فارن فنڈنگ کیس: تحریک انصاف نے جارحانہ بیانئے سے دباؤ کم لرلیا

November 28, 2019
 

مسلم لیگ ن کمال ہوشیاری سے اپنے سزایافتہ قائد میاں نواز شریف کو جیل سے لندن کے پرفضاء مقام پر لیجانے میں کامیاب ہوگئی۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے کہ کرپشن کے جرم میں قیدی جیل سے رہا ہوکر برطانیہ جا پہنچا۔ مسلم لیگ ن نے ایسی سیاست کی کہ خود وزیراعظم، وفاقی وزراء، وزیراعلیٰ، گورنر پنجاب، صوبائی وزراء بالخصوص پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد بیماری کے حوالے سے مسلم لیگ ن والوں کی ہم زبان و ہم خیال ہوگئیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے تو یہاں تک اعلان کر دیا کہ میاں نواز شریف کو سات مرتبہ ہارٹ اٹیک ہوا ہے پلیٹ لیٹس میں شدید کمی کے علاوہ انہیں گردوں کا عارضہ لاحق ہے شوگر بھی ہے ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور خدانخواستہ ان کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹروں کی ٹیم نے بھی وزیراعظم عمران خان کو یہی رپورٹس دیں جس کی بنیاد پر وزیراعظم کو بھی نواز شریف کو باہر بھیجنے کا فیصلہ کرنا اور عدالت نے بھی انہیں اطلاعات کی روشنی میں انہیں چار ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی۔ وفاقی وزراء ایک سے ایک بڑھ کر میاں صاحب کی بیماری اور تشویشناک حالت کے بارے میں بیانات دے رہے تھے۔ مگر جب وزیراعظم عمران خان نے دیکھا کہ کوئی ایئر ایمبولینس نہیں آئی قطر کا ایک جدید طیارہ انہیں لینے آیا اور وہ طیارے میں انگلینڈ جارہے ہیں اور لندن میں ہسپتال جانے کی بجائے سیدھے اپنے گھر گئے ایک دو دن کے وقفے کے بعد وہ چیک اپ کیلئے ہسپتال گئے۔

لندن میں ان کیلئے کسی ویل چیئر یا ایمبولینس کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ اب وزیراعظم صاحب کو اصل صورتحال کا علم ہوا اور وہ اپنے معاونین ڈاکٹروں اور مسلم لیگ ن کے لیڈروں پر برس پڑے۔ وزیراعظم صاحب کو ان کے وزیروں بالخصوص ڈاکٹر یاسمین راشد اور ڈاکٹروں کی ٹیم جس میں شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹر بھی شامل تھے اگر اندھیرے میں رکھا ہے اور نواز شریف کو باہر بھیجنے کا غلط فیصلہ کر دیا ہے تو کم ازکم ان ڈاکٹروں اور وزراء کے خلاف سخت ایکشن لینا چاہئے۔

اب مریم نواز صاحبہ بھی لندن جانے کی تیاریوں میں ہیں وہ بھی یقیناً اپنے والد کی تیمارداری کا جواز بنا کر باہر چلی جائیں گی۔ اس طرح میں نواز شریف فیملی ایک پائی واپس کئے بغیر بیرون ملک مزے اڑائے گی۔ وزیراعظم بے شک یہ کہتے رہیں میں لٹیروں کو این آر او نہیں دونگا۔ یہ لوگ این آر او لئے بغیر ہی آرام سے باہر چلے گئے۔ میاں نواز شریف کا چار ہفتے بعد واپس آنا ممکن نظر نہیں آتا۔ وہ عمران حکومت کے خاتمے کا انتظار کرسکتے ہیں۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ شریف فیملی کے بغیر مسلم لیگ ن کا اوپر آنا ممکن نہیں لگتا چند دن بعد سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی باہر آجائیں گے کیونکہ ان کے خلاف بھی کیس بہت مضبوط دکھائی نہیں دیتا۔

اگر میاں نواز شریف کو دیئے گئے ریلیف کو دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری کا حق بنتا ہے کہ ان کو بھی مرضی کے ڈاکٹروں سے علاج کی سہولت دی جانا چاہئے۔ بتایا جاتا ہے کہ آصف علی زرداری بھی کافی علیل ہیں مگر میاں نواز شریف میں ایک فرق ہے کہ آصف علی زرداری نے بیرون ملک جانے کی استدعا نہیں کی بلکہ وہ پاکستان میں اپنے معالجین سے علاج کی سہولت مانگ رہے ہیں اب یہ پروپیگنڈہ ہو رہا ہے پنجاب کے سابق وزیراعظم کو ہر قسم کی سہولت دیدی گئی ہے مگر سندھ سے تعلق رکھنے والے لیڈر اور سابق صدر سے ناروا سلوک کیا جارہا ہے سندھ میں یہ احساس شدت سے بڑھ رہا ہے کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے دو وزرائے اعظم کی لاشیں سندھ بھجوائی جاچکی ہیں کیا اب خدانخواستہ تیسرے کی بھی ڈیڈ باڈی جائے گی۔حکومت کو اس حوالے سے بھی سوچنا ہوگا۔

ان دنوں الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کی فارن فنڈنگ کے حوالے سے کیس کا بڑا چرچہ ہے۔ پی ٹی آئی کے سابق رہنما اکر ایس احمد کا دعویٰ ہے کہ میں نے فارن ممنوعہ فنڈنگ کیس کے حوالے سے تمام ثبوت فراہم کر دیئے ہیں۔ اکبر ایس احمد کا کہنا ہے فارن فنڈنگ پاکستان کی تاریخ کا میگا کرپشن کیس ہے سپریم کورٹ کے وکیل فیصل چوہدری کے مطابق فارن فنڈنگ کی اصطلاح کی کوئی گنجائش نہیں نہ یہ ٹرم کبھی استعمال ہوئی ہے اگر ایک پارٹی ایسا فنڈ لے لیتی ہے جو قانونی طور پر جائز نہیں ہے تو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق وہ بحق سرکار ضبط ہو جاتی ہے لہذا فارن فنڈنگ کیس کا وزیراعظم عمران خان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

بہرحال آئینی ماہرین کی اس حوالے سے مختلف آراء ہیں کچھ کا خیال ہے جو بھی اس کیس میں ذمہ دار ٹھہرایا گیا وہ نااہل ہوجائے گا۔ چیف الیکشن کمشنر نے روزانہ کی بنیاد پر کیس سننا شروع کر دیا ہے وہ چھ دسمبر کو ریٹائر ہو رہے خیال ہے وہ اپنی مدت میں اس کا فیصلہ کرکے جائیں گے۔ دیکھیں الیکشن کمیشن اس کیس کا کیا فیصلہ کرتا ہے توقع ہے کہ وزیراعظم یا تحریک انصاف کی طرف سے ممتاز قانون دان ڈاکٹر بابر اعوان اس کیس کی پیروی کریں گے۔

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو اس کیس کے حوالے سے بریفنگ بھی دیدی ہے۔ پاک فوج میں اعلیٰ سطح پر تقرریاں و تبادلے عمل میں لائے گیے ہیں۔ وزیراعظم کو پاک فوج کے انتہائی اعلیٰ عہدے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے کیلئے وزارت دفاع نے تین سینئر جرنیلوں لیفٹیننٹ جنرل سرفراز نثار، لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا اور لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز پر مشتمل سمری ارسال کی جن میں سے ایک لیفٹیننٹ جنرل کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنانا تھا چنانچہ وزیراعظم عمران خان اپنے صوابدیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنا دیا گیا۔

جنرل ندیم رضا 27 نومبر کو جنرل زبیر کی جگہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے جو اپنی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد فوج سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ یقیناً جنرل ندیم کی ترقی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مرضی بھی شامل ہوگی۔ جنرل ندیم رضا نہایت پروفیشنل سولجر ہیں پاک فوج کے نہایت اہم اور ذمہ دار عہدوں پر فائز رہے ہیں کینٹ جی ایچ کیو میں چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر ذمہ داریاں انجام دی ہیں۔ فوج میں یہ عہدہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کمانڈر اولپنڈی بھی رہے چکے ہیں۔ ادھر سابق کور کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل ریٹائر عاصم سلیم باجوہ کو چیئرمین سی پیک اتھارٹی کر دیا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کور کمانڈر کوئٹہ بننے سے پہلے آئی ایس پی آر بھی رہے چکے ہیں وہ نہایت قابل اور ایماندار افسر ہیں انہوں نے بلوچستان میں قیام کے دوران دہشت گردوں کی کمر توڑ دی بلوچستان کے امن کیلئے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم کا کردار نہایت رہا۔ توقع ہے کہ وہ بطور چیئرمین سی پیک اتھارٹی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریںاور اس اہم منصوبے کو تکمیل تک پہنچانے کیلئے انتھک کوششیں کریں گے۔

قرآن پاک شہید کرنے کا افسوسناک واقعہ ہوا ہے جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا گیا ہے یقیناً دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے وزارت خارجہ نے ایسے واقعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔