معاشی اشاریے میں بہتری مگر اشیائے ضرورت اب بھی عوام کی پہنچ سے دور ہیں

تجزیے اور تبصرے
December 12, 2019

قومی اسمبلی کا سیشن جاری ہے۔حکومت اور اپوزیشن کے در میان آنکھ مچولی کا کھیل بھی جاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے رانا تنویر حسین حکومتی تعاون سے شہباز شریف کی جگہ چیئر مین پبلک اکا ئو نٹس کمیٹی کے چیئر مین منتخب ہوگئے ہیں۔چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دو ممبران کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن میں رابطے جاری ہیں۔ ساتھ ہی مسلم لیگ ن کے ایم این اے رانا ثنا ء اللہ کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کئے جانے پر اپوزیشن نے ایوان میں احتجاج کیا اور واک آؤٹ کیا۔ نیب کی جانب سے شہباز شریف کی جا ئیدادیں منجمد کرنے پر مسلم لیگ ن مشتعل نظر آتی ہے۔

اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے مسلم لیگ ن کے صف اول کے راہنمائوں سر دار ایاز صادق، خواجہ آصف، احسن اقبال، خرم دستگیر، پرویز رشید، امیر مقام اور مریم اورنگزیب کو ایمر جنسی میں لندن بلایا۔ سابق وزیر خزانہ اسحق ٰ ڈار پہلے ہی لندن میںمقیم ہیں۔ ان راہنماؤں نےنواز شریف سے بھی ملاقات کی۔

شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس مسلم لیگ ن کی احتجاجی حکمت عملی طے کی گئی۔مسلم لیگ ن پہلے مو لانا فضل الر حمٰن کےا س مطالبے کی تائید کر رہی تھی کہ ملک میں نئے عام انتخابات کر ائے جائیں لیکن اب لندن پلان کے تحت شہباز شریف نے ان ہاؤس تبدیلی کے آپشن کا اشارہ دیدیا ہے۔

اب یوں لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن اپنی تمام تر توجہ اور تو ا نائیاں دیگر اپوزیشن جما عتوں کے ساتھ مل کر ان ہاؤس تبدیلی پر مرکوز رکھے گی۔ لندن اجلاس کے بعد دارالحکومت کے سیا سی حلقوں میں ان ہاؤس تبدیلی اور مائنس ون کی بحث شروع ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی بر ائے اطلاعات و نشریات ڈاکتر فردوس عاشق اعوان نے بر ملا کہہ دیا ہے کہ اپوزیشن کا مائنس ون کا ارمان پورا نہیں ہو گا لیکن اس دعوے میں یہ اعتراف تو بہرحال موجود ہے کہ اپوزیشن مائنس عمران خان فارمولا پر کام کر رہی ہے۔ اور ان میں چار بلوچ خواتین کی گرفتاری پر قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا۔

انہوں نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے حکومت کو دھمکی دی کہ ہم عزت و وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے اور حکومت کی اتحادی کی حیثیت سے کسی بھی وقت دستبردار ہوسکتے ہیں بلکہ اسمبلی کی رکنیت سے بھی دستبراد ہونے سے گریز نہیں کریں گے۔ مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو 176ووٹ ملے تھے اوروہ صرف چار ووٹوں کی اکثریت سے قائد ایوان منتخب ہوئے تھے۔

سردار اختر مینگل کو حکومت سے یہ شکوہ ہے کہ حکومت نے ان کے ساتھ جو چھ نکاتی معاہدہ کیا تھا اس پر مقررہ وقت یعنی ایک سال کے اندر عمل نہیں کیا گیا۔ اختر مینگل جون میں بجٹ کی منطوری کے موقع پر ناراض ہوگئے تھے لیکن حکومت نے انہیں اس بنیاد پر منا لیا تھا کہ ابھی ایک سال مکمل نہیںہوا۔ اختر مینگل نے اب شکوہ کیا ہے کہ جون میں دو طرفہ معاہدے پر عمل درآ مد کیلئے جس کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا س کے ممبران ہی نامزد نہیں کئے گئے اور نہ ہی کوئی اجلاس ہوا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مجھے اب حکومت کی کمیٹیوں پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی پہلے ہی حکومت کے خلاف ہیں۔ مسلم لیگ ن نے اختر مینگل کے حکومت سے اختلا فات سے فائدہ اٹھانے کیلئے ان سے رابطے استوار کر لئے ہیں۔قومی اسمبلی میں بھی دو نوں نے ایک دوسرے کو سپورٹ کیا اور مشترکہ واک آؤٹ کیا۔ وزیر اعظم نے بھی صورتحال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے سندھ میںحکومت کی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کے ممبران قومی اسمبلی سے ملاقات کی تاکہ ان کے گلے شکوے دور کئے جاسکیں۔

وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی تو حکومت کی اتحادی جما عتوں کی اہمیت بڑھ جا ئے گی کیونکہ پی ٹی آئی کو ایوان میں سادہ اکثریت حاصل نہیں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت ایم کیو ایم، جی ڈی اے، مسلم لیگ ق اور اختر مینگل جیسے اتحادیوں کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے۔عدم اعتماد کی تحریک آئی تو یہ اتحادی جماعتیں بہتر بار گینگ پو زیشن میں آ جائیں گی کیونکہ حکومت اور اپوزیشن دو نوں ان سے رجوع کریں گے۔ تحریک کی کا میابی اور ناکامی کا انحصار انہی اتحادی جماعتوں پر ہو گاجن کے ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔

سپریم کورٹ میں چیف آف آ رمی سٹاف جنرل قمر جا وید با جوہ کی مدت ملازمت میں توسیع یا ایک اور ٹرم کیلئے تقرری کا معاملہ زیر بحث آنے کے بعد حکومت کی ساکھ کو بہر حال شدید دھچکا لگا ہے۔ سپریم کورٹ نے جس طرح نو ٹیفیکیشن کے بار بار اجراء کے با وجود غلطیوں کی نشاندہی کی اور سمری کی تیاری کے نقائص بتائے اس نے حکو متی لیگل ٹیم کی اہلیت پر سولات اٹھائے۔ نہ صرف اپوزیشن کو تنقید کا موقع ملا بلکہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں خود حکومتی ارکان بالخصوص نور عالم خان اور میجر (ر) طاہر صا دق نے سخت تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ غلطیوں کے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیا جا ئے جنہوں نے حکومت کی جگ ہنسائی کرائی۔

اس حکومتی کار کردگی کے بعد حکومت کے حامی مقتدر حلقے یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ جو حکومت چار سطروں کا نو ٹیفیکیشن ڈھنگ سے جاری نہیں کرسکتی اور انتہائی حساس معاملے کو جس انداز سے ڈیل کیا گیا ان سے گڈ گورنینس اور ڈیلیوری کی توقع لگانا کیا دانشمندی ہو گی ؟؟ اس میںکوئی شک نہیں ہے کہ ریاستی اداروں نے جتنا وزیر اعظم عمرانخان سے تعاون کیا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی مگر 16ماہ کی حکومتی کار کردگی کو قابل رشک ہر گز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پنجاب سب سے بڑ اصوبہ ہے جہاں اب پانچواں آئی جی پولیس تعینات کیا گیا ہے۔

صوبے کی پوری بیو رو کریسی تبدیل کردی گئی ہے لیکن وزیر اعظم عمرانخان یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ خرابی کی جڑ بیو رو کریسی میں نہیں کپتان میں ہے یعنی وزیر اعلیٰپنجاب عثمان بزدار ڈیلیور نہیں کر پا ر ہے۔ وزیر اعظم یا تو کسی روحانی مجبوری کی وجہ سے انہیں نہیں ہٹا رہے یا پھر اسے انہوں نے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے ورنہ تمام تجزیہ نگار اور سیا سی مبصرین اس پر متفق ہیں کہ وزیر اعلیٰ کو جو ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ وزیر اعظم خان بہر حال ڈٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے عجیب منطق اپنائی ہے کہ عثمان بزدار کام تو کر رہے ہیں لیکن ان کاموں کی تشہیر نہیںہورہی لہٰذا اس مسئلے کے حل کیلئے فیاض الحسن چوہان کو دو بارہ وزیر اطلا ت بنا دیا گیا ہے۔

انہوں نے آتے ہی عثمان بزدار کی امیج بلڈنگ شروع کرتے ہوئے انہیں شیر شاہ سوری کا خطاب دیدیا۔ عمرانخان انہیں وسیم اکرم کا خطاب دے چکے ہیں۔ دوسرا اہم ایشو ملکی معیشت کا ہے جس کے بارے میں وزیر اعظم کا دعویٰ ہے کہ معیشت مستحکم ہوگئی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ملک میں مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ بجلی، گیس، پیٹرول اور اشیائے خورد نوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے عوام کی قوت خرید کو ختم کر د یا ہے۔ کھاد کی قیمتوں میں اضافے نے کاشتکاروں کے مسائل میں ا ضافہ کر دیا ہے۔

ٹیکسوں کی بھر مار کی وجہ سے بزنس سر گرمیاں جمود کا شکار ہوگئی ہیں۔ نیب کے خوف سے بیو رو کریسی نے کام چھوڑ دیا ہے اور وہ فائلوں پر دستخط کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ بیو ر وکریسی کے سب سے بڑے فورم سیکر ٹریز کمیٹی نے بیو رو کریسی کے تحفظات دور کرنے کیلئے نیب کے قانون میں ترامیم تجویز کر دی ہیں۔

بیوروکریسی کا مطالبہ ہے کہ انہیں قانونی تحفظ دیا جا ئے۔وزیر اعظم عمران خان نے عوام سے ایک کروڑ ملازمتوں اور پچاس لاکھ مکانوں کا وعدہ کیا تھا مگر سولہ ماہ گزرنے کے با جود ابھی تک اس وعدے پر عمل کی نوبت نہیں آئی۔ ابھی تک نیا پاکستان ہا ئوسنگ اتھارٹی رجسٹریشن کر رہی ہے۔

وزیر اعظم نے صورتحال کا ادراک نہ کیا تو پھر یاد رکھیں کہ حالات بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ضد،انا اور خود پرستی کا خول بیرونی حقائق کو دیکھنے کی صلاحیت سے محروم کر دیتا ہے اسے توڑ دیں۔ اب بھی وقت ہے کہ سنبھل جائیں اپنی ٹیم کو بہتر بنائیں۔ باصلاحیت لو گوں کو آگے لائیں اور غیر منتخب لوگوں کو ہٹائیں۔