Advertisement

ملک کی ترقی کیلئے نسل نو میں قائدانہ صلاحیتیں اُبھارنی ہوں گے

October 12, 2019
 

ہمارا آج کا نوجوان دو رائے پر کھڑا ہے، کچھ ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں، کچھ نے پڑھا کچھ اور کر کچھ رہے ہیں، صرف اس بناء پر کہ انہیں کہیں ملازمت نہیں ملی، سو جہاں ملی اُسے ہی غنیمت سمجھ لیا ، جو دل برداشتہ ہوئے ، وہ غلط راہ پر چل پڑے۔

یہ حقیقت ہے کہ ایک نوجوان مستقبل پر نظریں رکھے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ دن رات پڑھ کر امتیازی نمبروں سے کام یابی حاصل کرتا ہے۔ ملازمت کے لیے مختلف اداروں میں درخواست دے کر مطمئن ہو جاتا ہے کہ جلد اُس کے ہاتھ میں تقرری کا لیٹر آجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوتا، میرٹ کے بجائے سفارش نے اپنا رنگ دکھا تی ہے، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہمارے ملک میں سفارش کا عمل دخل اور میرٹ کا قتل معمول بن چکا ہے۔

یوں کام یاب تعلیم یافتہ نوجوانوں کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہوجاتی ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے میرٹ بنیاد ہے۔ پاکستان کا مستقبل نوجوان ہیں اور اس کی سمت کا تعین بھی یہ بحیثیت رہنما ہی کریں گے۔

لیکن کیسے؟ کیا آج کے نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتیں ہیں؟ کیا معاشی کش مکش میں اُلجھا نوجوان پاکستان کے بہتر مستقبل میں مضبوط کردار ادا کرسکتا ہے؟ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے میرٹ کا نظام ضروری ہے؟ کیا نوجوانوں کو تعلیم سے ملازمت تک میرٹ کی بنیاد پر، پرکھا جائے گا؟ اس وقت ملک بھر میں دو کروڑ سے زائد بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں، انہیں کیسے کار آمد شہری بنایا جاسکتا ہے؟

یہ سوالات ہمارے، آپ کے ذہنوں میں کلبلا رہے ہیں لیکن کوئی جواب نہیں مل رہا، کوئی حل نہیں سمجھ آرہا۔ اس ضمن میں ہم نے چند اساتذہ کی رائے جاننے کی کوشش کی، وہ کیا سمجھتے ہیں؟ آیئے آپ بھی جانیے اور سوچیے کہ خود آپ کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر اختر بلوچ

٭… پروفیسر ڈاکٹر اختر بلوچ، بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی، لیاری کراچی کے وائس چانسلر ہیں، ہمارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ، ’’آج کا نوجوان باصلاحت ہے، اس میں قائدانہ صلاحیتیں ہیں۔ لیکن اگر کسی نوجوان میں قائدانہ صلاحیت نہیں بھی ہوں، تو بہتر حکمت عملی سے ان میں اُجاگر کی جاسکتی ہیں، جس کے لیے انہیں ہم نصابی سرگرمیوں اور ووکیشنل ٹریننگ کے زیادہ سے زیادہ مواقعے فراہم کیے جانے چاہیں تا کہ وہ معاشی اور سماجی اعتبار سے خود مختار ہوں، کیوں کہ یہ ہی ہمارے ملک کا مستقبل ہیں۔

انہیں آگے چل کر ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنی ہے۔ اگر آج انہیں مستقبل کے لیے تیار نہیں کیا گیا تو ممکن ہے کہ ملک کا مستقبل تابناک ہو۔ لیکن آج ملکی معیشت کا جو حال ہے اس کے پیش نظر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ نسل نو کا مستقبل خطرے میں ہے، اگر انہیں اس مشکل سے نکالنا ہے تو انہیں انٹرپئرنیورشپ کی تعلیم فراہم کرنا ہوگی، تاکہ یہ اپنا کاروبار شروع کرسکیں۔ انہیں سکھایا جائے کہ کس طرح سے اپنی پروڈکٹ یا سروس کو عملی طور پر مارکیٹ میں سیل کرسکتے ہیں۔ اسی طرح ووکیشنل ٹریننگ پر بھی توجہ دینی چاہئے، کیوں کہ اس کے ذریعے نوجوان باآسانی روزگار حاصل کر کے خود مختار بن سکتے ہیں۔

اختر بلوچ نے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ، کسی بھی قائد کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں ان سے نبرد آزما ہو، بلاشبہ زندگی مسلسل جدوجہد کا نام ہے، ہمارے ملک کے 90 فیصد نوجوان سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا نہیں ہوتے، انہیں اپنی زندگی خود ہی سنوارنی ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ سنواریں کیسے؟ آبادی بڑھتی اور معیشت سکڑتی جارہی ہے، روزگار کے مواقعے دن بدن ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک جانب ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہورہی تو دوسری جانب مختلف سرکاری اداروں میں اقرباپروی کا راج قائم ہے۔

اس کی نسبت پرائیوٹ سیکٹر میں کسی حد تک میرٹ کا نظام ہے، وہاں چیک اینڈ بیلنس رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، سی ایس ایس میں جو طالب علم پاس ہیں وہی اس بنیاد پر بہتر نوکری حاصل کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی نوکری حاصل کرنے میں چیلنچز آتے ہیں اور یہ ہی چیلنچز اُنہیں پختہ و مضبوط بناتے ہیں۔

بےشک آج کئی نوجوان اور بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں لیکن درست حکمت عملی سے انہیں معاشرے کا کار آمد شہری بنایا جاسکتا ہے۔ انہیں ووکیشنل ٹریننگ یا کوئی ہنر سکھا کر ان کے لیے روزگار کا حصول آسان بناسکتے ہیں۔ طلبہ کو تکنیکی کام جیسے الیکٹرشن، مکینک، آٹو فٹنگ وغیرہ کا ہنر سکھایا جائے اور یہ تکنیکی تعلیم ہر نوجوان سیکھ سکتا ہے، کیوں کہ ہر گھر میں اس طرح کے مسئلے ہوتے رہتے ہیں، جس کے لیے ہنرمند افراد کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسے نوجوان اس طرح کے ہنر سیکھ کر معاشرے کے کار آمد شہری بن کر اپنے لیے روزگار کے مواقعے پیدا کرسکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی میرٹ کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ جس طرح کا معاشرہ ہوگا اسی طرح کا میرٹ ہوگا، جب ہم خود سچ نہیں بولتے، انصاف فراہم نہیں کرتے، اقرباپروی کو ترجیح دیتے ہیں، کسی کو سپورٹ نہیں کرتے تو کیسے امید کرسکتے ہیں کہ اگلا بھی ہمیں سپورٹ کرے گا یا ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دے گا۔ ایسی صورت میں میرٹ کی دھجیاں بکھر جاتی ہیں۔ اس ماحول میں بھی چند ادارے ایسے ہیں جہاں آج بھی میرٹ کو اوّلیت دی جاتی ہے، وہاں آج میرٹ پر منتخب ہونے والے نوجوان اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ میرٹ کا نظام قائم ہوگا تب ہی معاشرے میں سدھار پیدا ہوگا۔

اس نظام کا تعلق معیار اور طریقہ کار سے ہے۔ ہمارے معاشرے میں تو معیار ہے نہ ہی کوئی طریقہ کار۔ یہاں تعلقات کی بنیاد پر کام ہوتے ہیں۔ جب ہم ٹیلنٹ اور قابلیت کو دیکھے بغیر صرف تعلقات کی بنیاد پر کام کریں گے تو مسائل پیدا ہوں گے۔ اس لیے میرٹ پر انتخاب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ترجیحات کا فیصلہ کریں اور یکساں طریقہ کار رائج کریں جس سے گزر کر ہی نوجوان ترقی کی منزل طے کرسکتے ہیں، جو آج کل کے دور میں ایک چیلنجنگ عمل ہے۔

اسسٹنٹ پروفیسر غفران
عالم

٭… غفران عالم، جامعہ کراچی کے شعبہ پیٹرولیم ٹیکنالوجی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ، ہماری قوم صلاحیتوں سے تو بھرپور ہے بالخصوص ہمارے نوجوان، مگر معاشرتی دباؤ نے ان کی صلاحیتوں کو کبھی نکھرنے نہ دیا۔ معاشی، ذہنی، اور معاشرتی دباؤ تیزی سے ہمارے نوجوان ذہنوں کو تباہ کر رہا ہے۔

زندگی کے کسی بھی شعبہ میں جب جب انہیں اپنی صلاحیتوں کو دکھانے کا موقع ملا تو تاریخ گواہ ہے انہوں نے اپنی قوم کا سر فخر سے بلند کیا۔ لیکن ایک بات اہم ہے کہ قائدانہ صلاحیتیں کبھی بھی یکساں نہیں ہوتیں اور یہ کام ہمارا ہے یعنی اساتذہ کا کہ ہم ان کی صلاحیتوں کو جانچ کر نوجوانوں کو اسی کے مطابق ڈھالیں، تا کہ وہ اپنی ان صلاحیتوں کو بہتر سے بہتر انداز میں اُجاگر کریں، نہ کہ یکسانیت کے نظام کا شکار ہو کر اپنی صلاحیتوں کو بھی کھو بیٹھے۔

دراصل ہمارا تعلیمی نظام انتہائی فرسودہ اور خراب ہے۔ ہم اگر نوجوانوں کو بہت اچھی فنی تعلیم دے بھی دیں مگر اس کا صحیح استعمال کرنا نہ سکھا پائیں تو پھر ایسی تعلیم کا کیا فائدہ؟ آج کے نوجوانوں کی اکثریت صرف اچھا روزگار حاصل کرنا ہی تعلیم کا حصول سمجھتی ہے جبکہ علم تو انسان کو اس دنیا کے اسرار و رموز میں ڈوب کر نئی جہت تلاش کرنے اور پھر دنیا کو اس پر قائل کرنے کا نام ہے۔ ہمارا نوجوان خودمختار جب بنے گا جب اسے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا اور اسی جہت سے کام کرنا سکھایا جائے گا۔

یہ حکومت کا کام ہے کہ آج کے نوجوانوں کو وہ مواقع فراہم کرے جس کی بنیاد پر وہ خودمختار ہوں، ایسے ہی ملک میں تبدیلی آئے گی اور خودمختار سوچ ملے گی۔ ہمیں نوجوانوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ، دل میں اگر صرف اپنا درد رکھو گے تو دل کے مریض بنو گے لیکن اگر دوسروں کے درد کو جگہ دو گے تو وسیع القلب بنوگے۔ دوسروں کی زندگی میں آسانی پیدا کروگے تو خود بخود اپنے ارد گرد آسانیاں دیکھو گے۔ نوجوانوں کو ہمیشہ زندہ رہنے کا طریقہ بتانا چاہیے کہ کیسے ہزاروں سال پہلے مرنے والوں کو آج تک یاد کیا جاتا ہے۔ اُن کی مثالیں دی جاتی ہیں۔

غفران عالم کا مزید کہنا ہے کہ، معاشی پریشانیوں میں گھیرا آج کا نوجوان درست سمت کا تعین کس طرح کر سکتا ہے؟، وہ جن مسائل کا شکار ہے اسے اس دلدل سے نکالنا انتہائی سخت جان امر ہے۔ یہ کام وہ کبھی خود اکیلے نہیں کرسکتا۔ اساتذہ کو چاہے کہ خصوصاً طالب علموں کی ذہنی تعمیر پر توجہ دیں، تاکہ وہ معاشرے میں اپنی موجودگی کا مقصد سمجھیں اور پھر اس مقصد کے حصول میں کوشاں رہیں۔

اگر ہم نے نوجوانوں کی زندگی سے مادیت پسندی کو نکال دیا اور مقصدیت پسندی کے تحت زندگی گزارنا سکھا دی تو سمجھئے پھر درست سمت بھی خود بہ خود نظر آئے گی۔ حکومت کو چاہئے کہ تعلیم پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرے اور اس کو خرچا نہ سمجھے۔ ایک کارآمد نوجوان اپنے ساتھ بہتوں کو تبدیل کرے گا اور ایک مثبت سوچ پروان چڑھے گی۔ ملک کے حالات بدلنے کے لئے یہ وہ ضروری اقدام ہے جس کی طرف بد قسمتی سے کسی بھی حکومت نے توجہ نہ دی۔

اساتذہ کو سرکاری سطح پر عزت دی جانی چاہیے تا کہ ان کے ذہنوں میں بھی خود اعتمادی پیدا ہو اور وہ صحت مند سوچ کا حامل معاشرہ تشکیل دینے میں بہتر کردار ادا کر سکیں۔ ہم سب کسی نہ کسی طرح چیریٹی کرتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں سوچتے کے اصل چیریٹی اس میں ہے کہ، غریب بچوں کے لئے ایسی کوشش کریں کہ انہیں کبھی دوسروں کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑیں وہ کسی نہ کسی طرح اپنی زندگی کی گاڑی کو چلانا سیکھ جائیں، نیز میرٹ کا نظام بھی ضروری ہے۔

جہاں جہاں ہم میرٹ کا قتل کرتے ہیں وہاں وہاں نوجوانوں کی امیدوں کا بھی قتل کرتے ہیں اور امید ایک ایسی چیز ہے جس پر دنیا کا سارا نظام ہے اگر کسی کے دل سے آپ امید نکال دیں تو اس کی زندگی ایک جگہ ٹھہرسی جاتی ہے۔ اس لیے صرف میرٹ کا نظام نہیں بلکہ میرٹ کے اصولوں کو بھی جدید دور کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔

حکومت کو بھی اس نظام کے لئے صدق دل سے کوشش کرنی ہوگی اور ایسی پالیسی مرتب کرنی ہوگی جو مخصوص لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے عوام الناس میں مثبت رویہ کو فروغ دے۔ جب نوجوانوں کا اعتماد میرٹ پر قائم ہوجائے گا تو یہ نظام خود بہ خود لاگو ہونے لگے گا اور شارٹ کٹس کے بجائے نوجوان اپنے آپ کو میرٹ پر اُترنے کے لئے تیار کریں گے۔

اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر
نوشین وسیع

٭… ڈاکٹر نوشین وسیع، جامعہ کراچی کے شعبہ تعلقات عامہ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ، ’’آج کے نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتیں بالکل ہیں۔ ویسے تو ہر انسان میں کوئی نہ کوئی صلاحیت ضرور ہوتی ہے، جنہیں ماحول نکھارتا اور بہتر بناتا ہے۔ اسی طرح نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیت کو ہم بحیثیت اساتذہ بہتر طور پر اُجاگر کرسکتے ہیں۔

ملکی حالات کے سیاق کو مدنظر رکھتے ہوئے واحد اُمید نوجوان ہیں۔ بے شک ملک کے بگڑتے ہوئے حالات اور مختلف اداروں کی زبوں حالی سے، آج کے نوجوان اپنے مستقبل کے حوالے سے تھوڑے مایوس اور نااُمید ضرور ہیں، جس سے نہ صرف ان کی بلکہ پوری قوم کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے، اس کے باوجود نوجوانوں سے ہی اُمید کر سکتے ہیں ،اگر ہم نظام تعلیم پر نظر ڈالیں تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پبلک سیکٹر کا تعلیمی نظام طلبہ کو تعلیم و تربیت فراہم کرنے میں بالکل ناکام ہو چکا ہے۔

ہمیںاپنے نوجوانوں کو ایسی تعلیم فراہم کرنی چاہئے جو ان کی صلاحیتوں کو اُجاگر کر سکے، ابھار سکے اور انہیں معاشرے کی ایک کار آمد اکائی بنا سکے، جس میں فی الحال ہم ناکام ہیں، لیکن اسے بہتر بنانے کے لیے کاوشیں جاری ہیں۔ اس وقت گلاس آدھا بھرا اور آدھا خالی والی صورت حال ہے۔ پرائیوٹ اور سیمی پرائیوٹ اداروں میں طلباء کی کردار سازی پر بہت زیادہ فوکس کیا جاتا ہے۔

لیکن پبلک سیکٹر کے اساتذہ کی بڑی تعداد کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ ہمارا طالب علم مسائل سے گزر کر یہاں تک آیا ہے، تو وہ بھی اپنا کردار نبھا رہے ہیں،چاہتے ہیں کہ، انہیں اس قابل بنائیں کہ وہ خود مختار ہوجائیں، خود اپنے فیصلے کریں، صحیح غلط کو سمجھیں اور مثبت سمت میں کام کرتے ہوئے معاشرے کو بہتری کی جانب گامزن کریں۔ ڈاکٹر نوشین مزید کہتی ہیں کہ، آج کے نوجوان پر معاشی دباؤ بھی بہت زیادہ ہے۔

ملک جن حالات سے گزر رہا ہے ایسے میں ہر ایک یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اس کا مستقبل کیا ہوگا، ہم ڈگری کو تعلیم سے صرف گریجویشن تک منسلک کرسکتے ہیں، کیوں کہ تعلیم کا مقصد روزگار کا حصول نہیں ہے، بلکہ طلباء کی صلاحیتوں کو اُبھاکر انہیں اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنے اور دیگر افراد کےلیے مواقعے پیدا کریں، ہمیں بنیادی طور پر ایسی پالیسی کی ضرورت ہے۔ جس سے نوجوان ملک اور قوم کے لیے ایک بہتر اثاثہ ثابت ہوں، بنیادی تعلیم سے محروم بچوں کے لیے حکومت کو چاہیے کہ ہنرمند پروگرام کا انعقاد کریں تاکہ جو بچے اسکول نہیں جاسکتے وہ شارٹ ٹرم کورسز کرکے مفید شہری بن سکیں۔

پروفیسر نوشین وسیع کا مزید کہنا ہے کہ، میرٹ پر عمل در آمد کیے بغیر کسی بھی شعبے میں ترقی ممکن نہیں، لیکن ہوتا یہ ہے کہ صرف ذاتی تعلقات کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے مواقعے فراہم کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے نوجوانوں میں مایوسی نظر آتی ہے۔ اگر میرٹ کے نظام کو عام کیا جائے گا تو نہ صرف ادارے بہترین کارکردگی دکھائیں گے بلکہ نوجوانوں کو بھی ہمارے سسٹم پر اعتماد ہوگا، یہ ہی اعتماد اُن کی کامیابی کی دلیل ہوگی۔

بلاشبہ میرٹ کا نظام رائج کرنا بہت ضروری ہے، جب تک ہم اپنے نظام سے نااہل افراد کو نہیں نکالیں گے تب تک ہمارے نوجوان نمایاں کارکردگی پیش نہیں کرسکیں گے۔ میرٹ کا نظام اسی وقت رائج ہوسکتا ہے جب اجارہداری، اقرباپروی کو ختم کیا جائے گا، کرپشن پر قابو پایا جائے گا اور اس کے لیے حکومتی سطح پر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں یہ نظام عام ہے کہ قابل آدمی کو اس لیے اوپر نہیں لایا جاتا، کیوں کہ نااہل افراد کو اپنی پوزیشن کے خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر
شفیق الرحمٰن

٭… پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، گرین وچ یونیورسٹی میں شعبہ اقتصادیات و فائناس کے ایچ او ڈی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ، آج کا نوجوان باہمت اور باحوصلہ ہے، بلاشبہ وہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں قائدانہ صلاحیتیں رکھتا ہے اور جب جب اُسے موقع ملتا ہے وہ اپنا لوہا قومی اور بین الاقوامی سطح پر منواتا بھی ہے۔ ضرورت صرف انہیں مواقعے فراہم کرنے کی ہے، اگر ہم یہ کہیں کہ نسل نو خود مختار نہیں ہے تو غلط ہوگا اگر یہ خودمختار نہ ہوتی تو دنیا بھر میں ملک و قوم کا نام روشن نہ کر رہی ہوتی۔

ہمارے طلباء کسی سے کم نہیں ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ اپنے لیے مواقعے کیسے پیدا کرنے ہیں۔ آج ماضی کے مقابلے میں نوجوانوں کی بڑی تعداد اسکالرشپ حاصل کرکے بیرون ملک نہ صرف تعلیم حاصل کر رہی ہے بلکہ وہاں کے طالب علموں سے بہتر کارکردگی پیش کر رہی ہے۔

تبدیلی ہمیشہ ہدف یا مقصد کا تعین کرنے سے ہی آتی ہے۔ یہ پتا ہو کہ آپ نے جانا کہاں ہے، تب ہی تو آپ سفر پر نکلیں گے، بغیر منزل کوئی سفر نہیں کرتا، ایسے ہی ہمیں بھی اپنا ہدف یا مقصد طے کرنا ہے کہ آخر ہم کہاں پہنچنا چاہتے ہیں، کیا بدلاو لانا چاہتے ہیں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب نوجوان تبدیلی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔ آج ملک کے جو حالات ہیں، اس میں نوجوانوں کا قصور نہیں ہے لیکن اس کے نتائج کا سامنا انہیں ہی کرنا ہے، کمزور معیشت نوجوانوں کے بہتر مستقبل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ریاست کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے لیے بہتر حکمت عملی بنائیں، جی ڈی پی کا کم از کم پانچ فیصد حصہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود کی خاطر خرچ کریں تاکہ ان کا مستقبل محفوظ بنایا جاسکے۔ ہمارے نوجوان محنتی ہیں اسی لیے کامیابیاں ان کے قدم چومتی ہے، ان میں بہتر رہنما بننے کی تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں لیکن ان کے پاس بہتر مواقعے نہیں ہیں، اگر انہیں مواقعے فراہم کیئے جائیں ان پر بھروسہ کیا جائے تو یہ ملک و قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتے ہیں۔ تعلیم اور روزگار کا حصول عہد حاضر کی دو بڑی ضروریات ہیں۔

حکومت وقت کو ان دونوں شعبوں میں عملی اقدامات اٹھانے کی سخت ضرورت ہے، جیسے دوسری جنگ عظیم کے بعد رہنماؤں نے بہتر حکمت عملی سے اس وقت کے مسائل کا سامنا کیا تھا، ہمارے یہاں میرٹ کا نظام تو رائج ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ اگر عمل درآمد شروع ہوجائے تو ہم مختلف پریشانیوں سے نہ صرف بچ سکتے ہیں بلکہ مشکل حالات کا سامنا بھی بہتر انداز سے کرسکتے ہیں، نیز ہمیں نوجوانوں کی تعلیم کے ساتھ صحت پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

ہمارے نوجوان مشکل حالات کا جواں مردی سے مقابلہ کرنا جانتے ہیں، جس قوم کے نوجوان محنتی و ذمہ دار ہوں،جن قوموں کے نوجوان ان صفات سے عاری یعنی سست و کاہل ہوتے ہیں، وہ قومیں خودبخود برباد ہو جاتی ہیں۔

ہمارا آج کا نوجوان مستقبل کا رہنما ہے، یہ ہرگز ضروری نہیں کہ ان میں قائدانہ صلاحیتیں پیدائشی طور پر ہوں، بلکہ بہتر اور سازگار ماحول فراہم کرکے ان میں قائدانہ صلاحیتیں اُبھاری بھی جاسکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان مشکل حالات سے گھبرانے اور مایوس ہونے کی بجائے خود اعتمادی اور مثبت سوچ کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ مسلسل محنت ہی سے کام یابی ان کے قدم چومے گی۔

ٹیچر اسسٹنٹ فلک ناز

٭… فلک ناز جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ میں بطور وزیٹنگ فیکلٹی وابستہ ہیں۔ ان کے خیال میں آج کے نوجوان میں نہ صرف قائدانہ صلاحیتوں کا بحران نظر آتا ہے بلکہ تخلیقی و تعمیری سوچ اور نظریے کی کمی بھی نمایاں ہے، جس کی اہم وجہ ملک کے ابتر حالات ہیں۔

قائدانہ صلاحیت صرف سیاسی میدان میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں نظر آنی چاہیں، لیکن آج کا نوجوان اس قدر مسائل میں اُلجھا ہوا ہے کہ وہ اپنی ذات سے ہٹ ہوکر معاشرے کے بارے میں نہیں سوچتا۔ یہ ایک سنگین صورت حال ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسی حکمت عملی تیار کرے جس کا محور نسل نو ہو اور اس پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جائے۔ ہمارا نظام تعلیم انتہائی فرسودہ ہے، جو نسل در نسل چلا آرہا ہے، یہ دور جدید کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، لہٰذا اسے بہتر بنانے کی سخت ضرورت ہے۔

وہ دور نہیں ہے جب طلباء رٹا لگا کر پاس ہو جاتے تھے اور جو کچھ کتابوں میں ہوتا بس اُسی کو کُل کائنات سمجھ کر تسلیم کرلیتے تھے۔ اساتذہ کا پڑھانے کا انداز اور ہمارا نصاب ایسا ہونا چاہئے کہ طلبہ اپنے خیالات کا کُھل کر اظہار کرسکیں، نت نئے آئیڈیاز دے سکیں، انہیں سوال کرنے کی آزادی ہو اور انہیں تسلی بخش جواب دئیے جائیں، تعلیمی اداروں میں تحقیق کو لازمی جز بنایا جائے، تاکہ طلبہ میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہو، سیاسی و معاشرتی مسائل پر بحث و مباحثے ہوں تاکہ ان میں رواداری، برداشت اور جمہوری رویّہ بیدار ہو، ایک دوسرے کی اختلاف رائے کو سنیں، سمجھیں اور برداشت کریں۔ تب ہی ان کے ذہن روشن خیال ہوں گے۔

نوجوان ہماری قوم کا مستقبل اور اہم سرمایہ ہیں۔ ان ہی کے مضبوط کاندھوں پر معاشی ترقی کی اہم ذمہ داری ہے۔ لیکن آج کا نوجوان معاشی الجھن میں اس قدر الجھ کر رہ گیا ہے کہ اس کی سوچ محدود ہوگئی ہے۔ بہتر مستقبل کے لیے درست سمت کا تعین اسی وقت ممکن ہے جب نوجوان خود مختار ہوںگے۔

حکومت کو چاہئے کہ دیہی علاقوں میں بنیادی تعلیم سے محروم بچوںکے لیے بھی ہنرمند پروگراموں کا انعقاد کرے، تاکہ شہروں کی طرح یہاں کے نوجوان بھی ہنرمند ہوکر معاشرے میں فعال کردار ادا کرسکیں۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ، نسل نو اسی وقت نمایاں کارکردگی دکھا سکے گی جب میرٹ کا نظام رائج ہوگا، صرف اچھے نمبر حاصل کرکے کامیاب ہونا ہی میرٹ نہیں ہے بلکہ میرٹ کے مطابق انہیں ملازمتیں دی جائیں اس وقت تو طلبہ کو نمبروں کی دوڑ سے نکال کر قابلیت کی راہ پر گامزن کرنا ہی اصل میرٹ ہے۔


مکمل خبر پڑھیں