Advertisement

سری لنکا نے ٹی ٹوئنٹی سیریز جیت کر خطرے کی گھنٹی بجا دی

October 15, 2019
 

پاکستانی کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی میں عالمی نمبر ایک ہے،ہوم گراونڈ پر دس اہم کھلاڑیوں سے محروم سری لنکا نے ہوم گراونڈ میں پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست دے کر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔اس شکست نے پاکستان کرکٹ کے سسٹم اور خاص کرکے قومی اکیڈمی کی اہلیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

گذشتہ دنوں پی سی بی نے دھکا اسٹارٹ قومی اکیڈمی کو چلانے کے لئے انگلینڈ سے ایک ماہر کو لاہور بلایا تھا جس نے پی سی بی کو بہتری کے لئے کئی تجاویز دیں۔ قومی اکیڈمی کو پاکستان کرکٹ کی سیاست کا مرکزقرا ر دیا جارہا ہے۔اور اکیڈمی کے کئی کوچز اپنے تعلقات کی وجہ سے اکیڈمی کے بجائے پاکستان کی قومی ٹیم اور دیگر ٹیموں کے ساتھ منسلک ہیں۔

ایسے میں لاہور شہرمیں پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز لاہور قلندرز نے اسٹیٹ آف دی آرٹ ہائی پر فارمنس سینٹر تیار کیا ہے۔لاہور قلندرز کے سی ای او رانا عاطف اور ڈائر یکٹر عاقب جاوید نے کئی مہینوں کی پلاننگ کے بعد ہائی پرفارمنس سینٹر کو مکمل کر لیا ہےاس سینٹر میں کوالی فائیڈ کوچز کرکٹرز کے ٹیلنٹ کو پالش کریں گے۔

لاہور میں پی سی بی کی قومی اکیڈمی کے علاوہ کراچی،ملتان اور دیگر شہروں میں ہائی پر فارمنس سینٹر بنائے ہیں لیکن نجی شعبے کی جانب سے یہ پہلا سینٹر ہے جس میں نوجوان کھلاڑیوں کو کرکٹ سکھانے کے علاوہ ان کی شخصیت، نیوٹریشن، ذہنی پختگی اور دیگر شعبوں پر کام کیا جائے گا۔رانا عاطف کہتے ہیں کہ ہائی پر فارمنس سینٹر میں ہفتے اور اتوار کو کلاسیں ہوں گی۔اس سینٹر کے افتتاح کے بعد وزیر اعظم عمران خان کے آسٹریلوی کرکٹ کے وژن کو تقویت ملے گی۔

ان کا دعوی ہے کہ اس سینٹر میں این سی اے سے زیادہ سہولتیں ہوں گی۔مشہور کوچ پیڈی آپٹن جلد لاہور آکر کوچز کے ناموں کو حتمی شکل دیں گے کوچز پہلے ہی تربیت حاصل کررہے ہیں اور بہتر کوچز کا تقرر ہائی پر فارمنس سینٹر کے لئے کیا جائے گا۔لاہور قلندرز نے پاکستان سپر لیگ میں ابتدائی چاروں سال آخری پوزیشن حاصل کی لیکن ان کے پلیئرز ڈیولپمنٹ پروگرام نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔

پنجاب،کشمیر اور گلگت میں لاہور قلندرز نے پلیئز ز ڈیولپمنٹ پروگرانم کے ذریعے کئی کھلاڑیوں نے پاکستان کا نام روشن کیا اور نوجوان کرکٹرز پر مشتمل ٹیموں نے آسٹریلیا کے دورے کئے۔اب ہائی پرفارمنس سینٹر کے ذریعے لاہور قلندرز والے ایک اور سنگ میل عبور کرنا چاہتے ہیں۔ہائی پرفارمنس سینٹر میں 14پچیں ہیں جس میں ٹرف پچوں کے علاوہ آسٹرو پچیں بھی ہیں۔فلڈ لائٹس کا گراونڈ بھی بنایا گیا ہے۔

گراونڈ 75میٹرز کا ہے۔جس میں کھلاڑی اسپائیکس پہن کر بھی کھیل سکیں گے۔جدید جمنازیم اور لیکچرز کے لئے آڈیٹوریم ہے۔پیڈی کے علاوہ برینڈن میکالم،اور اے بی ڈی وئیلرز جیسے کرکٹرز اس سینٹر میں آئیں گے۔ہر کھلاڑی کا ریکارڈ موجود ہوگا اور چار مختلف ایج گروپس میں کھلاڑی ٹرینگ کریں گے۔

گیارہ،پندرہ،اٹھارہ اور اٹھارہ سال سےزائد عمر کے کھلاڑیوں کے الگ الگ گروپ ہوں گے۔ہر سال ہائی پر فارمنس سینٹر کے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیمیں چار ملکوں جنوبی افریقا،انگلینڈ،متحدہ عرب امارات، اور آسٹریلیا کا دورہ کریں گی۔

بیس فیصد کھلاڑی معاوضہ ہائی پرفارمنس سینٹر میں کوچنگ حاصل کرسکیں گے۔جن کا معاوضہ لاہور قلندرز ادا کرے گا۔جبکہ دیگر کرکٹرز کو معاوضے کے عوض ایک چھت تلے کوچنگ کی تمام سہولتیں حاصل ہوں گی۔رانا عاطف کا کہنا ہے کہ عاقب جاوید جیسے ذہین کوچ کی موجودگی میں یہ سینٹر پاکستان میں کرکٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

لاہور میں ایچی سن کالج جیسی مثالی درسگاہ میں کھیلوں کی جو سہولتیں موجود ہیں وہ سہولتیں لاہور قلندرز کے ہائی پرفارمنس سینٹر میں حاصل ہوں گی جب باصلاحیت کھلاڑیوں کے ٹیلنٹ کو پالش کرکے اسے مکمل کھلاڑی بنایا جائے گا ۔حال ہی میں عمر اکمل اور احمد شہزاد کو پاکستان ٹیم میں واپس لاکر جو غلطی کی گئی ٹیلنٹ سامنے آنے کے بعد پاکستان میں ان سے بہتر اور ڈسپلن کھلاڑی سامنے آسکیں گے۔


مکمل خبر پڑھیں