انسان کو ڈر تب لگتا ہے جب اس کے پاس اثاثے ہوں ،امر جلیل

December 08, 2019
 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) نامور مصنف و محقق امر جلیل نے کہا ہے کہ صوفی بنتا نہیں ہے صوفی ہوتا ہے بس ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی کا دل نہ دکھائیں اور کسی کے عقیدے کو برا نہ کہیں، انسان کو ڈر جب لگتا ہے جب اس کے پاس اثاثے ہوں میرے پاس کچھ بھی نہیں میں اکیلا ہوں اور زندگی کی 85بہاریں دیکھ چکا ہوں،ہمارے شہر میں اب پھولوں نے کھلنا چھوڑ دیا ہے اب یہاں کانٹے اُگتے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے بارہویں عالمی کانفرنس کے تیسرے روز امر جلیل کے ساتھ ایک نشست کے موقع پر میزبان نور الہدیٰ شاہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ 1960ءکی دہائی میں کراچی آرٹس کونسل میں بھی وقت گزرا ، کرکٹ خوب کھیلتا تھا، پاکستان میں دل کی بات کھل کر کہنا بہت مشکل کام ہے، یہاں آزادی اظہار نہیں ہے، ہم نے اپنے آپ پر زنجیریں چڑھالیں ہیں، ان زنجیروں سے آزاد ہو کر ہمیں سوچنا ہوگا تب ہی عمدہ تحریر لکھی جا سکتی ہے جو سب کے لیےہو کسی مخصوص کے لیے نہیں، ہمیں اپنے درمیان محبتوں کو زندہ رکھنا چاہیے، میں تنہائی پسند ہوں میرے پاس ملنے ملانے کے لیے وقت نہیں ہوتا میں یا تو لکھتا ہوں، یا کھانا پکاتا ہوں اور اگر کھانا موجود ہو تو برتن دھوتا ہوں مگر خالی نہیں بیٹھتا، ہر وقت کام کرتا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں لکھنا چھوڑ دوں تو میں مر جائوں گا اس لیے زندہ رہنے کے لیے مجھے لکھنا ہے اور وہ لکھنا ہے جو سچ ہو اور سب کے لیے ہو۔