Advertisement

جاپان میں خطرناک وائرس کی درآمد

November 04, 2019
 

جاپان نے اگلے سال 2020ءکے ٹوکیو میں عالمی اولمپکس مقابلوں میں لاکھوں بین الاقوامی ناظرین کی آمد کی تیاری میں ناپسند مہمانوں کی آمد کو روکنے کی تیاری بھی شروع کردی ہے۔ چناں چہ اسی سلسلے میں اس نے پچھلے ماہ ایبولا اور چار دوسرے انتہائی ہلاکت خیز وائرسوں کو درآمد کیا ہے، تاکہ ڈاکٹر وں کواس قسم کی کسی ہلاکت خیز بیماری کے پھیلنے کے امکان کا سد باب کرنے کےلئے مستعد کیا جا سکے ۔

جاپان کی وزارت صحت کے اعلامیہ کے مطابق جاپان کے تحقیق کارماربرگ وائرس ،لساوائرس ، جنوبی امریکن جریان خون کا بخار اور کریمین کانگو جریان خون کا بخار پیدا کرنے والے وائرسوں کے نمونوں پرریسرچ کرکے ان بیماریوں کے ٹیسٹ تیار کیے جائیں گے ۔ان وائرسوں کی در آمد سے پہلی مرتبہ جاپان میں بایو سیفٹی لیول 4(BSL-4(Bio Safety Level نافذ کیا گیا ہے جوانتہائی خطرناک ہے،جس سے جاپانی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انفیکشس ڈیسیسز میں ان وائسر وں کو داخلے کی اجازت ملی ہے جو ملک کی واحد تجرباتی لیباریٹری ہے۔جاپان کے میڈیکل سائنس کے شعبہ کے لوگوں نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے ۔

اگرچہ وبائی بیماریوں کے سائنسداں کے مطابق اولمپکس کے موقع پر کسی وبائی بیماری کے پھیلنے کا خطرہ عام حالات سے کچھ زیادہ نہیں ۔ لیکن زندہ وائرسو ں کی موجودگی سے ملک کی وبائی بیماریوں کے مقابلے کی عمومی اہلیت میں اضافہ ہوجائے گا جو کسی حیاتیاتی دہشت گردی کے مقابلہ کی صلاحیت میں بھی کار آمد ہوگا۔

گرچہ ٹوکیو کے موساشیما ریمایہ کے علاقے میںNHD کی لیباریٹری 1981ءمیںBSL-4 کے اسپیسی فکیشن کی مطابقت میں تعمیر کی گئی تھی لیکن وہاں کے رہائشی لوگوں کی مزاحمت کی وجہ سے BSL-3 کے معیار کے مطا بق کام کرتی رہی تھی۔ 2015ءمیں وزارت صحت اور موساشیماریمایہ کے میئر نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ یہ لیباریٹریBSL-4 کے معیار کی لیباریٹری کے طور پر کام کرے گی۔

لیکن پھر بھی ان وائرسوں کی درآمد کا فیصلہ گذشتہ سال جولائی کے مہینہ میں کیا گیا تھا۔جاپان انتہائی خطرناک مرض پیدا کرنے والے پیتھوجن پر تحقیق کرنے میں دوسری ترقی یافتہ قوموں کے مقابلے میں بہت پیچھے ہے ۔جب کہ امریکا اور یورپ میںBSL-4 کی صلاحیت کی متعدد لیباریٹری موجود ہیں اورکئی ابھی زیر تعمیر بھی ہیں ۔ چین میں بھیBSL-4 کی صلاحیت کی پانچ لیباریٹریز زیر ِتعمیر ہیں۔

جب کہ وہاں پرایک ایسی لیباریٹری بھی کام کر رہی ہے۔ NIID کے لیےیہ ایک سنگ میل وقت اور واقعہ ہے۔ یہ باتNIID کے ڈائریکٹرماسایوکی سائجو نے کہی تھی جو جریان خون کے بخار اور اس کے وائرسوں کو روکنے کے ذمہ دار ہیں ۔نیو جرسی کی ر ٹگر یونیو رسٹی کے مالیکیولر بائلو جسٹ اور بایو سیکیورٹی اسپیشلسٹ رچر ڈایبرائٹ کے مطابق BSL-4 کی لیباریٹری کو مہلک بیماری سے مقابلے کے لیے ملک میں وائرس لانے سے پہلے بھی تیار کیا جاسکتا ہے اوراس کے لئے وقت سے پہلے وائرس لانا ضروری نہیں ہے،کیوں کہ خطرناک وائرس کولیب میں رکھنا وہ چاہے کتنا ہی محفوظ ہو کسی حادثہ کی وجہ سے یا جان بوجھ کر فضامیںآسکتا ہے۔

سائجو کا کہنا ہے کہNIID کا ادارہ زند ہ وائرس کے نمونوں کے استعمال سے جو ٹیسٹ تیار کرےگا ان کی کارکردگی کو جانچنے کے لئے یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا مریض اب بھی کسی وائرس سے متاثر ہے۔ یہ ٹیسٹ اس کی پیمائش کرے گا کہ کیا اس کا جسم ابھی ایسی اینٹی باڈیز تیار کر رہا ہے جو وائرس کے اثر ات کو زائل کرنے کے قابل ہے، جس کامطلب یہ ہوگا کہ وہ شخص صحت یاب ہو رہا ہے۔ اب اگر کوئی کھلاڑی ان میں سے کسی وائرس سے متاثر ہے تو ان ٹیسٹوں سے یہ معلوم کیا جاسکے گا کہ یہ کھلاڑی صحت یاب ہوگیا ہے اور اب یہ مکمل طور پر صحت یاب ہے ۔

میساچوسٹس میں بوسٹن یونیورسٹی کی مائیکرو بایولوجسٹ ایلکے ملبرگر کے مطابق اولمپکس کھیلوں کے دوران ایبولا کی وبائی بیماری کے پھیلنے کا امکان تو ممکن نہیں ،کیوں کہ یہ وائرس ہوا کے ذریعہ سے منتقل نہیں ہوتا ہے۔ لیکن جاپان کا NIID کے ٹیسٹ تیار کرنے کے لیے زندہ وائرس کے حصول کی تجویز ایک سمجھداری کا فیصلہ ہے خاص طور پر جب کہ ڈیمو کریٹک ریپبلک آف کانگو میںیہ بیماری پھیلی ہوئی ہے،کیوں کہ ا ولمپکس کھیلوں کے درمیان ا یبولا وائرس سے کسی ایک شخص کے متاثر ہونے کی فوری پیشہ ورانہ اقدامات نہ ہو ئے توبڑی تباہ کن ہوسکتی ہے۔ انھوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا۔

لیکن ایلکے ملبرگر کو اس بات کا شک ہے کہ کوئی ایسا ٹیسٹ کار آمد ہوسکتا ہے جویہ بتائے کہ کسی شخص کے جسم میں وائرس کو زائل کرنے کی اینٹی باڈیز کی افزائش پر کوئی ڈاکٹر کسی مریض کو ہسپتال سے خارج کرسکتا ہے۔ بلکہ یہ معلوم کرنے کے لئے کہ اب مریض ایبولا وائرس سے پاک ہوگیاہے یا نہیں۔اس کا آسان طریقہ یہ ہوگا کہ اس کی جسمانی رطوبت میں وائرل آر این اے((viral RNA کی مقدار کا پتہ لگاکر فیصلہ کیا جائے۔علاوہ ازیں یہ خدشہ بھی ہے کہ کوئی معالج کسی مریض کو صرف اس بات پر ہسپتال سے خارج نہ کردیں کہ اس کے جسم میں وائرس کو زائل کرنے والی اینٹی باڈیز کی افزائش ہونے لگی ہے۔

اب جب کہ NIIDکو اس بات کی اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ ۔ BSL-4 جیسے خطرناک پیتھوجن کو رکھ سکے تووہ ایسے دوسرے اتنے خطرناک وائرس پر بھی تحقیق کرسکے گا جو اس خطے میں آئندہ دریافت ہوسکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق حالیہ جینوم کی ترتیب کی ٹیکنک سے معلوم ہوا ہے کہ ایبولا جیسے خطرناک وائرس پہلے خیال کے برعکس بہت عام ہیں۔ مثلا پچھلے سال اسی خاندان کے3 وائرس توجانوروں میں دریافت ہوئے ہیں۔ چینی چمگادڑوں میں مینگلا وائرس اور جنوبی مشرقی چینی سمندر کی مچھلیوں میں 2ایبولا جیسے وائرس دریافت ہوئے ہیں۔ ماہرین حیران ہیں کہ اور کتنے جانور انتہائی ایسے خطرناک وائرسوں سے متاثر ہو سکتے ہیں جو ایبولا سے مشابہت رکھتے ہیں۔

ملبرگر کاکہنا ہے کہ ابھی تو یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ یہ انسانوں کے لیے کتنے خطرناک ہوسکتے ہیں لیکن ان کا تنوع کافی خوفناک اور حیران کن ہے ۔ کیونکہ یہ ہر جگہ پر موجود ہیں۔جاپان کے سپورو کے علاقے میں قائم ہوکائیڈو یونیورسٹی کے وائرولوجسٹ ایاتوتکادا یہ بات معلوم کرکے بہت پر جوش ہیں کہ وہ اب جاپان کے جانوروں میں موجود BSL-4 کے معیار کے وائرس اور پیتھوجن پر تحقیقات کرنے کے قابل ہوجائیں گے، کیوں کہ ابھی تک جاپان کے ریسرچ کرنے والوں کو دوسرے ملکوں میں قائمBSL-4کے معیار کی لیباریٹریز میں درخواست دینی ہوتی تھی۔ اورایسے ریسرچ کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔تکادا کو اُمید ہے کہ وہ جنوبی جاپان کی ناگاساکی یونیورسٹی میں زیر تعمیرBSL-4 کی لیباریٹری کو استعمال کرسکےگا جو2022ءمیں تکمیل ہوجائےگی۔

لیکن ایبرائیٹ کے مطابق د نیابھرمیںBSL-4 لیباریٹریز کی تعداد میں اضافے سے اس کے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مہلک وائرس کسی دہشت گردی کے حملے میں جان بوجھ کر چھوڑدیا جائے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان اور کچھ ملکوں کی حکومتیں اپنی BSL-4 لیباریٹریز میں مہلکات جمع کر رہے ہیں ،تاکہ ایسی لیباریٹریز رکھنے والے دوسرے مخالف ملکوں کے حیاتیاتی دہشت گردی کے حملوں کا دفاع کیا جاسکے۔


مکمل خبر پڑھیں