کہ مرکزی بینک صدارتی محل کا قیدی بن گیا تھا۔

مرات کوٹینیا کی برطرفی نے طیب اردوان کی حکومت کے تمام شعبوں پر بالا دستی کی پالیسی کے حوالے سے سرمایہ کاروں میں پائے جانے والے خدشات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

چند افرادکو خوف ہے کہ اگر نئے گورنر کو جارحانہ انداز میں شرح سود میں کمی کیلئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا،تو ترکی گزشتہ موسم گرما کے کرنسی بحران کی جانب دوبارہ جاسکتا ہے، جس سے 2018 میں ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر میں 30 فیصد کمی ہوئی، جس کی وجہ سے افراط زر تیزی سے اوپر گیا اور کساد بازاری پیدا ہوئی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دوسرا دور نہایت پریشان کن ہوگا،بالخصوص ترکی کے کارپوریٹ شعبے کیلئے جو غیر ملکی کرنسی کے قرض اور ان کے قرض دہندگان کے تلے دبے ہوا ہے۔

پیر کو ہانگ کانگ میں ایشیا ٹریڈنگ میںدوپہر کی ابتدا سے پہلے 2.2 فیصد کمی سے لیرا 3 فیصد نیچے جانے سے فی ڈالر 793.5 کا ہوگیا۔

استنبول کی کوک یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کی پروفیسر سیلوا دیمتری نے کہا کہ اگر آپ زرمبادلہ کی شرح کے ایک اور صدمے سے متاثر ہوتے ہیں جبکہ معیشت پہلے ہی کسادبازاری کا شکار ہے،تو اس سے آپ کی قرض کی ادائیگی کی صلاحیت بہت حد تک کم ہوجائے گی۔ہم نے ابھی تک پہلے بحران کو حل نہیں کیا،ایک اوربحران حالات کو بدترین کرنے جارہا ہے۔

تین سال قبل جب مرات کوٹینیا کو گورنر تعینات کیا گیا تھا، تو انہیں گزشتہ سال وزیر خزانہ و معیشت بننے والے طیب اردوان کے طاقتور داماد بیراط البیراک کے خوشامدی کے طور پر وسیع پیمانے پر دیکھا گیا تھا۔

بلند شرح سود کے اعلانیہ مخالف طیب اردوان شدید غصہ میں ہیںکیونکہ لیرا کے نیچے جانے کی رفتار پرفوری ردعمل میں ناکامی کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے ان پر تنقید کی گئی۔

گزشتہ سال اگست میں جب کرنسی کی قدر میں کمی آئی تو بینک نے شرح سوداس کے بینچ مارک شرح سے 24 فیصد تک بڑھانے سے قبل چھ ہفتے انتظار کیا۔

اگرچہ سرمایہ کار وں کودیگر غیر روایتی حربوںخاص طور پر ان کے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر میں کمی کو چھپانے کی کوشش کی جانب سے خطرہ ہے،انہوں نے ستمبر سے مرکزی شرح سودکو برقرار رکھنے پر مرات کوٹینیا کو سراہا۔افراط زر میں گزشتہ ماہ 7.15 فیصد کمی ہوئی، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ کے بڑے خسارے میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔

تاہم، پس پردہ کشیدگی میں اضافہ ہورہا تھا۔ معاملات کے بارے میں آگاہ افراد کے مطابق بیراط البیراک کے ساتھ مرکزی بینک کے گورنر کے اختلافات تیزی سے بڑھ رہے تھے۔ وزیر خزانہ نے صدر کے ایک سفیر کے طور پر کردار ادا کیا،مرات کوٹینیا کی اپنی برطرفی سے پہلے جن سے تقریبا ایک سال تک براہ راست ملاقات نہیں ہوئی تھی۔

جون میں مالیاتی پالیسی کمیٹی کے آخری اجلاس میں مرات کوٹینیا کے شرح سود میں کمی سے انکار نے وزیر اقتصادیات کو مشتعل کردیا۔جولائی کے آخر میں آئندہ اجلاس کیلئے منصوبوں کے تعین پر ان میں دوبارہ جھگڑا ہوگیا، جب مرات کوٹینیا شرح سود میں کمی کے لیے تیار ہوگئے تھے، لیکن اتنا کم نہیں جتنا بیراط البیراک چاہتے تھے۔ گزشتہ ماہ طیب اردوان نے خبردار کیا کہ بلند شرح سود کی وجہ سے ترکی کو نقصان پہنچ رہا ہےاور وعدہ کیا کہ اس کا قطعی حل جلد تلاش کرلیا جائے گا۔

استعفیٰ دینے سے انکار کرنے کے تین ہفتے بعد مرات کوٹینیا کو برطرف کردیاگیا تھا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدارتی حکم نامے کے ذریعے برطرفی کا طریقہ کار غیر قانونی تھا۔

وزیر اقتصادیات کے ترجمان نے معاملے پر تبصرے پر کوئی ردعمل نہیں دیا،تاہم ترکی کے حریت اخبار کے مطابق طیب اردوان نے ہفتہ کو حکمران جماعت کے ارکان پارلیمان کے اجلاس میں شرح سود پر تنازع کی تصدیق کی۔

یہ غیر واضح ہے کہ نئے گورنر کیسے چلیں گے۔ترکی کے ایک ماہر مالیات نے ریاستی ہالک بینک کے سابق سربراہ کو اسمارٹ شخص کے طور پر بیان کیا تاہم حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کی اہلیت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔ایک اور ماہر مالیات نے کہا کہ ان کا خاندانی نام جس کا ترک زبان میں مطلب حلیم یا نرم و لچکدار ہے،ان کے کردار کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔انہیں کہا گیا ہے کہ وہ مالیاتی پالیسی کمیٹی کے آخری اجلاس میں شرح سود میں کمی کیلئے وکالت کریں۔

سرمایہ کاروں کو فکر ہے کہ مالیاتی پالیسی کی کمیٹی کے 25 جولائی کو ہونے والے اجلاس میں تیزی سے شرح سود میں کمی کے حوالے سے مسٹر اوسال کو اب دباؤ کا سامنا ہوگا،یہ ایک ایسا اقدام ہے جس سے ملک کی معیشت کی شدید مشکلات میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ایسٹ مینیجر اموندی کے پورٹ فولیو منیجرعباس امیلی رینانی نے کہا کہ یہ اقدام کرنسی کو مزید کمزور کردےگا۔

جی اے ایم میں فنڈ منیجرپال مک نمارا نے کہا کہ انہیں خوف ہے کہ طیب اردوان کا جھکاؤ’’ ہر قیمت‘‘ پر ترقی جاری رکھنے کی جانب تھا، انہوں نے خبردار کیا کہ وہ کوشش کررہے ہیں اور کمزور معیشت کے اندر مزید قرضوں کے ڈھیر کی کوشش کے ذریعے کساد بازاری کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں،یہ ایک ایسا منظرنامہ ہے جہاں ترکی میں کافی تیزی سے سنگین غلطیاں شروع ہوسکتی ہیں۔

مرکزی بینک میں بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکی روسی ایس 400 فضائی دفاعی نظام کی ڈلیوری لینے کے لیے تیار ہے، جس سے امریکی پابندیاں لگنے اور مالیاتی مارکیٹوں میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔


مکمل خبر پڑھیں