Advertisement

سال بیت گیا مگر ملتان کی قسمت نہ سنور سکی

September 05, 2019
 

عوام حیران ہیں کہ موجودہ صورتحال میں جب کشمیریوں پر بھارت ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور ایک موثر عالمی سطح پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ہفتہ میں تین دن ملتان میں گزارتے ہیں اور وہ یہاں ایک بیان جاری کر کے اپنی مقامی سیاست کی گتھیاں سلجھانے میں مشغول ہو جاتے ہیں ان کی یہاں انہیں صوبائی نشست پر شکست دینے والے نوجوان سلمان نعیم سے ٹھنی ہوئی ہے اور پچھلے دنوں میں سلمان نعیم نے ایک پریس کانفرنس کر کے ایک وڈیو جاری کی جس میں ایک سابق یونین چیئرمین جو شاہ محمود قریشی کے قریبی ساتھی شمار ہوتے ہیں ۔یہ منصوبہ بیان کرتے پایا جاتا ہے کہ ایک عورت کے ذریعے سلمان نعیم کے والد پر زنا بالجبرکا الزام لگایا جائے گا پھر اس کی میڈیا میں تشہیر کی جائے گی سلمان نعیم کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ مبینہ طور پر ان کی آشیر باد سے ہو رہا ہے جو ابھی تک اپنی شکست کا غم نہیں بھولے اور مجھے نشان عبرت بنانے پر تلے ہوئے ہیں حالانکہ میں تحریک انصاف میں شامل ہو چکا ہوں اور سیاسی طو رپر میرے ان سے کوئی اختلاف نہیں حیران کن امر یہ ہے کہ ابھی تک وزیر خارجہ نے اس پریس کانفرنس کی تردید نہیں کی۔ ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ الزام ہی بے بنیاد اور بلا جواز ہے۔شاہ محمود قریشی صاف ستھری سیاست کے قائل ہیں اور ملتان اور پورا پاکستان ان کی طرز سیاست سے آگاہ ہے۔دوسری جانب ایم پی اے سلمان نعیم بھی پریس کانفرنس کے بعد چپ سادھ لی ہے اور ابھی تک وڈیو کی بنیاد پر سابق چیئرمین یا کسی اور کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔وزیر خارجہ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی ترقیاتی کاموں کی افتتاحی تقاریب میں بھی مصروف ہیں۔ایک طرف ان کی یہ سیاسی مصروفیات اور دوسری طرف خارجی محاذ ہے۔جہاں بے دلی کے ساتھ لڑا جا رہاہے اس کا اظہار جماعت اسلامی کے سینئر رہنما لیاقت بلوچ نے بھی ملتان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اپنی تمام مصروفیات ترک کر کے اسلامی ممالک کے دورے پر جانا چاہئے تھا کیونکہ اسلامی ممالک کی طرف سے بھارت کے خلاف کوئی موثر آواز سامنے نہیں آئی بلکہ الٹا نریندر مودی کو تمغے پہنائے گئے وزیر خارجہ کا ان ممالک میں نہ جانا اور یہاں بیٹھ کر ایک بیان جاری کر دیناموجودہ صورتحال میں بہت بڑی غفلت قرار پائے گی کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں ایک ماہ سے زائد ہو گیا ہے ۔کرفیونہیںاٹھایا گیا اور کشمیری عملاً ایک محبوس زندگی گزار رہے ہیں جن کے پاس کچھ کھانے کے لئے ہے اور نہ پینے کے لئے بلکہ ادویات کے سلسلے میں بھی بری درد ناک خبریں سامنے آ رہی ہیں ان حالات میں یہاں بیٹھ کر ایک دو بیانات کے ذریعے یہ سمجھ لینا کہ بھارت کاچہرہ بے نقاب ہو گیاہے یا وہ ان بیانات کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر سے نکل جائے گا ایک ایسی ناکام خارجہ پالیسی ہے کہ جس کی حمایت نہیں کی جا سکتی چاہے تو یہ کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اسلام آباد میں جم کر بیٹھیں اور ہر ملک کے سفارت کاروں کو اپنے پاس بلائیں اور انہیں مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ کی جانے والی بھارتی ظلم و ستم سے آگاہ کریں مگر وہ موقع ملتے ہی ملتان آ جاتے ہیں یہاں ان کی سیاسی سرگرمیاں انہیں خارجہ محاذ کی ہر نزاکت کو بھلا دیتی ہیں۔پنجاب حکومت کا ایک سال گزر گیاہے تو ملتان کے عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جو سلوک تخت لاہور کی علمبردار حکومت اہل ملتان سے کرتی تھی موجودہ حکومت بھی اس کی ڈگر پر چل رہی ہے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ڈیرہ غازی خان کے لئے 2ارب روپے کا پیکیج دیا ہے اور ملتان کو پیکیج دینا تو کجا انہوں نے اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ وہ ملتان کا تفصیلی دورہ ہی کر سکیں۔ اس ایک سال کے دوران وہ بمشکل چند گھنٹوں کے لئے جنوبی پنجاب کے اس سب سے بڑے شہر میں آئے اور وہ یہ چند گھنٹے بھی وہ بغیر کسی تفصیلی میٹنگ یا ملتان کو کوئی پیکیج دیئے بغیر گزارے اور لاہور سدھار گئے ملتان کے عوام حیران ہیں کہ وزیراعلیٰ کے ہیلی کاپٹر کا خرچہ 30کروڑ روپے بڑھ گیا ہے مگر یہ ہیلی کاپٹر کیسا ہے جو انہیں ملتان تک نہیں لاتا، بلکہ لاہور سے ڈیرہ غازی خان اور تونسہ تک ہی سے جانا ہے پہلے یہ عام شکایت تھی کہ شہباز شریف لاہورسے باہر نہیں دیکھتے اور اب یہ عام شکایت ہے کہ عثمان بزدار ڈیرہ غازی خان سے باہر نہیں نکل پا رہے اس کے بارے میں مسلم لیگ(ن) نے پنجاب حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ عثمان بزدار نے اتنے فنڈز لاہور کو نہیں دیئے جتنے ڈیرہ غازی خان پر خرچ کر چکے ہیں یہ صورتحال خود پی ٹی آئی کے لئے خوش آئند نہیں ہے کیونکہ پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب کی محرومیاں دور کرنے کا وعدہ کیا تھا صرف ڈیرہ غازی خان کی محرومیاں دور کرنا اس کا منشور نہیں تھا اور خاص طور پر ملتان جیسے بڑے شہر کو جو گوناں گوں مسائل میں الجھا ہوا ہے اور جس نے پی ٹی آئی کو عام انتخابات میں کلین سویپ کر دیا تھا اس طرح نظر انداز کر دینا کسی بڑے المیے سے کم نہیں ہے یہاں لوگ اس بارے میں بھی روزانہ حکومت پر تنقید کرتے ہیںکہ اس نے علیحدہ صوبہ بنانا، تو جا، علیحدہ سیکرٹریٹ قائم کرنے کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا اور آج ایک سال سے زائد ہو گیا ہے نہ صوبہ بنا ہے اور نہ سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے اب تو صاف لگ رہاہے کہ تحریک انصاف اپنے وعدوں سے مکرنے والی سیاسی جماعت بنتی جا رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو خود کہہ چکے ہیں کہ یوٹرن اچھے ہوتے ہیں اور وہ یوٹرن لیتے لیتے وزیراعظم بن گئے ہیں لیکن کیا یہ تھیوری عوام کو مطمئن کر سکتی ہے؟ کیا ان کے مسائل کو نظر انداز کر کے کوئی حکومت یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ اس نے عوام کو ریلیف دیا ہے؟ ملتان کے مسائل بڑھتے چلتے جا رہے ہیں آبادی کا پھیلائو اور سیوریج کا ناقص نظام دونوں نے مل کر ایک ایسی صورت پیدا کر دی ہے کہ جو آگے چل کر کراچی جیسے حالات کو جنم دے سکتی ہے کہ جہاں نہ کچرا سنبھالا جا رہاہے اور نہ سیوریج کا نظام کام کر رہاہے پاکستان میں سیاست صرف اقتدار کے حصول کا ذریعے بن کر رہ گئی ہے اور یہ سمجھا جاتاہے کہ عوام سے جھوٹے دعوے کر کے انہیں سبز باغ دکھا کر ان سے ووٹ لئے جائیں اور اس کے بعد انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ گزشتہ ہفتہ اے ٹی ایم کو توڑکر کارڈ نکالنے والے نیم پاگل شحص صلاح الدین کی رحیم یار خان پولیس کے ہاتھوں ہلاکت بھی ہر جگہ موضوع بحث بن رہی صرف ایک میں پولیس نے ’’انصاف‘‘ فراہم کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا، نہ کوئی اتنابڑا جرم تھا اور نہ ہی کوئی ایسی مشکل بات تھی کہ اس سے نفسیاتی اور سائیٹفیک انداز میں تفتیش کر کے اصل حقیقت نہ اگلوائی جا سکے۔پولیس نے تھرڈ ڈگری طریقہ استعمال کر کے پھر یہ ثابت کر دیا کہ اس میں ایسی کوئی صلاحیت نہیں جو مہذب ممالک کی پولیس میں پائی جاتی ہے کیا اس کیس کے بارے میں کوئی اعلیٰ سطحی نوٹس لیا جائے گا یا اسے روایتی تفتیش میں ڈال کر وقت کی گرد میں دفن کر دیا جائے گا۔یہ سوال آج ہر باشعور شخص کی زبان پر ہے۔


مکمل خبر پڑھیں