• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 کراچی میں ڈینگی وائرس کےکیسز میں تیزی سے اضافہ

کراچی (بابر علی اعوان / اسٹاف رپورٹر) کراچی میں ڈینگی وائرس کےکیسز میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران شہر قائد میں 33 افراد ڈینگی وائرس سے متاثر ہوئے تاہم غیرسرکاری اعداد وشمار کے مطابق کراچی میں ڈینگی وائرس کے روزانہ سیکڑوں کیسز سامنے آرہے ہیں لیکن حکومت مچھروں کے خاتمے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہی ۔ جناح اسپتال کے میڈیکل وارڈ کے ایک پروفیسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر جنگ کوبتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ڈینگی وائرس کے کیسز میں ایک دم اضافہ ہوا ہے اورصرف جناح اسپتال کی ایمرجنسی میں روزانہ 100سےزائد مریض ڈینگی وائرس کے آرہے ہیں جس میں سے بیشتر کو داخل کرنا پڑرہا ہے جس سے اسپتال کے میڈیکل وارڈز پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور انتظامیہ نے گزشتہ سال کی طرح ڈینگی وائرس کا الگ وارڈ قائم کرنے پر غورشروع کر دیا ہے ۔ ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال کراچی کے شعبہ حادثات کے سینئر ڈاکٹر کے مطابق صرف شعبہ حادثات میں روزانہ تقریباً 60 سے زائد مریض ڈینگی وائرس کے ساتھ آرہے ہیں جبکہ او پی ڈی میں آنے والے ڈینگی کے مریضوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے ۔انڈس اسپتال کے شعبہ متعدی امراض کے ایک سینئر ڈاکٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ شہر میں ڈینگی وائرس کی کافی بری صورتحال ہے اور انڈس اسپتال میں بہت سیرئیس کیسز آرہے ہیں ۔ڈینگی وائرس سے متاثرہ دس سے پندرہ مریضوں کو روزانہ داخل کرنا پڑرہا ہے جبکہ تقریباً تیس سے چالیس مریضوں کو ایمرجنسی میں طبی امداد دے کر گھر بھیجا جارہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اسپتال کے جنرل وارڈ میں 80 فیصد مریض ڈینگی وائرس کے داخل ہیں ۔ انہوں نے مذید کہا کہ شہر میں کوڑا کرکٹ کے پہاڑ لگے ہیں جنہیں ختم نہیں کیا جارہا اور نمائشی اسپرے مہم کی جارہی ہے حالانکہ جب تک اس کچرے کو ختم نہیں کیا جائے گا مچھر ختم نہیں ہوں گے ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت کی جانب سے درست اعدادوشمار سامنے نہیں لائے جاتے اسی بنیاد پر تینوں اسپتالوں کے ڈاکٹرز نےحکومتی عتاب سے بچنے کے لئے نام خفیہ رکھنے کی درخواست کی ۔ شہر کے تین اسپتالوں سے لیے گئے اعداد و شمار کی روشنی میں ڈینگی کے کیسز کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔

اہم خبریں سے مزید