پاک بنگلہ دیش T20 مقابلوں کا ایک جائزہ

اسپورٹس
January 21, 2020

پاکستان کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کی بھر پور کوششوں کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے دورہ پاکستان کو 3 حصوں میں تقسیم کرکے کچھ اپنی منوالی اور کچھ پاکستان کی مان لی،مہمان ٹیم جس نے 2 ٹیسٹ اور 3 ٹی 20 میچزکھیلنے تھے اب،3 ٹی 20 میچزکیلئے ایک دورہ ہوگا جو اس ماہ کے آخر میں لاہور میں سجے گا،اگلا دورہ فروری میں پہلے ٹیسٹ کیلئے ہوگا،پھر تیسرا دورہ پی ایس ایل کے بعد اپریل میں ہوگا ،ٹیسٹ کے ساتھ ایک اضافی ون ڈے میچ شاید پاکستان کیلئے جوابی تحفہ ہے جو بنگلہ دیش نے دیا ہے،پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 3ٹی 20میچز 24 جنوری،25 اور 27جنوری کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے جسکے لئے مصباح اینڈ کمپنی نے ٹیم کا اعلان کردیا ہے،محمد حفیظ اور شعیب ملک کی واپسی دراصل اس سال ٹی20 ورلڈ کپ کے پیش نظر کی گئی ہے،یہ سینئر کھلاڑی گزشتہ سال 50 اوورز کے ورلڈ کپ میں مکمل ناکام رہے تھے، حالیہ ناکامیوں سے مصباح اور کپتان بابر اعظم دبائو میں آگئے۔

پاکستان کو دنیائے کرکٹ میں سب سے زیادہ ٹی 20 انٹر نیشنل میچز کھیلنے اور جیتنے کا اعزاز حاصل ہے اور ٹیم طویل عرصے سے رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر ہے ، 12 ماہ میں مسلسل ناکامیوں سے دوچار ٹیم کو کم سے کم اس سیریز کو جیتنا ہوگا تب ہی پوزیشن برقرار رہ پائے گی،اس وقت پاکستان 270 ریٹنگ کے ساتھ پہلے،آسٹریلیا 269کے ساتھ دوسرے،انگلینڈ 265کے ساتھ تیسرے ،جنوبی افریقا 262کے ساتھ چوتھے،بھارت 260کے ساتھ پانچویں اور نیوزی لینڈ 252کے ساتھ چھٹے نمبر پر موجود ہے۔آنے والے 60 دنوں میں ان ممالک نے متعدد میچزکھیلنے ہیں،ایسے میں پاکستان تینوں میچزجیت بھی لے تو اسکی ریٹنگ ایک نمبر کے ساتھ بہتر یعنی 271ہوجائے گی کیونکہ حریف ٹیم کمزور رینک کی ہے لیکن ایک بھی شکست پاکستان کو پہلی پوزیشن سے محروم کردے گی،چنانچہ اس سیریز میں درست معنوں میں پہلی پوزیشن بھی دائو پر لگی ہوگی۔

پاکستان اور بنگلہ دیش میں اب تک کھیلے گئے 10 میچزمیں گرین شرٹس کو 2 کے مقابلے میں 8 کے ساتھ واضح برتری حاصل ہے لیکن گزشتہ 6 سال میں کھیلے گئے 4میچز میں ٹائیگرز نے سخت ٹف ٹائم دیا اور مقابلہ 2-2 سے برابر رکھا ہے ۔دونوں ممالک کے درمیان یہ چوتھی باہمی ٹی20 سیریز ہے اس سے قبل تمام 3 سیریز ایک ایک میچ کی رہیں،اپریل 2008میں بنگلہ دیش نے پاکستان میں باہمی سیریز کا واحد ٹی 20 میچ کھیلا اور ہارگئے،نومبر 2011میں پاکستان نے بنگلہ دیش میں واحد میچ کی سیریز کھیلی اور جیتی،اپری 2015میں بنگلہ دیش نے اپنے ملک میں پاکستان کیخلاف واحد ٹی 20 میچ کی سیریز رکھی جو اس نے جیتی،چنانچہ 3میں سے 2 سیریز پاکستان اور ایک بنگلہ دیش کے نام رہیں،لیکن پہلی مرتبہ دونوں ممالک 3میچزکی ٹی 20 سیریز کھیل رہے ہیں،بنگلہ دیش نے پاکستان کا آخری دورہ 2008میں ہی کیا تھا ،یہ ٹیم قریب12 سال بعد پاکستانی میدانوں میں ایکشن میں ہوگی،اتفاق سے دونوں ممالک میں یہ لاہور میں ڈیبیو ٹی20 میچ بھی ہوگا،باہمی مقابلوں میں پاکستان کا ہائی اسکور 203کراچی اور بنگلہ دیش کا175پالی کیلے میں ہے۔

ڈھاکا میں بنگلہ دیش پاکستان کیخلاف 85 پر آئوٹ ہوچکا،پاکستان کی کم سے کم اننگ اسی مقام پر 7وکٹ پر 129رنزکی ہے۔باہمی مقابلوں کے مجموعی اسکور میں شکیب الحسن9میچزمیں 292اورمحمد حفیظ 8میچزمیں 193کے ساتھ ٹاپ پر ہیں ،دونوں ممالک کی جانب سے واحد سنچری احمد شہزاد کی ہے ڈھاکاکے 2014میچ میں انہوں نے 111کی ناقابل شکست اننگ کھیلی یہ انفرادی ہائی اسکور بھی ہے شکیب الحسن کبھی 84 اور محمد حفیظ 64سے آگے نہ بڑھ سکے،بولنگ میں شاہد آفریدی کی 10 میچزمیں 10 وکٹیں اور بنگلہ دیش کےعبد الرزاق کی7میچزمیں 7وکٹیں کامیاب ترین بولر کی تاریخ بتاتی ہیں جو کمزور پرفارمنس ہے،انفردای بولنگ میں 2008کے میچ میں پاکستان کے منصور امجد نے ایک اوور میں 3رنزدیکر 3وکٹیں لیکر حیران کن طور پر اپنے نام کر رکھی ہے،کامران اکمل اور سلمان بٹ 142 اورشکیب و صابر105کی شراکت قائم کرکے اس باب میں نمایاں ہیں۔